امید بہار رکھ!
19 جنوری 2019 2019-01-19

یہ بات بخوبی سمجھ آگئی ہے کہ سیاست میں کل کا دوست آج کا دشمن اور آج کادوست کل کا بدترین مخالف ہوسکتا ہے۔ گزشتہ 30 سال کی سیاست میں کچھ بھی نہیں بدلا۔ شکلیں بدلی ہیں، الزامات کی نوعیت بدلی ہے نہیں بدلی تو سیاست کی تشریح نہیں بدلی۔ کچھ جلد ہی سہی سیاسی چپقلش ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بام عروج پر ہی ہے۔ کہنے کو NRO کی بازگشت بھی کافی توانا محسوس ہورہی ہے۔ خلائی مخلوق سے آرمی چیف تک کا سفر طے ہوچکا ہے لیکن جب میڈیا یہ سوال حکومت یا اپوزیشن سے کرتا ہے تو جواب اس سے بالکل مختلف حاصل ہوتاہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ یا واک آو¿ٹ دراصل NROکے لیے حکومت کو دباو¿ میں لانے کی کوشش ہے جبکہ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ حکومت NRO دینے کی پوزیشن میں ہی نہیں۔ ریاست مدینہ میں تو میثاق مدینہ اور فتح مکہ بھی تھا جس میں بدترین مخالفین کو معاف بھی کیا گیا۔ نا جانے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ویسے بھی ہمارا ماضی ہے کہ NRO کرنے والی طاقتیں NRO کرنے سے قبل پوچھا کب کرتی ہیں۔

مجھ سمیت وزیراعظم عمران خان کی نیک نیتی پر شک نہ بھی کیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ نہ صرف وزیراعظم، سپریم کورٹ، افواج پاکستان اور میڈیا،یہ سب اس سسٹم کو چلنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔ ٹاسک فورسز کی حد تک ہی سہی وزیراعظم کام تو کررہے ہیں۔ نہ جانے ان ٹاسک فورسز کی فائنڈنگ آنے میں اور پھر عملدرآمد شروع ہونے میں کتنا وقت درکار ہوگا۔ مجھ سمیت 22کروڑ عوام انتظار میں ہیں۔ سپریم کورٹ بھرپور طریقے سے از خود نوٹسز کے ذریعے مسائل کی طرف انگلی اٹھا رہی ہے۔ افواج پاکستان کی بات کریں تواندرونی حالات ہوں یا سرحدی معاملات ہر چیز کو احسن طریقے سے سنبھالے ہوئے ہے۔ حد تو یہ ہے کہ آرمی چیف کے بیرونی دوروں میں اپنے ہم منصبوں سے ملنے کے علاوہ سربراہ مملکت کے ساتھ کی جانے والی ملاقاتوں میں تاثر یہ آرہا ہے کہ سطح ہموار آرمی چیف کررہے ہیں اور فتح کے جھنڈے PTI کی حکومت گاڑ رہی ہے۔ اور تو اور پچھلے دنوں کراچی میں پاکستانی تاجروں سے آرمی چیف نے ملاقات بھی کرڈالی اور حالات کے سازگار ہونے کی مکمل یقین دہانی بھی کرائی اور سپورٹ کا وعدہ بھی لیا۔

میڈیا بھی حتی الامکان محتاط طریقے سے مسائل کی نشاندہی کررہا ہے۔حالانکہ حکومت نے سب سے پہلے لات میڈیا کے پیٹ پر ہی ماری تھی۔ اس تمام منظر کشی کا مطلب ہرگز طنز کرنا نہیں بس یہ بتانا ہے کہ اس قسم کے موافق حالات موجودہ حکومت کو حاصل ہیں۔ رہی بات اپوزیشن کی تو ان کے اتحاد نے بھی PTI کے مو¿قف کومضبوط ہی کرنا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ معاملات مملکت چلانے کے لیے سربراہ کی صرف نیک نیتی ہی کافی ہے یا کچھ نیتوں کادارومدار عمل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جیسا کہ وضو کی نیت کرنے سے نماز نہیںہوپائے گی۔ نماز پڑھنے کے لیے وضو کرنا لازمی ہے۔ اسی طرح سلام کرنے کے لیے بھی محض نیت نہیں عمل لازم ہے۔

