وزیراعظم کی برداشت اور”چن“کا استعفیٰ
19 جنوری 2021 2021-01-19

قومی دھارے میں شامل تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کا راگ الاپتا رہتی ہیں .لیکن اصل میں تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جما عتوں میں بادشاہت قائم ہے .تنقید اور اختلاف رائے بالکل برداشت نہیں کی جا تی حال ہی میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے مستعفی ہونے والے ندیم اختر چن کی سانحہ مچھ کے غمگساروں سے اظہار یک جہتی کو وزیر اعظم عمران خان نے برداشت نہیں کیا اور واضح کیا کہ فیصلوں و پالیسی سے اختلاف رکھنے والوں کو تنقید کا کو ئی حق نہیں. جب تک سیاسی قائدین تنقید اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی تعمیری روش کو خندہ پیشانی سے فروغ نہیں دیں گے جمہوریت کمزور اور بادشاہت توانا ہوتی رہے گی عمران خان نے تو بہر طور علی الاعلان اس رویے کا اظہار کرتے ہوئے تنقید اور اختلاف رائے کو قطعی طور پر مسترد کیا ہے دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی منافقت کاراج ہے قائدین کے فیصلوں سے اختلاف اور تنقید کی اجازت نہیں ہے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے وزرا کو مشاورت یا پالیسی سازی سمیت دیگر اہم امورمیں شامل کرنا تو دور کی بات ہے صرف نواز شریف کے فیصلوں سے آگاہ کیا جاتا تھا اور کیبنٹ میٹنگ میں چوہدری نثار کے علاوہ شاید کسی کو بولنے کی بھی آزادی نہیں ہوتی تھی البتہ خوشامد ی درباری و پالشیئے کسی اجازت کے بغیر جب دل چاہے خوشامد کرسکتے تھے لیکن تنقید یا اختلاف کی ازادی نہیں تھی یہی معاملہ پی پی پی .جے یو آئی .اے این پی .ایم کیو ایم سمیت تمام سیاسی جماعتوں میں ہے تمام فیصلے صرف قائدین ہی کرتے ہیں .گزشتہ دنوں شہر اقتدار اسلام آباد میں پیپلز پارٹی سے جذ باتی و سیاسی وابستگی رکھنے والے جیالے مختار عباس سے ملاقات میں ان کی جانب سے موجودہ حکومت کی کار کردگی پر بحث میں یہ عقدہ کھلا کہ مختار عباس نے چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو بطور اپوزیشن ایک نوجوان اراکین پر مشتمل ٹیم بنانے کی تجویز دی ہے جو اگلے تیس سال بلاول بھٹو کے ساتھ ملکر مستقبل میں حکومت سازی کے امور کے حوالے سے مختلف ہیڈ آف سٹیٹس .سفارتکاروں و ماہرین سے ملاقاتیں کرکے ان کے تجربات سے استفادہ حاصل کرے اسی طرح ان کی تجویز ہے کہ پچاس اراکین پر مشتمل شیڈو کیبنٹ قائم کی جائے جس میں حکومت میں آنے سے قبل پیپلز پارٹی اراکین کی ایک ٹیم حکومتی اہم امور سے متعلقہ دنیا بھر کے مختلف شعبوں خواہ وہ سرکاری ہوں یا نجی ماہرین سے تربیت حاصل کریں .حکومت میں آنے کے بعد خارجہ ،خزانہ ،خوراک اور دفاع سمیت دیگر اہم وزارتوں سے متعلقہ افراد کی اس شعبے سے تعلق رکھنے والے دنیا کے اہم افراد سے رابطے ملاقاتیں کروا کر ان کی تربیت ہو سکے تا کہ وہ اقتدار میں اکر احسن انداز میں حکومتی امور چلا سکیں کیو نکہ وزیر اعظم عمران خان پر یہی الزام لگ رہا ہے کہ وہ بغیر تربیت کے لائی جانے والی ٹیم سے نتائج حاصل کرنے کی رائیگاں کو شش کررہے ہیں حالانکہ وہ اقتدار میں آنے سے قبل دو سو ماہرین کی ٹیم ہونے کا جھوٹا دعوی کرتے رہے ہیں .مختار عباس کی تجویز بلا شبہ انتہا ئی اہم ہے لیکن بادشاہت کے حصار میں موجود سیاسی قائدین ایک عام سے کارکن کی تجویز پر کیسے عمل کریں گے اگر ایسا ہو تو جمہوریت کیلئے نیک شگون ہوگا.جمہوریت کے فروغ کیلئے جمہوری فیصلے کرنا ہوں گے اور اس کا آغاز قائدین اپنی جماعتوں میں تنقید ،اختلاف رائے اور تجاویز پر عمل کرکے کریں .۔


ای پیپر