Ibrahim Mughal columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
19 فروری 2021 (11:40) 2021-02-19

خدا پا ک کا شکر ہے ہم اہلِ پا کستان خو اہ کیسے بھی ہو ں لیکن اپنے وطن سے محبت میں سب ہی مخلص ہیں۔ کشمیر کے معا ملے پر سب ہی سیا سی پا رٹیا ں ایک پیج پر ہیں۔ قا رئین کر ام، چنا نچہ آ پ نے اخبا را ت میں پڑھ لیا ہو گا اور ٹی وی پہ سن لیا ہو گا کہ حکو متِ پا کستان نے ایک بار پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تنازع کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات کے سوا اس مسئلہ کا دوسرا کوئی حل نہیں، بھارت اگر مخلص ہے تو آئے، ہم مل کر کشمیر کا مسئلہ حل کریں۔ اس بار یوم یکجہتی کشمیرمنانے کی خاص بات یہ تھی کہ ملکی سیاسی رہنمائوں نے کشمیر کے پیغام کو مل کر اس دن کو منانے کے بجائے ہر سیاسی جماعت نے کشمیریوں کی حمایت اور اس سے یکجہتی کے لیے الگ الگ اجتماعات کیے۔ حکومت او راپوزیشن نے بھارت کے علاوہ دنیا کے کونے کونے تک ایک متحد قوم کے پیغام کو پوری طاقت سے پھیلانے کے عزم کا اظہار کیا اور کشمیریوں کے عزم، حوصلے اور اپنے حق کے لیے ظلم سے ٹکرانے کے عزم او رجوش و ولولے میں ثابت قدمی کے ہر سنگ میل کو عبور کرنے کی قسم کھالی۔ دفتر خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق کشمیر پر پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کی صورتحال پر سیکورٹی کونسل کو خطوط ارسال کیے ہیں اور 7 مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔ ادھر پی ڈی ایم کی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ کٹھ پتلی نہیں ایک جمہوری وزیراعظم کو کشمیریوں کے حق پر بات کرنے کا حق ہے، کشمیر کا سودا کسی کو نہیں کرنے دیں گے۔ لہجوں میں تلخی ہے، ملکی سیاسی صورتحال مرکزیت کے فقدان سے دوچار ہے جبکہ مودی کی فسطائیت اور کشمیر میں مظالم سے نمٹنے کے لیے ملکی سیاسی قائدین میں بھارت کو بات چیت کی میز پر لانے میں ایک کلیدی مذاکراتی کردار ادا کرنے کے لیے اجتماعی لائحہ عمل پر فیصلہ کرنا ہوگا۔تا ہم یہ سو چ سوچ کر عقل قا صر ہے کہ آ خر کہ بھارت مذاکرات کیوں نہیں کرتا، پھر پلوامہ کا وقعہ ہوا اور ان کے جیٹ طیاروں نے ہمارے درخت شہید کیے، تب علم ہوا کہ بھارتی حکمران بات چیت نہیں بلکہ یہ انتخابات جیتنا چاہتے تھے۔ بھارتی اینکر ارنب گوسوامی کی واٹس ایپ لیکس سے ان کے عزائم بے نقاب ہوئے کہ پلوامہ واقعہ ایک طے شدہ منصوبہ تھا۔ یورپی ڈس انفو لیب نے بھی بھارت کی طرف سے پاک فوج اور میرے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے 6 سو جعلی اکائونٹس کا بھانڈا پھوڑا۔ اب آر ایس ایس کا مودی نظریہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ یہ نظریہ جس ملک میں بھی پروان چڑھا اس ملک کا نقصان کیا۔ مودی کی ہندوتوا پالیسی نے بھی بھارت کی تباہی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اگر کشمیر کے معا ملے پر پا کستان کے کر دار کی با ت کر یںتو حقیقت یہ ہے کہ پا کستان نے اقوام متحدہ عالمی رہنمائوں او رمیڈیا سمیت ہر جگہ پر ان کے لیے آواز بلند کی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے حوالے سے تین مرتبہ بات کی۔ اس با رے اگر وطنِ عز یز کی سیا سی پا رٹیو ں کے مو قف کی بات کی جا ئے تو تحر یکِ انصا ف کے سر براہ وز یرِاعظم عمر ان خا ن نے کہا کہ بھارت کو ہمیشہ باور کرایا کہ کشمیر کا مسئلہ ظلم سے حل نہیں ہوگا۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں بھی کوئی قوم کھڑی ہوجائے تو بڑی سے بڑی فوج بھی ناکام ہوجاتی ہے۔ امریکہ سپرپاور ہونے کے 