کیا حکومت کے پاس عوام کے ریلیف کے لیے نیک نیت کے علاوہ کوئی جامع پلان ہے؟ ایک کروڑ نوکری 5 سال میں دینی تھی، 1 لاکھ 70 ہزار افراد ان 5مہینوں میں بے روزگار ہوگئے۔ یہ تک کوئی اور نہیں حکومت کا اپنا ادارہ ہی بتا رہا ہے۔

سنا ہے 23 جنوری کو ستمبر کے بعد دوسرا منی بجٹ آنے جارہا ہے۔ چند مہینوںمیں دو مِنی بجٹ اس بات کی غمازی کررہے ہیں کہ حکومت ملنے سے پہلے موجودہ حکومت نے چیلنجز کی کوئی تیاری ہی نہیں کی تھی بس زبانی جمع خرچ ہی تھا۔کدھر گئی وہ 200 افراد کی ٹیکنوکریٹس، ایکسپرٹس کی ٹیم جس کا خلائی چہرہ دکھا کر عوام سے تبدیلی کے نام پر ووٹ لیا گیا تھا۔

اگر حکومتی مشیران کے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں نہ پڑیں تو یہ کہنا حق بجانب ہے کہ مہنگائی آنہیں رہی مہنگائی آگئی ہے۔ دیگر اشیا کی بات تو دور عام انسان کی زندگی کی بنیادی ضروریات جس سے غریب کا باورچی خانہ چلتا ہے ان اشیا میں 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

نتیجہ اضطراب کی شکل میں آنا شروع ہوگیا ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی اب سوچناشروع ہوگئے ہیں کہ جسے ووٹ دے کر مسند پر بٹھایا تھا کہیں ہمارا فیصلہ غلط تو نہیں تھا۔ کیا تبدیلی کا خواب محض وزارت عظمیٰ تھی؟

اور تو اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائٹ پر اپ ڈیٹ کیے بغیر ادویات کی قیمتوں میں بھی 15 سے 20 فیصد اضافہ کردیا گیا۔ یعنی سانسوں کے ردھم کو قائم رکھنا مزید دشوار ہورہا ہے۔ جھوٹ اور دروغ گوئی کی انتہا تو یہ ہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کہتے ہیں کہ گزشتہ 2 حکومتوںکے دور کی نسبت مہنگائی میں صرف 0.4 فیصد اضافہ ہوا ہے نہ جانے وہ کس منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔

عوام حیران ہیں، پریشان ہیں کہ یہ کیسا معاشی پلان ہے۔ وزیراعظم صاحب سے درخواست ہے کہ ایک بار پھر عوام سے خطاب کرلیں اور واضح تاریخ دیتے ہوئے بتادیں کہ عوام کو آخر کتنا ان کا ساتھ دینا ہے۔ کیونکہ عوام کو ان کے وزیروں کی زبانی معاشی اعشاریے سمجھ نہیں آرہے۔ ہم پچھلی حکومت پچھلی حکومت کب تک سنیں گے۔ ہمیں ایک مقررہ مدت تک صبر کا عندیہ دے دیا جائے۔اس تاثر کی مکمل نفی درکار ہے کہ قرضے لے کر بھی ہم ملک چلا نہیں پارہے۔اگر حکومت کے پاس کوئی واضح پلان ہے تو وزرا بتائیں۔ اپوزیشن کے لیے کم اور کارکردگی میں سنجیدہ نظر آئیں ورنہ گومگوں کی یہی صورتحال رہی تواتحادیوں کے اوپر کھڑی حکومت کیا کھڑی رہ پائے گی۔

ق لیگ، MQM یا BNP، یہ سب اپنے ماضی کے تجربات سے ہلے ہوئے ہیں اور کسی معجزے کی توقع آپ سے رکھتے ہیں۔ اپنے بہترین لوگوں سے ملاقات کریں اورعوام کے فوری ریلیف کا کوئی بندوبست کریں۔


ای پیپر