Khalid mehmood faisal columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
19 جنوری 2021 (11:15) 2021-01-19

سماج کے معذور افراد اور انکے اہل خانہ کس کرب سے گزرتے ہیں ،کون کون سی مشکلات انکو در پیش ہوتی ہیں،اس نوع کے افراد اور بچوں کی پرورش میں کون کون سے صبر آزما مراحل آتے ہیں،اس کا ادراک وہی فرد یا گھرانہ کر سکتا ہے جو اس مرحلہ سے گزر رہا ہوتا ہے، قرآن کریم کی سورہ  الحج کی آیت پانچ کا ترجمہ ہے’’پھر ایک جنیین سے،پھر ایک لوتھڑے سے کوئی کامل پیدا ہوتا ہے کوئی ناقص، ایسا ہم نے اس لئے کیاتاکہ تم پر ( اپنی قدرت، حکمت) اچھی طرح واضح کر دیں،  اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو کسی بھی نفس کی ناقص پیدائش کسی  خاندان کے لئے آزمائش ثا بت نہ ہوتی، اس میں کیا حکمت ہوتی ہے اِنسانی عقل اِسکو سمجھنے سے قاصر ہے۔

 تندرست اور توانا بچوں کی دیکھ بھال میں والدین کی غفلت بعض کو معذور بنا دیتی ہے، جن خاندانوں کو ایسی صورت حال سے سابقہ پیش آتا ہے وہ بھی اِسکو اللہ تعالیٰ کی رضا اور حکمت سمجھ کر قبول اور صبر کرتے ہیں اور اس ِاَمید پر جیتے ہیں کہ انکا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے،تاہم انسانی فطرت ہے کہ اللہ کا یہ کمزور بندہ کبھی کبھار اس سے گھبرا بھی جاتا ہے اس وقت اِسکے اور متاثرہ فرد کے احساسات کیا ہوتے ہیںمقتدر حلقے اس کو سمجھنے سے قطعی نابلد ہوتے ہیں،البتہ چند معدودے مگر متاثرہ افراد بھی اپنی معذوری سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں، بڑی پامردی اور بہادری سے اِسکا مقابلہ کرتے ہیں،ان میں سے بعض تو زندگی کی اس محرومی کے باوجود’’ انجوائے‘‘ کرتے ہیں ،حقیقت میں یہی افراد زندہ دل ہوتے ہیں اور ان افراد کے لئے پیغام زندگی ہوتے ہیں جو بہترین صحت کی نعمت کے باوجود بھکاری بن کر کفران نعمت کرتے ہیں۔

مغربی اصطلاح میں ایسے افراد کو ’’ سپیشل پرسن‘‘ کہا جاتا ہے،دنیا میں انکی تعداد کرڑوں میں ہے،ترقی یافتہ ممالک میں انکی اس مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے بجائے انہیں بہت سی مراعات فراہم کی جاتی ہیں، وظیفہ کی شکل میں ایسے بچوں کے والدین کی مالی امداد کی جاتی ہے، الگ سے تعلیمی اداروں کا قیام ان کے حصول علم میں رکاوٹ نہیں بنتا،سماجی سطح پر متحرک این جی اوزانکو ہمہ قسم کی سہولت فراہم کرنے کے لئے سرگرم رہتی ہیں،ایسا معاشرہ جہاں خاندانی نظام اپنی آخری سانس لے رہا ہو،اس میں بھی یہ مخصوص افراد تنہائی کا شکار نہیں ہوتے ۔

ہمارے ہاں سپیشل پرسن کی تعداد اگرچہ قلیل ہے پھر بھی لاکھوں میں ہے،ان میں وہ بھی شامل ہیں جو حادثاتی طور پر یا کسی جنگ کے نتیجہ میں معذور ہوئے ، اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود ان کے لئے کوئی جامع قانون موجود نہیں ہے،تاحال ایک آرڈیننس مجریہ1981 ہی نافذالعمل ہے جو سرکاری ملازمتوں سے متعلق ہے،ایسا کوئی بھی 

قانون موجود نہیں جو انکے تمام مسائل کا احاطہ کرتا ہو،ملازمتوں کی فراہمی کی بابت بھی معذور افرادتحفظات رکھتے ہیں،سماجی طور پر انکی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے ،اس نقار خانے میں طوطی آواز سننے کے مترادف ہے۔

