عبدالقادر حسن اوررﺅف طاہر! 
19 جنوری 2021 2021-01-19

موت کا اِک دن ہی نہیں اِک وقت اور جگہ بھی مقرر ہے، جو اِس دنیا میں آیا، چاہے وہ کسی انسان کسی جانور کسی چرند پرند کی صورت میں، یا کسی بھی صورت میں نہ ہو اُسے رخصت ہونا ہے، کائنات کی کوئی شے مستقل نہیں، درختوں سے پتے تیزی سے جھڑ جاتے ہیں، کچھ عرصے بعد نئے پتے اِن درختوں پر جھول رہے ہوتے ہیں، پھول کھلتے ہیں، مرجھا جاتے ہیں، پھر نئی کونپلیں نکلتی ہیں جو پھول بن جاتی ہیں، پھل درختوں کے مہماں بنتے ہیں، پھر یہ ”مہمان“رخصت ہو جاتے ہیں، اور درختوں کو کچھ عرصہ نئے مہمانوں کے انتظار میں گزارنا پڑ جاتا ہے، لوہے کی مضبوط ترین دیوار کو بھی زنگ لگ جاتا ہے، یہ زنگ آہستہ آہستہ پوری دیوار کھوکھلی کردیتا ہے، جیسے ہمارے جسم سے روح نکل جاتی ہے جسم کھوکھلا ہوجاتا ہے،.... بس رہے نام اللہ کا جو ہمیشہ رہے گا، یہ باتیں سب جانتے ہیں، یہ باتیں مگر بار بار بتانے کی ضرورت اِس لیے محسوس ہوتی ہے، یا یہ باتیں بار بار خود کو سمجھانے کی ضرورت اِس لیے محسوس ہوتی ہے انسان یہ سب کچھ فراموش کردیتا ہے، .... میں نے کئی بار لکھا”کسی انسان کی موت کا سبب چاہے کچھ بھی ہواُس کے بعد وہ اپنے اللہ کے پاس چلے جاتا ہے جواُس سے سترماﺅں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے، شاید اسی حقیقت کے پیش نظر شاعر نے بھی کہا تھا ”موت سے تیرے درد مندوں کی....مشکل آسان ہوگئی ہوگی.... انسان بس انتقال کرتا ہے، منتقل ہوتا ہے، ایک جگہ سے دوسری جگہ پر....احمد ندیم قاسمی صاحب کا اِک بڑا خوبصورت اور مشہور شعر ہے ”کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاﺅں گا .... میں تودریا ہوں سمندر میں اُتر جاﺅں گا“....ایک بار میں قاسمی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا، جی او آرون لاہور کلب روڈ پر واقع اُن کا دفتر شاعروں ،ادیبوں، دانشوروں اور صحافیوں کا باقاعدہ اِک ”ڈیرہ“ ہوتا تھا، وہ مجلسِ ترقی ادب کے صدرتھے، اِس ادارے کا انتظام شاید وفاقی وزارت تعلیم حکومت پاکستان کے پاس تھا، ایک حکومت نے اُنہیں اُن کے عہدے سے الگ کرکے اپنی ہی شان میں گستاخی کی تھی، وہ جتنی بڑی شخصیت کے مالک تھے میرے خیال میں یہ عہدہ اُن کے مقام سے بہت ہی کم تر تھا، اُن کی وجہ سے اِس عہدے کی اِل عزت بنی ہوئی تھی، اُس کے بعد اِس عہدے کی بے توقیری کا ایسا سلسلہ ہوا آج کسی کو معلوم ہی نہیں یہ ادارہ یا عہدہ اب زندہ بھی ہے یا نہیں؟ البتہ قاسمی صاحب کا نام زندہ ہے، اورہمیشہ رہے گا، .... بے شمار شاعروں اور ادیبوں کی طرح میں بھی قاسمی صاحب کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتا تھا، بڑے بڑے دانشوروں شاعروں اور ادیبوں سے وہاں ہمیں ملاقات کا شرف حاصل ہوتا، ایسے ہی اِک روز میں اُن کی خدمت میں حاضر ہوا، اُن کی منہ بولی بیٹی منصورہ بی بی اُن کے پاس تھیں، میں نے قاسمی صاحب کی خدمت میں عرض کیا ”آپ کا یہ جو بڑا ہی خوبصورت شعر ہے ”کون کہتاہے کہ موت آئی تو مرجاﺅں گا.... میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاﺅں گا“ ....اِسے کسی اور خیال میں ڈھالنے کی میری جرا¿ت تو نہیں، پر ایسے ہی کبھی کبھی میرے دِل میں یہ خیال آتا ہے یہ شعریوں بھی ہوسکتا ہے”کون کہتا ہے کہ موت آتی ہے مرجاتے ہیں.... یہ تو بھٹکے ہوئے ہیں لوٹ کر گھرجاتے ہیں“....میرا یہ اعزاز ہے قاسمی صاحب کو یہ ”خیال“ بڑا پسند آیا، اِس خیال کی تعریف میں جو جُملے اُنہوں نے فرمائے وہ میری اوقات سے بہت بڑھ کرتھے،....