lwmc,ozpak,albairak,usman buzdar,garbage,waste,lahore,awais ghauri
19 جنوری 2021 (11:11) 2021-01-19

ایران کے شہرہ آفاق شاعر ’’انوری‘‘ نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ ’’آسمان سے جب بھی کوئی آفت زمین کی طرف رخ کرتی ہے تو سب سے پہلے وہ ’’انوری‘‘ کے گھر کا رخ کرتی ہے جبکہ قابل اجمیری نے کہا تھا کہ  ؎

  وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

اب معلوم نہیں کہ تاریخی  ٗ جدیداور منظم ترین شہر لاہور میں گندگی کے جو پہاڑ نظر آرہے ہیں وہ آسمان کی کسی آفت کی وجہ سے ہیں جنہوں نے انوری کا گھر دیکھ لیا ہے یا پھر یہ وہ حادثہ ہے جس کی پرورش برسوں سے کی جا رہی تھی۔ 

تبدیلی سرکار کی آمد پر کہا تھا کہ ’’ان سے امید نہیں کہ جب جائیں گے تو پاکستان میں کوئی بہتری کر کے جائیں گے۔ اس لئے ان کا بہت احسان ہو گا اگرجیسے ملا ہے ٗ ویسا ہی واپس کر جائیں‘‘۔ مگر لگتا ہے کہ ایسا ہونا اب ممکن نہیں کیونکہ پاکستان کے تمام ادارے اور عوام کسمپرسی اور بدحالی کی مثال بنتے جا رہے ہیں۔ ناتجربہ کاری اور بدحالی کی ایک تازہ ترین مثال اس وقت سامنے آئی ہے جب تاریخی شہر لاہور میں گندگی کے ڈھیر ٗشہر کے حسن کو گہناتے نظر آئے۔وہ شہر لاہور جہاں چند ماہ قبل تک جدید صفائی والی مشینری سڑکیں دھوتی نظر آتی تھی اور صفائی کا نظام اپنی مثال آپ تھا وہاں اب صورتحال یہ ہے کہ اوپر اورنج ٹرین گزر رہی ہوتی ہے اور نیچے گندگی کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ 

جب اس معاملے کی تہہ میں پہنچنے کی کوشش کی تو ناتجربہ کاری کی ایک طلسم ہوشربا سے سامنا ہوا۔  انکشاف ہوا کہ تبدیلی سرکار نے بہت محنت سے لاہور شہر کی یہ حالت کی ہے۔عثمان بزدار کی حکومت آئی تو شاید وہ ابتدائی چند ماہ پروٹوکول کے سرور میں رہے اور  معاملات ٹھیک چلتے رہے لیکن پھر پنجاب حکومت نے اوزپاک اور البیراک کی ادائیگی میں تعطل پیدا کرنا شروع کردیا۔ کنٹریکٹرز کو مکمل ادائیگی کے بجائے 60 فیصد ادائیگی کی جانے لگی ٗ باقی 40 فیصد کو روکا  جانے لگا اور  وہ رقم بڑھتے بڑھتے اب تقریبا 3 ارب تک پہنچ چکی ہے۔

کنٹریکٹرز نے کئی بار پنجاب حکومت سے اپنے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔جس پر ایل ڈبلیو ایم سی کی 95 ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی 

میٹنگ میں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ اوز پاک اور البراق کو مکمل رقم کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے  جا رہے ہیں اور جس معاہدے کی معیاد ختم ہو رہی ہے اس کی بھی تجدید کی جائیگی۔میٹنگ میں یہ تسلیم کیا گیا کہ کنٹریکٹر کو فروری 2019 سے رقم کی ادائیگی میں تاخیر  ہو رہی ہے اور 10 دن کے اندر اندر بقایا جات کی ادائیگی کر دی جائیگی۔اس وقت یعنی 19 جون تک جو رقم واجب الادا تھی وہ البیراک کے 418 ملین روپے ٗجبکہ اوز پاک کے 810ملین روپے تھے۔ مگر بقایا جات ادا کئے گئے اور نہ ہی معاہدہ کی تجدید کی گئی۔ بزدار حکومت نے اوزپاک اور البیراک کے ساتھ 5 بار جھوٹا وعدہ کیا اور انہیں بقایا جات کی ادائیگی نہ کی گئی۔

اس ناتجربہ کاری اور غیر ذمہ داری کا یہ نتیجہ نکلا کہ غیر ملکی کنٹریکٹرز نے حکومت پنجاب کے ساتھ اس وقت تک معاہدہ کی تجدید سے انکار کر دیا جب تک انہیں بقایا جات کی ادائیگی نہ کی جائے مگر بزدار حکومت نے معاملے کی سنگینی کو قطعاً محسوس نہ کیا۔ ایل ڈبلیو ایم سی کے سی ای او عمران سلطان نے حاتم طائی کی قبر پر ٹانگ مارتے ہوئے حکم صادر فرمایا کہ ’’آپ اسی طرح سے کام جاری رکھیں کیونکہ ابھی نئے معاہدہ میں تاخیر ہے اور آپ کے بقایا جات بھی جلد ادا کر دئیے جائیں گے‘‘۔ یعنی قیمت پرانی رہے گی ٗ معاہدہ پرانا رہے اور پیسے بھی اسی طرح لیٹ ملیں گے۔غیر ملکی کنٹریکٹرز اس پیشکش پر دہل کر رہ گئے اور پھر انہیں گزشتہ سال دسمبر میں ڈی سی لاہور کی طرف سے ایک اور پیشکش کی گئی کہ ’’آپ کا معاہدہ دو ماہ کیلئے بڑھا دیتے ہیں اور بقایا جات کی ادائیگی کیلئے سوچتے ہیں‘‘۔ 

