راولپنڈی ٹیسٹ میچ کے دوران بکی کو جال میں پھانس کر کیسے گرفتار کیا گیا؟ دلچسپ انکشاف سامنے آ گیا
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
19 فروری 2021 (18:45) 2021-02-19

راولپنڈی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر سیکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن لیٹیننٹ کرنل (ر) آصف محمود نے کہا کہ راولپنڈی میں جال بچھاکر بکی کو دھرا گیا اور مشکوک شخص کا ایکریڈیشن کارڈ جان بوجھ کر بننے دیا تاکہ اس کیخلاف ثبوت حاصل کرسکیں اور نیٹ ورک کا پتا چلایا جا سکے،  وہ دبئی میں کسی کے ساتھ رابطے میں تھا البتہ کسی کھلاڑی یا بورڈ آفیشل سے تعلق کا ابھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ میں  ایک مشکوک شخص کو گراؤنڈ سے پکڑا گیا تھا جو موبائل فون پر مسلسل کسی کو میچ کی معلومات دے رہا تھا اور بعد ازاں اسے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔حیران کن بات یہ تھی کہ مذکورہ شخص کو ایکریڈیشن کارڈ بھی پی سی بی کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر سیکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن لیفٹیننٹ کرنل (ر) آصف محمود نے کہا کہ ہمیں مذکورہ شخص کی مکمل معلومات حاصل تھیں، ہم  چاہتے تو اسے سٹیڈیم میں داخل ہی نہ ہونے دیتے مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، ہم نیٹ ورک تک پہنچنا چاہتے تھے اور ثبوت کے حصول کیلئے اسے سٹیڈیم کے اندر آنے دیا، ایکریڈیشن کارڈ بھی بننے دیا کیونکہ  اگر پہلے ہی پکڑ لیتے تو وہ معلومات حاصل نہ ہوتیں جو ہمیں ملیں، اس کا دبئی کے کسی شخص سے رابطہ تھا جس کا ہم نے پتا چلا لیا ہے۔ 

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ گرفتار ہونے والے بکی کا کسی پاکستانی کرکٹر یا پی سی بی آفیشل کیساتھ بھی کوئی تعلق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا لیکن کسی بھی طرح کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز بھی اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ تحقیقات کے دوران کچھ سامنے آ جائے تاہم پاکستانی کھلاڑی اب مشکوک روابط کی اطلاع کرتے ہوئے نہیں جھجکتے ،ہم ان کی معلومات ظاہر نہیں کرتے،اس لئے کھلاڑیوں کا اعتماد بڑھ گیا ہے، ہمیں مشکوک رابطے کا بتا کروہ اپنی ذمہ داری پوری کردیتے ہیں اور پھر ہم انہیں بالکل بھی پریشان نہیں کرتے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں میں کرپشن روکنے کا قانون بننے سے ہمیں بڑی مدد ملے گی، جیسے قتل کی سزا موت ہے تو لوگ ڈرتے ہیں، اسی طرح فکسنگ پر جیل اور جرمانے و جائیداد کی ضبطگی کا خطرہ ہو تو ناصرف بکیز ایسا کرتے ہوئے ڈریں گے بلکہ پولیس اور ایف آئی اے کو بھی کارروائی میں مدد ملے گی، اگرچہ ہمارے پاس کھلاڑیوں کے بینک اکاؤنٹس اورجائیداوں کے بارے میں جاننے کا اختیار نہیں لیکن پھر بھی کوئی غیرمعمولی سرگرمی ہو تو اس کا علم ہو جاتا ہے، شک کی صورت میں ہم خود بھی کسی کرکٹر کا موبائل فون لے کر چیک کر سکتے ہیں۔


ای پیپر