بحیثیت انسان انکی وہی ضرویات ہیں جو عام فرد کی ہوتی ہیں، معذوری  کی صورت میں تو یہ دیگر افراد سے زیادہ توجہ کے مستحق ہیں، ہر سرکار یہ خیال کرتی ہے کہ جہاں یہ پرورش پا رہے ہیں بنیادی ضروریات فراہم کرنا بھی اُن کے ذمہ ہے،اِنکو اس طرح نظرانداز کرنا کسی طور بھی درست نہیں، یہ ریاست کے وہ شہری ہیں جو بہترین سلوک کے طلب گار ہیں، ریاست کے وسائل پر اتنا ہی حق رکھتے ہیں جس طرح دیگر افراد دعویدار ہیں، لیکن اس سے بڑھ کر کیا المیہ ہوگا کہ بصارت سے محروم افراد کو بھی اپنے حقوق کے لئے سڑک کر آکر احتجاج کرنا پڑتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر ابھی تک معذور افراد کی مستند، متفقہ تعریف ہی نہیں کی جاسکی ہے، اس طرح کے افراد کو نہ تو سیاسی جماعتیں اپنا ممبر بناتی ہیں نہ ہی انکی پارلیمنٹ تک رسائی ممکن ہے،ان افراد کی ووٹ ڈالنے کی شرح بھی کم ہے لہٰذا کوئی بھی اُمیدوار اِنکو خاطر میں لاتا،معذور ی کو ابھی تک آئین کے دائرے میں قانون سازی کے لئے نہیں لایا گیا ہے، عوامی سطح پر خوف خدا رکھنے والی چند سماجی تنظیمیں اِنکی اَشک شوُئی کرتی ہیں تاہم سرکار کی طرف سے صرف مالی امداد وہ بھی خاص اَیام پر دی جاتی ہے۔ یہ بھی اِنکو ملتی ہے جو سرکاری سماجی اداروں میں بطور معذور فرد کے رجسٹرڈ ہیں۔ شہروں میں دستیاب جدید ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا ان کے لئے ممکن ہی نہیں،یہی معاملہ پبلک ٹرانسپورٹ کا ہے،عوامی مقامات پر نقل و حرکت، کھیل کے میدانوں میں آمد،تھیٹر، سنیما، یا ثقافتی تقریبات میں اِنکا شامل ہونا بہت ہی محال ہے،گویا ان کے لئے نہ تو تفریحی سہولیات ہیں نہ ہی کوئی طبی،سماجی فوائد۔

 کپتان جی یہ خواہش تو رکھتے ہیں کہ قومی سرمایہ کو انسانوں پر خرچ کرتے ہوئے انکی صلاحیتوں کو َجلا بخشنی چاہئے تاکہ وہ قومی ترقی میں معاون ثابت ہوں،کیا لاکھوں کی تعداد میںمعذور افرادی قوت کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ کیمرج یونیورسٹی اپنے نامورڈاکٹر ،سائنسدان سٹیفن ہاہیکن جو بیماری کے باعث قوت گویائی سے محروم ہوئے اگر انکو نظر انداز کر دیتی، انہیں خصوصی ڈیوائس فراہم نہ کی جاتی تو وہ کیسے اپنے نظریات دُنیا کے سامنے رکھتے۔ 

سرکار اگر ان سپیشل افراد کے دُکھوں کا مداوا کرنا چاہتی ہے، تو اسکا آغاز قانون سازی سے ہونا لازم ہے، نیز ان کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اسی طرح مہم چلانا پڑے گی ،جس انداز میں پولیو مہم قومی سطح پر روا رکھی جارہی ہے، سماجی خدمات دینے والے سرکاری اداروں پر ایسے افراد اور بچوں کی فلاح ایک قرض ہے، چیریٹی کی شہرت رکھنے والی یہ قوم اِن افراد کا بوجھ بخوبی اُٹھانے پر آمادہ دکھائی دے گی، بشرطیکہ سرکار اِن افراد کو سہولیات فراہم کرنے کوئی واضح پلان تو مرتب کرے۔ سرکار نے غریب افراد کے لئے پناہ گاہیں تعمیر کر رکھی ہیں،لنگر خانوں کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے ،جس سے وہ افراد مستفید ہو رہے ہیں جو ہر قسم کی معذوری سے بالا تر ہیں،کیا سرکار ایسے افراد سے محنت کا حق چرانا چاہتی ہے؟ان پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے انہیں ریاست پر بوجھ کیوںبنایا جارہا ہے، اس کے برعکس ’’سپیشل پرسن ‘‘کی بڑی تعداد توجہ کی مستحق ہے، بیت المال، بہبود آبادی کی وزارتوں سے متعلق ذمہ داران اِنکے نمائندگان سے مل کر پالیسی مرتب کریں، بنیادی حقوق کی فراہمی کے نام پرانکی خوراک ،پوشاک اور ادویات کی فراہمی کا ذُمہ تو کم از کم ریاست کو لینا چاہئے۔

شنید ہے کہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے معذور افراد کی فلاح کا بیڑا اس لئے بھی اٹھایا تھا کہ انکی بیٹی بھی کسی ایسے ہی عارضہ میں مبتلا تھی، کیا سماج کے معذور افراد کو بحیثیت شہری باوقار زندگی گزارنے کے لئے کسی ایسے ہی حکمران کا منتظر رہنا ہوگا۔ 


ای پیپر