shakil amjad saqib columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
19 جنوری 2021 (11:06) 2021-01-19

ایک گاؤں میں غریب نائی رہتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا۔ مشکل سے گزر بسر ہوتی۔ اس کے پاس رہنے کو گھر تھا نہ بیوی تھی نہ بچے تھے۔ ایک چادر اور ایک تکیہ اس کی ملکیت تھی۔جب رات ہوتی تو وہ ایک بند سکول کے باہر چادر بچھاتا، تکیہ رکھتا اور سو جاتا۔ایک دن صبح کے وقت گاؤں میں سیلاب آ گیا۔اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف شور و غل تھا۔ وہ اٹھا اور سکول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا۔ چادر بچھائی، دیوار کے ساتھ تکیہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے لگا۔لوگ اپنا سامان، گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے۔ کوئی نقدی لے کر بھاگ رہا ہے، کوئی زیور کوئی بکریاں تو کوئی کچھ قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہا ہے۔اسی دوران ایک شخص بھاگتا آ رہا تھا اس نے سونے کے زیور پیسے اور کپڑے اٹھا رکھے تھے۔جب وہ اس نائی کے پاس سے گزرا تو اسے سکون سے لیٹے ہوئے دیکھا تو رک کر بولا۔۔۔ اوئے ساڈی ہر چیز اجڑ گئی اے۔ ساڈی جان تے بنی اے، تے توں ایتھے سکون نال لیٹا ہویا ویں۔۔۔۔یہ سن کر وہ ہنس کر بولا : لالے اج ای تے غربت دی چس آئی اے۔

یہ فطرت کا قاعدہ ہے جب بھی کوئی چیز حد سے تجاوز کر جاتی ہے اور عروج کے سارے کونوں کو چھو لیتی ہے تو وہ زوال کی طرف لوٹ آتی ہے۔ زوال پذیر اور رنگ آلودگی کی صورت حال میں کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اور پانی سر سے گزر کر تمام پل پار کر جاتا ہے۔ تاریخ گواہ کہ ہر وہ حکمران جس نے اپنی ریاست اور اپنی عوام پر ظلم کیا۔ اس حکمران کو منہ کی کھانا پڑی۔ کئی حکمرانوں کو قید و بند کی صعوبتوں سے دو چار ہونا پڑا۔ کئی حکمرانوں کو جلاوطنی کی سزا کاٹنا پڑی اور کئی حکمران دار پر جھول گئے۔ میرے نزدیک سیاست 

