Asif Anayat columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
19 جنوری 2021 (11:13) 2021-01-19

کبھی وقت تھا ہمارے وزرائے اعظم کو ہنری کنسجر ، بڑا بش اور عالمی قوتیں عزت سے ڈسکس کرتے تھے ۔ کبھی وزیراعظم کی سربراہی میں اسلامی سربراہی کانفرنس، متفقہ آئین، آقا کریم کو آخری نبی نہ ماننے والوں کو غیر مسلم قرار دینے ، ایٹمی پروگرام ، میزائل ٹیکنالوجی، بھارت سے فوجیوں کی واپسی، مقبوضہ علاقہ واگزار کرانے ، پاکستانیوں کو بیرون ممالک روزگار دلانے ، وطن عزیز میں سٹیل ملز لگانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے، زرعی اصلاحات کرنے، ایٹمی دھماکے کے مشورے منصوبے تیار اور ان پر عمل ہوتا تھا۔ (آج ملیشیا نے طیارہ پکڑرکھا ہے) آج اپنے حمایتیوں کے مخالفوں کو قبضہ گروپ کے نام پر وزیراعظم وزیراعلیٰ بات کرتے ہیں۔ اور ان پر پولیس ریڈز کراتے ہیں جن کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے تصویریں بنوائی تھیں۔ کبھی کابینہ میںحفیظ پیرزادہ، ڈاکٹر مبشر حسن، چودھری اعتزاز احسن، پرویز صالح جیسے لوگ تھے آج شیخ رشید ، واوڈا، گل، فردوس، حکومت کا چہرہ ہیں۔ 

وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ وہ واحد سیاستدان ہیں جو فوجی نرسری میں نہیں پلے۔ کیا حمید گل سے لے کر آج تک کونسی نرسریوں میں رہے ہیں۔ بھٹو صاحب نے تو ایوب دور میں استعفیٰ دے کر جیل کاٹی اور پارٹی بنائی ، تمام نئے لوگ شامل کیے۔ کسی جنرل کی انگلی نہیں تھی۔ پاکستان کا تو نظام ہی خاندانی نظام ہے اور یہی وجہ ہے کہ معاشرت میں سیاست کا عکس ہے ویسے بھی اگر کسی کے باپ کو سیاسی طور پر ہٹانے کے لیے عدالتی قتل ،کسی کی والدہ کو ساری دنیا کے سامنے چوک میں قتل، کسی کے والد کو جلاوطن اور بعد میں باپ بیٹی کو جیل بھیج دیا جائے تو پھر نتیجہ خاندانی سیاست ہی ہوا کرتا ہے۔ وزیراعظم حکومت کریں تاریخ کو غلط نہ کریں۔ 5 جولائی 1977ء سے 17 اگست 1988ء اور اس کے بعد 1999ء سے 2008ء تک ملک کا بیڑا غرق ہوا بلکہ ہر مارشل لاء دور میں ملک میں کرپشن ہوئی اور ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ ہزارہ میں لاشیں احتجاج کرتی رہیں۔ ساندہ میں غریب اپنی بچیوں کو قتل کر کے خود کشی کر گیا۔ وزیراعظم پتہ نہیں کن لوگوں کے وزیراعظم ہیں۔ ان کو لانے والوں کو چاہیے تھا کہ چندہ کر کے بھاری بجٹ کے ساتھ وزیراعظم کے کردار پر فلم بناتے اور اس میں ان کو وزیراعظم کا کردار دے کر شوق پورا کرا لیتے مگر ملک کی تقدیر سے نہ کھیلنے دیتے۔ پہلے دن سے جھوٹ اداکاری اور بناوٹی انداز اپنائے گئے۔ اب زوال کی گھڑیاں ہیں چل چلاؤ، سابقہ حکومتوں کا رونا ہی بند نہیں ہو رہا جبکہ سابقہ حکومتوں کے تجربہ کار لوگ تو کابینہ میں ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کے دعوے پر قائم ہونے والی حکومت آج کرپشن کا کاروبار چلنے کے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ براڈ شیٹ موسوی سکینڈل ،فارن فنڈنگ ، ملائیشیا جہاز، مالم جبہ، بلین ٹری، بی آر ٹی کیا حکومت کے پاس کوئی جواب ہے۔ فارن فنڈنگ کے حوالے سے ایجنٹ آگے کر دیئے گئے یہ نیابتی ذمہ داری کے زمرہ میں آتا ہے جو براہ راست ذمہ داری ہوتی ہے۔ 

