حکومت : اکھّوںاَنّھی ناں چراغ بی بی
19 جنوری 2020 2020-01-19

ایک آدمی کسی نجومی کے پاس آیا اور کہنے لگا:

”نجومی صاحب میرے بائیں ہاتھ میں کھجلی ہورہی ہے۔“

نجومی نے ہاتھ دیکھتے ہوئے کہا :

”عنقریب آپ کے ہاتھ میں دولت آنے والی ہے۔“

آدمی:”نجومی صاحب! میرے دائیں ہاتھ میں بھی کھجلی ہے“۔

نجومی :” عنقریب جو دولت آئے گی وہ جانے والی ہے۔“

آدمی: ”نجومی صاحب! میرے تو بائیں پاﺅں میں بھی کھجلی ہے“۔

نجومی :”(پاﺅں دیکھتے ہوئے) عنقریب آپ کوئی غیرملکی اہم سفر کرنے والے ہیں۔“

آدمی: ”نجومی صاحب !میرے تو دائیں پاﺅں میں بھی کھجلی ہے۔“

نجومی :”چل بھاگ یہاں سے تجھے تو خارش پڑی ہوئی ہے۔“

لگتا یہی ہے کہ اس وقت ہماری ”گڈ گورننس“ کو بھی خارش کی بیماری لگی ہوئی ہے۔ یہ جو ہرروز چند وزیر مشیر حالات بہتر ہونے کی تسلیاں دیتے رہتے ہیں یہ اصل میں محض تسلیاں ہیں مستقل خراب حالات عوام الناس کا بُرا حال کیے ہوئے ہیں۔

ابھی بے نظیر انکم سکیم کے لاکھوں فراڈیوں کا تذکرہ جاری تھا کہ اس امدادی سکیم سے سینکڑوں افسران نے اپنی بیگمات کے نام پر امداد کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھورکھے ہیں اور جب وزیراعظم عمران خان نے ان فراڈیوں کے نام سامنے لانے کا فیصلہ کیا تو ہرطرف ”ہاہاکار“ مچ گئی۔ کئی سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے نام نہ ظاہر کرنے کی حفاظتی تدابیر اختیار کیں، چند سرکاری افسران کو محض شوکاز نوٹس دیئے گئے ہیں۔ ابھی تک فراڈیوں کے ناموں کی فہرست سامنے نہیں لائی گئی، عام آدمی کا مطالبہ ہے کہ مستحق عوام الناس کے لیے شروع کی گئی اس سکیم سے لوٹ مار کرنے والوں کے نام ظاہر کیے جائیں یہ بے حدضروری ہے بلکہ اب تو ہرغلط کام کرنے خاص طورپر کرپشن کرنے والوں کی بے نقابی ضروری ہے۔ .... یہ اسکینڈل ابھی منظر عام پر آیا ہی تھا کہ مارکیٹ سے آٹا غائب کردیاگیا 20کلو آٹے کا جو تھیلا 800 روپے میں مل رہا تھا ہم نے کل ایک ہزار روپے میں خریدا۔ آج وزیراعظم عمران خان نے پہلی بار ”آٹے کا بحران“ بنتے ہی فی الفور کارروائی کا حکم دیا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور مہنگا آٹا بیچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ سو کئی فلورملز کو سیل کردیا گیا کئی ملوں کے پرمٹ ختم کیے گئے۔ اگر ہر بحران کا خود بروقت وزیراعظم نوٹس لیں تو کچھ نہ کچھ کارروائی ضرور ہوگی۔ اب تو خود وزیراعظم نے چیف سیکرٹریزسے معاملہ کنٹرول کرنے کی ہدایت کی ہے گویا وزیراعلیٰ پنجاب کاکام بھی خود سنبھال لیا ہے۔ اتنا بھی غنیمت ہے کیونکر اکثر وزیراعظم کو ایسی کوتاہیوں کی خبرتک نہیں ہوتی جب بات سوشل میڈیا تک پھیل جاتی ہے پھر حکومت جاگتی ہے اور اس معاملے پر مو¿قف پیش کرتی ہے۔ ”روٹی پانی“ کے بغیر انسان زندہ ہی نہیں رہ سکتا ایک زرعی ملک میں آٹا دال روٹی تو سستے ہونا ضروری ہیں۔ ذخیرہ اندوزوں ، ملاوٹ کرنے والوں اور ناجائز منافع خوروں کو بروقت چوراہوں میں لٹکا کر سزائیں دینے کا عمل شروع کیا جائے اور ان کی تشہیر شروع ہوجائے تو لوگ شاید خوف کے سبب ان جرائم سے باز آجائیں۔ اگر بیوروکریٹس سیاستدانوں اور بااثر افراد کو بے نقاب کیے بغیر انہیں محض جرمانہ کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا تو یہ کرپشن کبھی ختم نہ ہوگی۔ وزیراعظم کو اپنے اردگرد کے کارخانہ داروں ( صنعت کاروں) جاگیرداروں کی بھی سرزنش کرنی ہوگی جو چینی اور آٹے کی ملوں کے مالکان بھی ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ حکومتوں میں رہ کر اپنے فائدے کی پالیسیاں بناتے ہیں عام لوگوں سے انہیں کوئی ہمدردی نہیں۔ عمران خان کی فیکٹریاں کاروبار نہیں ہیں انہیں عام آدمی کا درد بھی ہے انہیں چاہیے کہ کرپشن روکنی ہے تو اپنے ساتھیوں کو مت بچائیں اور احتساب سب کا کریں۔ محض کرسی سے چمٹے رہنے کے بجائے ”بولڈ سٹیپ“ لے کر اپنے کرپٹ وزیروں مشیروں اور صنعت کاروں تاجروں کو بھی سزائیں دیں۔ سزا سرعام دیئے بغیر قانون کا خوف پیدا نہیں ہوسکتا۔ ورنہ آوے کا آوے بگڑا رہے گا اور اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا آخر ایک روز کسی کو تو یہ سخت کارروائی کرنی پڑے گی وگرنہ غریب تو اس ملک سے ختم ہو جائے گا۔

ابھی تحریک انصاف ملک میں انصاف قائم کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں ہے یہ تو وہی بات ہوئی۔

کہ اکّھوں انّھی ناں چراغ بی بی (آنکھوں سے اندھی اور نام چراغ بی بی )


ای پیپر