اور جمہوریت دراصل عوام اور ریاستی خدمت کا  نام ہے۔ دردِ دل کا نام ہے۔ مظلوم کی داد رسی کا نام ہے۔ غریب کے پیٹ میں لقمہ ڈالنے کا نام ہے۔ مریض کی دوا اور دعا کا نام ہے۔ انسانیت کی ارتقا، بقا اور طرف داری کا نام ہے۔ سانس لینے میں آسانی پیدا کرنے کا نام ہے۔ انسانیت کو دین اور دنیا میں آسائشیں مہیا کرنے کا نام ہے۔ رہنمائی اور ہدایت کی طرف رجوع کرانے کا نام ہے۔ سماجی، معاشرتی، معاشی، مذہبی اقدار کی پاسداری اور پیروی کا نام ہے۔ مگر یہاں سیاست اور جمہوریت ملوکی رویوں کے ساتھ ساتھ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ رویے اختیار کر لیتے ہیں۔ یہاں سیاست دان اور سرمایہ دار ایک الگ طبقہ اختیار کر گئے ہیں اور غریب عوام الگ طبقے میں شامل ہونے لگے ہیں۔ یہاں بلند معیار زندگی وزیروں، مشیروں، قانون دانوں، سرمایہ داروں ، جاگیرداروں کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہے اور غریب عوام کو خط غربت سے نیچے دھکیلتی ہوتی حیات کی سرحد سے پرے قبرستانوں میں لیے جا رہی ہے۔ یہاں اشرافیہ کے لیے گھنٹے پل کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں اور غریب عوام کے پل گھنٹوں کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ غریب شہر کی بیٹی تار تار کو ترس رہی ہے اور امیر شہر کی کاٹن ملیں لاکھوں ٹن دھاگہ بن رہی ہیں۔ درد صرف اس فرد کو محسوس ہوتا ہے جس کے چوٹ لگی ہو۔ بھوک کی کیفیت سے وہ شخص آشنا ہوتا ہے جس کا اپنا پیٹ کئی دن سے فاقے میں ہو۔ مکان کی قدر اس غریب کو ہوتی ہے جس غریب کی چھت ساری رات ٹپکتی ہے اور وہ گھر سارے برتن اس چھت سے ٹپکنے والے قطروں کے نیچے رکھ دیتا ہے۔ سیلاب کی تباہی کا اندازہ اس شخص کو ہوتا ہے جو اپنی آنکھوں سے اجڑنے کا منظر دیکھ رہا ہوتا ہے اور کشتی نوح ؑ کے انتظار میں ہوتا ہے۔ جب بھی کسی قوم یا کسی ملک دفتر الٹتا ہے تو پھر سب سے پہلے اس قوم کے جاگیردار، سرمایہ دار اور امیر طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ غریب کے پاس تو ایک کٹیا ہوتی ہے اور اسے صرف اپنے آشیانے کے تباہ ہونے کا ہی غم رہتا ہے۔ ایک بوڑھی عورت کسی ڈپٹی کمشنر کے پاس اپنا مدعا لے کر گئی۔ ڈپٹی کمشنر صاحب باہر سے تعلیم حاصل کر کے واپس آئے تھے اور مقابلے کے امتحان میں پہلی پوزیشن لے کر تعینات ہوئے تھے۔ بوڑھی عور ت نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی مگر ڈپٹی کمشنر صاحب کو کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ جناب نے فرمایا کہ آپ کسی وکیل کے ذریعے پیش ہوں تو اس غریب، ان پڑھ بوڑھی عورت کے جواب نے سارے سسٹم کو تھپڑ رسید کیا۔ وہ بولی! ’’پتر سمجھ تینوں نہیں آندی تے وکیل میں کر لواں‘‘۔ سمجھ حکومت کو نہیں آ رہی اور مہنگائی کا طوفان عوام کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ نظام کو حکومت مستحکم نہیں کر رہی ہے اور ایسی تیسی نظم و ضبط اور آئین کی پھر رہی ہے۔ آپ کچھ نہ سوچئے! کچھ نہ کرئیے! لیکن اتنا تو سوچئے کہ روز محشر میں انسان کیونکر کامیاب ہو گا۔ ایک طرف غریبوں کا حساب ہو گا۔ ان کے حساب میں دو وقت کی روٹی، کپڑا، حقوق اللہ اور حقوق العباد ہوں گے۔ دوسری طرف سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور حکمرانوں کا حساب ہو گا۔ پلازے، دکانیں ، فیکٹریاں ، گاڑیاں، بنگلے، سونا چاندی ، ملازم پیسہ، حلال و حرام کی تمیز، عیش و آرام، زکوٰۃ کے معاملات، حقوق اللہ اور حقوق العباد… اتنی چیزوں کا حساب کتاب… دیتے ہوئے پسینے سے شرابور اور خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے اور دوسری طرف غریب کھڑے ان کو دیکھ رہے ہوں گے۔ چہرے پر ایک عجیب سا سکوں ہو گا اور دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے‘‘۔ اج ای تے غربت دی چس آئی اے… مگر یہ تمام  باتیں اور فکر کا زاویہ اپنی جگہ درست ہے لیکن جو عوام کی جاگتی آنکھوں میں جو تبدیلی کے سفنے رقصاں ہیں ان کی تعبیر دی جائے اور غریب کو پرسا دیا جائے۔ 


ای پیپر