غیر ملکی کنٹریکٹر کی طرف سے لچک نہ دکھانے پر بزدار حکومت کو چاہیے تھا کہ حکومتی وفد ان کمپنیوں کی طرف بھیجتے ٗ انہیں بقایا جات کی ادائیگی کا آغاز کرتے اور ان کے تحفظات عملی طور پر دور کرتے لیکن ہوا اس کے برعکس۔ تبدیلی سرکاری نے  اوزپاک اور البیراک کی گاڑی پر قبضہ کر لیا۔ ان کمپنیوں کی پراپرٹیز جو  ویلنشیا ٹائون اور سگیاں کے علاقے میں تھیں ان پر قبضہ کرنے اور دیگر تنازعات میں 12 دن ضائع کر دئیے۔ غیر ملکی کنٹریکٹر نے لاہور سے گندگی اٹھانا ترک کر دیا اور شہر میں گندگی کے پہاڑ بن گئے۔ 

جب میڈیا نے شور مچایا اور گندگی کی خبریں نشر کیں تو تبدیلی سرکار نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم عوام کے بجٹ کے پیسے بچانا چاہ رہے ہیں کیونکہ یہ کنٹریکٹرز بہت زیادہ پیسے لے رہے تھے اور ان دونوں کمپنیوں کا سالانہ خرچہ 14 ارب روپے تھا۔ جبکہ حقیقت برعکس ہے ٗ حکومت کی طرف سے ان دونوں کمپنیوں کو مجوعی طور پر سالانہ تقریبا 4 ارب روپے دئیے  جاتے تھے۔اسی رقم میں یہ دونوں کمپنیاں اپنے ملازمین کو تنخواہیں دیتی تھیں ٗ نئی جدید مشینری آپ کو سڑکوں پر صفائی کرتی نظر آتی تھی۔ جبکہ تقریبا 10 ارب روپے کا سالانہ بجٹ ایل ڈیلیو ایم سی کا تھا۔ یعنی اوز پاک اور البیراک کے 4 ارب اور ایل ڈبلیو ایم سی کے 10 ارب ملا کر سالانہ بجٹ 14 ارب بنتا تھا۔ 

اب گزشتہ دس سال میں صرف گاڑیوں کی مرمت پر 3 ارب روپے خرچ کرنے والی ایل ڈبلیو ایم سی کی کچھ بات ہو جائے۔اوز پاک اور البیراک نے بڈ میں حصہ نہ لیا تو ایل ڈبلیو ایم سی نے پرائیویٹ کنٹریکٹر کے ساتھ چالیس دن کا معاہدہ 240 ملین میں کیا۔ جھاڑ پھونک کر وہی پرانی ٹرالیاں ٗ ٹریکٹر اور پک اپس لوکل کنٹریکٹرز کے حوالے کر دی گئیں  اور اعلان کیا گیا ہے کہ وزن کے حساب سے گندگی اٹھا کر پیسے لے لو۔ گاڑیوں کی مینٹی نینس ٗ ڈیزل اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہو رہے ہیں۔ یعنی چالیس دن کے یہ 240ملین مکمل خرچے کا صرف 25 فیصد ہیں۔اگر دیگر تمام چیزوں اس میں شامل کی جائیں اور یہی سسٹم چلتا رہا تو تو پھر یہ سالانہ 8 ارب سے تجاوز کر جائیگا۔ جبکہ نئے کنٹریکٹرز کیونکہ وزن کی بنیاد پر پیسے وصول کر رہے ہیںا س لئے وہ ملبہ اٹھا کر زیادہ پیسے وصول کر رہے ہیں جبکہ گندگی وہیں پڑی رہتی ہے۔ لاہور سے روزانہ 5 ہزار ٹن گندگی اٹھائی جانی چاہیے جبکہ کنٹریکٹرز صرف 2 ہزار ٹن گندگی ہی اٹھا پا رہے ہیں۔

ان چالیس دنوں کے دوران جو 6ماہ کا کنٹریٹ نجی کمپنیوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اس چھ ماہ کے کنٹریکٹ کا تخمینہ تقریبا 3 ارب روپے لگایا گیا ہے یعنی سالانہ 6 ارب روپے۔ ایل ڈبلیو ایم سی کے 10 ارب شامل کر دیں تو یہ رقم 16 ارب سالانہ بنتی ہے۔ لاہور کو کوڑے دان بنانے کی کوشش کرنے اور قومی خزانے کو 2 ارب روپے سالانہ کا نقصان پہنچانے کے بدلے میں ہم حاصل کیا کر رہے ہیں؟۔ صفائی کاوہی 20 سال پرانا فرسودہ نظام ٗ کھٹارا ٹرک ٗ ٹرالیاں ٗ ٹریکٹر اور پک اپس۔جو دہائیوں پہلے نجی کنٹریکٹر استعمال کرتے تھے اب وہی دوبارہ سڑکوں کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی نظر آئیں گی۔ یعنی آسمانی آفت نے ’’انوری‘‘ کے گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے۔


ای پیپر