تو عرض یہ ہے موت کے بعد کوئی انسان مرتا نہیں اپنے اصل اور مستقل گھر میں واپس چلے جاتا ہے، دنیا اِک مسافر خانہ ہے، سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں، ہماری بدقسمتی یہ ہے ہم ساری نشانیاں مستقل طورپر فراموش کرچکے ہیں، ہرشخص اِس یقین میں مبتلا ہے پوری کائنات ختم ہوجائے گی، وہ مگر زندہ رہے گا، کسی کے جنازے میں شریک کچھ لوگ جب دنیاوی باتیں کررہے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات مرنے والے کی خامیاں تک بیان کرنے سے گریز نہیں کررہے ہوتے وہ بطور خاص اِس یقین میں مبتلا ہوتے ہیں” یہ تو چلے گیا ہے ہم مگر ہمیشہ زندہ رہیں گے“....البتہ کسی عزیز کی موت کا اچانک صدمہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت ہوتا ہے،.... جیسے اگلے روز ہمارے ایک صحافتی عزیز رﺅف طاہر کی اچانک انتقال کی خبر نے آج کتنے ہی روز بیت گئے مجھے نڈھال کیا ہوا ہے، وہ اعلیٰ ترین صحافتی اقدار کے مالک تھے، اِس سے پہلے ایسے ہی ایک صدمے سے ہمیں عبدالقادر حسن صاحب کے انتقال کی صورت میں دوچار ہونا پڑا، دونوں مرحومین کی ”مشترکہ خوبی“ یا مشترکہ خصوصیت یہ تھی دونوں اپنی تقریروں اور تحریروں میں ہمیشہ بڑے مہذب الفاظ استعمال کرتے تھے، یہ انداز ہم ایسے نکمے لکھنے والوں کو سیدھی راہ پر رکھنے یا چلانے کے لیے ایک روشنی فراہم کرتا تھا، ایسے صحافی بڑے ہمارے پاس اب رہ ہی کتنے گئے ہیں؟،اِن کی صحافت ذاتی اغراض سے بالاتر تھی، اپنی تقریر یا تحریر سے کسی کی دل آزاری کا کوئی تصور اُن کے ہاں نہیں تھا، وہ کسی پر تنقید کرتے ہوئے ایسے مہذب الفاظ استعمال کرتے جس پر تنقید ہوتی وہ سوچتا رہ جاتا لکھنے والے نے مجھ پر تنقید کی ہے یا میری تعریف کی ہے؟ یہی انداز یا فن میرے محترم ومحسن جناب مجیب الرحمن شامی کے پاس ہے، کچھ لوگوں کو یہ انداز پسند نہیں، وہ صحافت میں اور زندگی کے دیگر عمومی معاملات میں بھی جارحانہ پن کو اہمیت دیتے ہیں، کچھ اس انداز یا رویے کومنافقت کانام بھی دیتے ہیں، پر حقیقت میں یہی انداز ہے جسے کوئی شخص اپنا کر اپنی توقیرکم ازکم مہذب لوگوں میں برقرار بھی رکھ سکتا ہے، بڑھا بھی سکتا ہے .... منافق تو اصل میں ہم جیسے ہیں جو اِس مہذب انداز کوسراہتے بھی ہیں، اپناتے بھی نہیں،.... میرے اِن دونوں مرحومین صحافتی بزرگوں کی ایک اور مشترکہ خصوصیت یہ بھی تھی وہ لکھنے والوں میں اپنے جونیئرز کی بہت حوصلہ افزائی فرماتے تھے، حوصلہ افزائی کے بھی مختلف انداز ہوتے ہیں، ایک انداز یہ ہوتا ہے آپ اپنے جونیئر کی کسی تحریر کی تعریف نہ بھی بنتی ہو اس کی حوصلہ افزائی کرنا ہی ہوتا ہے، عبدالقادر حسن اور رﺅف طاہر دونوں مرحومین کی جانب سے یہ اعزاز کئی بار مجھے نصیب ہوا، میرے کالموں پر کبھی کبھار وہ باقاعدہ فون کرکے مجھے شاباش دیتے، اُن کی طرف سے میری حوصلہ افزائی کی دوسری صورت یہ تھی میں جب بھی اُنہیں کسی تقریب ، کسی ڈنر یا لنچ پر مدعو کرتا، اس کے باوجود کہ اُن کی طبیعت ناساز ہوتی وہ چلے آتے، چند روز پہلے میرے شاگرد عزیز، بے باک اور محبت مروت والے نوجوان صحافی فرخ شہباز وڑائچ نے فون پر مجھ سے کہا ”رﺅف طاہر صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں“....میں نے اُن سے کہا ” میں خود اُن سے ملنا چاہتا ہوں، مگر میں اِس وقت مری میں ہوں، اگلے ہفتے میں آپ کو ساتھ لے کر خود اُن سے مِل نہ سکا، پھر وہی ہوا جواکثر ہوتا ہے، جس کی ہمارے محترم شاعرمنیر نیازی مرحوم نے اپنی ایک خوبصورت نظم میں ہمارے اس عمومی مزاح یا رویے کی نشاندہی بھی کی ہے۔”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں“....رو¿ف طاہر سے ملنے میں، میں نے دیر کردی، اور اُنہوں نے دنیا چھوڑنے میں جلدی کردی، ہم تو روزحشر بھی اُن سے شاید مل نہ پائیں کہ وہ جنت میں جانے والوں کے مقام پر ہوں گے، البتہ اپنے عزیز فرخ شہباز وڑائچ سے مجھے ہمیشہ گلا رہے گا میں اگر اُن سے مِلنا بھول گیا تھا، میں نے اُن سے مِلنے میں دیر کردی تھی، وہی مجھے یاد کروادیتے کہ ایک درویش قلم کار سے کے منتظر ہیں، افسوس میری محرومیوں میں ایک محرومی اور بڑھ گئی !! 


ای پیپر