pctb,decided,destroy,private,publishers,publish,books
19 فروری 2021 (14:47) 2021-02-19

لاہور ( راشد منظور)پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ اتھارٹی نے پرائیویٹ پبلشرز کو برباد کرنے کی ٹھان لی۔ پرائیویٹ پبلشرز کو کتب کی اشاعت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔غیر اعلانیہ ایک سال کے لئے پبلشرز کو این او سی جاری کرنے پر پابندی عائد کر دی۔این او سی کے اجراء پر پابندی کا کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہیں کیا۔ 

ذرائع کے مطابق این او سی کے حصول کیلئے فی کتاب اڑھائی سے ساڑھے چار لاکھ روپے طلب کئے جانے لگے۔واضح رہے اس سے قبل این او سی کی فیس صرف دو ہزار روپے تھی۔مانوسکرپٹ مینجمنٹ چارجز (ایم ایم سی)کی مد میں ساڑھے سات فیصد فی کتاب بھی طلب کر لئے گئے۔ذرائع کے مطابق پبلشرز کو این او سی کے بدلے رشوت دینے کیلئے بھی مجبور کیا جانے لگا۔این او سی پر پابندی کی وجہ سے پبلشرز کے اربوں روپے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔پبلشرز کو این او سی جاری نہ ہونے سے لاکھوں افراد کے بے روزگار ہونے کا بھی خدشہ ہے۔این او سی جاری نہ ہونے سے درسی کتب کی قلت کا بھی امکان بڑھ گیا ہے۔

ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر فاروق کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ پبلشرز کو رجسٹریشن کے لیے یکم مارچ تک کا ٹائم دیا گیا ہے۔پرائیویٹ پبلشرز اپنے مسودات 15 اپریل تک جمع کروائیں۔مسودات جمع ہونے کے بعد این اوسی کے اجراء کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔

 علاوہ ازیں صدر انجمن تاجران اردو بازار لاہور خالد پرویز نے کہا ہے کہ مورخہ 16 فروری2021 کو پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ اتھارٹی کے عہدیداروں نے انکے نام سے مختلف اخبارات میں مجھ سے منسوب کر کے خبریں شائع کروائیں کہ سنگل نیشنل کریکولم کے لاگو ہونے سے اردو بازار کی رونقیں بڑھیں گی اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میرا موقف اس کے برعکس اور بالکل واضح ہے کہ سنگل نیشنل کریکولم تب لاگو کیا جائے جب سب پرائیویٹ پبلشرز کو بورڈ کی کتب ایلوکیشن ہونے سے قبل این او سی دیا جائے، یہی یکساں نصاب تعلیم کی روح ہے۔

بورڈ پبلشرز کا کمپی ٹیٹر ہے لہٰذا بورڈ اور پرائیویٹ پبلشرز کی کتب ایک وقت میں شائع ہوں۔ پوری دنیا میں پرائیویٹ پبلشرز کو ساتھ لے کر چلا جاتا ہے تا کہ علمی مقابلہ سازی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ میں بھی سمجھتا ہوں کہ پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کی افسر شاہی نے نجی پبلشرز پر بے شمار قدغنیں لگا کر یکساں نصاب تعلیم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈالی ہے۔بورڈ کے جن افسران نے یہ خبریں شائع کروائیں میں انکی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔


ای پیپر