نواز لیگ کے ُ عقاب‘ سے ملاقات
19 جنوری 2020 2020-01-19

آپ رانا ثناءاللہ خان کے سیاسی نظریات سے اختلافات کرسکتے ہیں مگر ان کی کمٹ منٹ ،جرا¿ت ، بہادری اور وفاداری سے نہیں۔ ایسے سیاسی کارکن اور رہنما ہر سیاسی جماعت کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ وہ اختلاف رائے پر یقین رکھتے ہیںمگرکہتے ہیں کہ جب فیصلہ ہوجائے تو پھر سب پر عمل ہونا چاہئے اور یہ کہ بہت مرتبہ پارٹی میٹنگوں میں شہباز شریف نے مختلف معاملات پر الگ رائے دی مگر جب پارٹی کا فیصلہ آیا تو شہباز شریف اس کے پابند رہے۔انہوں نے بتایا کہ فوجی سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کے قانون کے حوالے سے مسلم لیگ نون نے اپنی پالیسی سے ہرگز کوئی یوٹرن نہیں لیا ۔ میں نے ان کی توجہ سوشل میڈیا میں جاری بحث کی طرف دلوائی تو ان کا موقف تھا کہ گذشتہ برس انیس اگست کو جب موجودہ آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی تھی تو اس وقت مسلم لیگ نون نے مخالفت نہیںکی تھی یعنی اسے یوٹرن اس وقت قرار دیا جاتا اگر ان کی پارٹی مخالفت سے حمایت میں جاتی۔ انہوں نے اپنی دلیل کو مزید مضبوط بناتے ہوئے بتایا کہ یہی وہ وقت تھا جب نواز شریف پر مزید مقدمات قائم ہو رہے تھے، مریم نواز شریف ایک مرتبہ پھر گرفتار ہو چکی تھیں، خواجہ سعد رفیق، حمزہ شہباز ،یوسف عباس اور سلمان رفیق ہی نہیں بلکہ فواد حسن فواد اور احمد چیمہ جیسے بیوروکریٹ بھی جیل میں ہی تھے۔ یہ با ت درست ہے کہ مسلم لیگ نون نے اس وقت کسی قسم کا مخالفانہ بیان نہیں دیا تھا۔

رانا صاحب کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی افراد کے حوالے سے تو تحفظات رکھتی ہے مگر اداروں کے خلاف نہیں ہے اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع دینا وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ انہوں نے سب سے بڑی دلیل یہ دی کہ اس قانون سازی سے وزیراعظم کا آفس مضبوط ہوا ہے جو ایک آئینی ،سیاسی اور پارلیمانی عہدہ ہے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ ارسلان شہید کا خاص طور پر ذکر اور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی پاک فوج کے ان تمام افسروں اور جوانوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو قوم کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوںنے کہا، غلطی بس یہ ہوئی کہ ہمیں جلد بازی میںکی گئی قانون سازی کا حصہ نہیں بننا چاہئے تھا اور اس سے پہلے اپنے ووٹر کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے خراب نہیں ہوا بلکہ اس وقت ہوا جب حکومت نے غلط نوٹیفیکیشن جاری کئے۔ جو حکم صدر نے جاری کرنا تھا وہ وزیراعظم نے جاری کیا اور وزیراعظم نے کابینہ کی منظوری سے بھی پہلے کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی ’ ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے پر قائم ہے اور اس پر بھی کہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہئے البتہ وہ اس موقعے پر’ بابارحمتے‘ پر برہم نظر آئے۔

رانا صاحب نے میرے سوال پر مستقبل کی نقشہ کشی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بجٹ سے پہلے حکومت کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ میرا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون تو مجھے کچھ ایسا کرتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی جس سے حکومت گرجائے، جواب ملا، جو حکومت محض چار ووٹوں پر کھڑی ہو اسے گرانا کوئی مشکل کام نہیں ہے اور اس کے لئے اپوزیشن کو خاموشی اور سکون کے ساتھ کام کرنا چاہئے، انہوں نے اتحادیوں کی شکایات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اگر شور مچایا جائے تو اس سے کام خراب ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ہاوس تبدیلی اور مڈٹرم انتخابات دونوں ہی غیر آئینی نہیں ہیں ، وہ انتخابات سے قبل ایک قومی حکومت کے ذریعے انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں۔ میرا کہنا تھا کہ عمران خان مڈٹرم انتخابات کیوں کروائیں گے، اسمبلیاں کیوں توڑیں گے اور قومی حکومت کیوں قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام عمران خان نہیں کریں گے بلکہ وہ کرے گا جو عمران خان کی جگہ تمام پارٹیوں کی حمایت سے آئے گا اور وہی انتخابی اصلاحات بھی کرے گا، ابھی تووسط مدتی انتخابات بھی نہیں ہوسکتے کہ الیکشن کمیشن نامکمل ہے۔