وزیراعظم کابینہ میں فرماتے ہیں اب خود فیصلہ کروں گا کہ کابینہ میں کس کو رکھنا ہے۔ ظاہر ہے پہلے بلاول بھٹو، مریم نواز، مولانا فضل الرحمن تو فیصلہ نہیں کرتے گویا فیصلہ کہیں اور ہوتا ہو گا جو اب وہ خود فیصلہ کریں گے۔ 22 سالہ اسامہ کی گاڑی پر22 گولیاں اور آدھی درجن اس کے بدن میں اتر گئیں۔ وزیراعظم نے اس کے والد کو اپنے پاس بلا کر افسوس اور فاتحہ پڑھی ۔ ظاہر ہے نئے پاکستان میں پر سابھی نئے انداز و اطوار سے دیا جائے گا۔ 22 سال حکومت حاصل کرنے کے لیے بندوبست اور ڈھائی سال میں کارکردگی دیکھیں تو نہیں لگتا یہ کسی سیاسی پارٹی کے چیئرمین ہیں۔ استدلال، بہانے، عذرات اتنے ہیں کہ موصوف گفتگو روڈ کے چیئرمین لگتے ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں سب لوگوں کی ہوائیاں یوں اُڑی ہوتی ہیں کہ ابھی اصلی کابینہ نہ آجائے۔ وزیراعظم اگر اپنے حافظے کو بروئے کار لا کر یاد کر لیں کہ ان کے گرد کون بیٹھے ہیں سب کے سب دوسری سیاسی جماعتوں کے لوگ ہیں اور گھاگھ تجربہ کار ہیں۔ خان صاحب کو نہ تو وہ دل سے رہنما تسلیم کر کے آئے تھے اور یہ انہوں نے خود بھی ثابت کیا کہ وہ رہنماہیں اور نہ ہی پارلیمانی وزیراعظم۔ ان کی سیاست سے نواز شریف، شہباز شریف، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، مریم نواز، الزامات، جھوٹے دعوے ، وعدے، دلاسے، ان کی اپنے منہ سے اپنی تعریفیں اور اپنی خوشامد پسندی نکال دیں تو جنرل حمید گل کی انگلی سے ایمپائر کی انگلی اور موجودہ ایک پیج باقی بچتا ہے۔ کاش! خان صاحب نے نوجوانوں اور 

قوم کے لیے سوچا ہوتا کوئی عملی اقدام کیے ہوتے۔ افواہ سازی کی فیکٹریاں، ہوائی قلعے تعمیر، بے بنیاد بیانات اور لڑکوں جیسی غیر ذمہ دارانہ گفتگو نہ کی ہوتی، اپوزیشن سے انتقام کے علاوہ کچھ کیا ہوتا۔ اب ان کا Politacal Perception تباہ ہو چکا ۔ اب باقی ڈھائی سال کیا ڈھائی صدیاں بھی مل جائیں جب تک اپوزیشن زندہ ہے ان کی سوچ مثبت کاموں کی طرف نہیں آسکتی۔ قوم نے 72سال میں بہت کچھ کھویا ہو گامگر جو کچھ پایا وہ موجودہ حکومت نے ڈھائی سال میں برباد کر دیا۔ ان کی سیاسی پارٹی کا یہ عالم ہے کہ مجھے ببو برال کا لکھا ہوا شہرہ آفاق پنجابی ڈرامہ شرطیہ مٹھے میں جناب سہیل احمد کا بولا ہوا مکالمہ یاد آتا ہے۔ ڈرامے کا منظر ایسا ہے کہ سہیل احمدفقیر ہیں ایک بیٹا عابد خان ہے جس کے دو بیٹے نابینے ہیں۔ امان اللہ اور ببو برال ان سے شادی کے لیے ایک رشتہ آتا ہے۔ رشتہ کرانے والا پوچھتا ہے کہ گھر آپ کا اپنا ہے کہ کرائے کا ہے۔ جناب سہیل احمد اپنے مخصوص لہجے، آواز اور انداز میں کہتے ہیں (رپیہ رپیہ سارے شہر نیں پایا وے پر رجسٹری ساڈھے ناں ای اے) روپیہ روپیہ سارے شہر نے ڈالا ہوا ہے لیکن رجسٹری ہمارے نام ہی ہے۔ 

اسی طرح پی ٹی آئی میں پیپلزپارٹی، ق لیگ ، ن لیگ GDAاور دیگر جماعتوں نے افراد کی صورت روپیہ روپیہ ڈالا ہوا ہے مگر رجسٹری جناب عمران خان کے نام پر ہے۔ 

اب کشتی ڈوبنے کو ہے لہٰذا سامان اتارا جا رہا ہے۔ الیکٹیبلز چاہئیں تھے انہیں بھی آئندہ سیاسی ٹھکانہ چاہیے۔ محض الزامات، وعدوں، دعووں سے حکومت نہیں چلا کرتی۔ پاک فوج کی تاریخ ہے کہ اس نے اپنا وقار ہمیشہ قائم رکھاہے۔ چاہے ان کا اپنا کوئی جنرل ہو ، اگر ادارے کے لیے بوجھ بن جائے تو وہ آن کی آن میں مشرف بن جایا کرتا ہے۔ موجودہ حکومت نے فوج کی ساکھ کو جو سیاسی طور پر نقصان پہنچایا ہے اتنا نقصان پہلے کبھی نہیں ہوا لہٰذا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ باوقار ادارہ اپنے وقار کو قربان کر دے ۔ رہی بات سٹیٹس کو کی تو وہ آج بھی قائم ہے۔ وطن عزیز میں تین قسم کے لوگ حکومت میں رہے۔ فوج، پیپلزپارٹی ، ن لیگ، یا پھرکوئی اتحاد زیر نگرانی طاقتور اداروں کے آج بھی صورت حال مشرف دور سے مختلف نہیں ہے مگر کارکردگی منفی ہے۔ لہٰذا باتوں اور گفتگو سے کوئی آدھا کلو دال نہیں دیتا یہ نیا پاکستان بنانے چلے ۔ کبھی پیپلزپارٹی میں نعرہ تھا کہ ’’تم کتنے بھٹو مارو گئے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا‘‘ دراصل بھٹو ایک نظریہ اور پیغام ہے ، ایک کردار ہے، جدوجہد کی ایک داستان ہے۔ اب پیپلزپارٹی ہی نہیں میاں نواز شریف، فضل الرحمن بھی بھٹو ہی بن کر نکلے ہیں۔ وزیراعظم اور ان کی ساری کابینہ صرف گفتگو روڈ کے چیئرمین ہیں۔ 


ای پیپر