رانا صاحب کی حکومت تبدیل ہونے کی بنیاد یہ ہے کہ موجودہ حکومت اگلا بجٹ نہیں بنا سکتی،میرا سوال تھا کہ کیوں نہیں بنا سکتی،جواب تھا اس لئے کہ حکومت کو تاریخ کے بدترین خسارے کا سامنا ہے۔ مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کی تنخواہ تیس ہزار تھی وہ دس ہزار کے برابر رہ چکی ہے، کاروبار تباہ ہوچکے ہیں، برآمدات میں ہرگز کوئی اضافہ نہیں ہوا اور درآمدات بارے پالیسی نے بھی ٹیکس کلیکشن کو تباہ کیا ہے لہٰذا موجودہ حکومت یہاں مکمل ناکام ہوجائے گی۔ میرا سوال تھا کہ اگر ٹیکس کلیکشن کم ہو گئی ہے اور خسارہ بہت زیادہ ہے تو پھر عمران خان کے بجائے کسی دوسرے کی حکومت کیسے بجٹ بنا لے گی تو ان کاموقف تھا کہ حکومتوں کی پالیسیاں اور عوامی اعتماد بہت اہم ہوتے ہیں، وہ فوری طورپر تبدیل ہوں گے۔ موجودہ حکومت دوسرے ممالک سے بھی جتنا مانگ سکتی تھی وہ مانگ چکی ہے۔

رانا صاحب ایک سیاسی کارکن ہونے اور ووٹ کو عزت دو کانعرہ لگانے کے باوجود’ پاپولر لیڈر شپ‘ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ میرا سوا ل تھا کہ آپ جمہوریت، جمہوریت کی رٹ لگاتے ہیں مگر خود آپ کی پارٹی میں جمہوریت کہاں ہے۔ میاں نواز شریف کے بعد شہباز شریف، مریم نواز شریف، حمزہ شہباز شریف اور اب قیادت کے لئے جنید صفدر کا نام لیا جا رہا ہے۔ رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ ایک پاپولر لیڈر اور اس پر کانسینسس ( اتفاق رائے ) بہت ضروری ہے۔ میاں نواز شریف کے بعد شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز پر پارٹی کاکانسیسس ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اگر تنظیم سازی کے ذریعے ہی مقبولیت اورحکومت ملتی ہوتی تو جماعت اسلامی سب سے مقبول جماعت ہوتی، ستر برس سے اسی کی حکومت ہوتی۔ میں نے سوچا اور کہا بھی، اگر رانا ثناءاللہ خان جیسا سیاسی کارکن یہ رائے رکھتا ہے تو پھر میں اسے کیا کہہ سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب پاپولر لیڈر شپ ایک فیصلہ کرتی ہے تو وہ اپنی مقبولیت میں کمی کے خطرے کو سامنے رکھ کر کرتی ہے چاہے وہ پارٹی عہدے پر کسی کی نامزدگی ہی کیوں نہ ہو ۔ ہم نے منشیات کے مقدمے پر بھی بات کی حالانکہ میں جانتا ہوں کہ حکومت اور استغاثہ ابھی تک کوئی ثبوت نہیں دکھا سکے مگر میں نے شہریار آفریدی کی طرف سے قرآن اٹھانے کا بھی حوالہ دیا کہ رانا صاحب کا پریس کانفرنس سے قومی اسمبلی تک قرآن پاک اٹھانا تہلکہ مچا چکا ہے۔ رانا ثناءاللہ نے اس پر ایک دلچسپ نکتہ اٹھایا، بولے، شہریارآفریدی نے قرآن اٹھا کے کہا ہے کہ وہ او ر ان کے وزیراعظم عمران خان نے ان کے خلاف کوئی سازش نہیں کی، وہ اس کا حصہ نہیں ہیں تو ایک یہ ثابت ہوا کہ سازش تو موجود ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اب ان کی حکومت اور ادارے ہیں، وہ پتا کریں اور بتائیں کہ اگر وہ اس سازش میں شریک نہیں تو پھر یہ سازش کس نے کی۔رانا صاحب سے ازراہ تفنن پوچھا، آپ کے ساتھ کافی ہو گئی کیا اب آپ اپنا رویہ کچھ درست کریں گے، الفاظ کچھ نرم کریںگے۔ جواب تھا کہ وہ کسی کو کچھ نہیں کہتے ، صرف جواب دیتے ہیں ، پی ٹی آئی والے ایسی باتیں ہی نہ کیا کریں کہ ایسے جواب ملیں جو ان سے برداشت نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصل واووڈا کے ساتھ پروگرام میں ہوتے تو بائیکاٹ کر کے نہ آتے بلکہ اس کا گھر پورا کرکے آتے۔

رانا ثناءاللہ مسلم لیگ نون کے ع ُ قاب ہیں مگر ان سے دیر تک جاری گفتگو کے دوران احساس ہوتا رہاکہ یہ ع ُ قاب ، فاختہ نہیں بنا مگر بہت سیانا ہو گیا ہے، ایک سیانااور تجربہ کار ع ُ قاب زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ( رانا ثناءاللہ خان کا انٹرویو کل پیر کی رات آٹھ بج کر پانچ منٹ پر لاہور رنگ کے پرائم ٹائم کرنٹ افئیرز شو ’ نیوز نائیٹ نجم ولی خان کے ساتھ‘ میں ٹیلی کاسٹ کیا جائے گا)


ای پیپر