باوجود ویتنام میں نہیں جیت سکا۔ انہوں کہ کہا کہ تیس لاکھ قربانیاں دے کر ویت نام آزاد ہوا۔ افغانستان میں بھی سپرپاور کامیاب نہیں ہوسکی۔ الجزائر میں فرانس ظلم کے باوجود کامیاب نہیں ہوا۔ ہندوستان کشمیر میں مزید فوج بھی لے آئے لیکن کشمیریوں نے غلامی قبول نہ کرنے کا عزم کیا ہوا ہے، یہاں پیدا ہونے والے بچوں میں بھی آزادی کا جذبہ ہے۔ ایک لاکھ کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے، بھارت ان سے کبھی جیت نہیں سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے اقدام سے پہلے جو تھوڑے بہت کشمیری بھارت کے حق میں تھے وہ بھی اب اس کے خلاف ہوچکے ہیں۔ اب کوئی بھارت نواز کشمیر میں الیکشن جیت نہیں سکتا۔ انہو ں نے مز ید کہا کہ سٹیزن شپ ایکٹ سے بھارتی مسلمان تنگ تھے، اب کسان بھی بھارتی حکمرانوں سے تنگ ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریم ﷺ تمام عالم کے لیے رحمۃ للعالمین بن کر آئے۔ انہوں نے تمام انسانوں کو اکٹھا کیا، ان جیسا لیڈر نہ کوئی آیا نہ کوئی آئے گا۔یہ کہ ہم نبی کریم ﷺ کی سنت پر چلنے والے ہیں، سارے صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے جو بمباری سے اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں، ان کی مشکلات میں ان کی پوری مدد کریں گے۔ کشمیر پر اپنے ٹویٹر پیغام میں بھی وزیراعظم نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی منزل اب زیادہ دور نہیں، پاکستان کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملنے تک ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیری عوام 5 اگست 2019ء سے غیرانسانی فوجی محاصرے او رمواصلاتی پابندیوں کا شکا رہیں۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کے حوالے سے بھارتی اقدامات مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے بھارت کے ناپاک ارادوں کی مذمت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل کے حوالے سے غیرقانونی قوانین کا اجرا، جائیداد کے قانون میں تبدیلی اور اردو زبان کا درجہ کم کرنے جیسے اقدامات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے بین الاقوامی قوانین، بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باہر کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد ہونے کے لیے مراعات دی جارہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ سے زائد آبادی کو ان کے گھروں میں قیدی بنادیا گیا ہے، 9 لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو خفیہ مقامات پر تشدد اور اغوا کے ذریعے نشانہ بنایا جارہا ہے، پیلٹ گنز کا اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے او رجعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ بھارت کو پیغام دیا چاہتی ہیں کہ تم جتنے چاہے نوجوانوں کو پابند سلاسل کردو، نوجوانوں کو بدسلوکی کا نشانہ بناؤ، بزرگوں کو قید رکھو، لیکن یاد رکھو ایک دن کشمیر پاکستان بنے گا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور پورے مقبوضہ کشمیر کو جیل بنادیا گیا ہے۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف سیاست کرتے ہیں لیکن مودی جیسی حرکت نہیں  کریں گے۔ پیپلز پارٹی او رکشمیر کے عوام کا آج کا نہیں، 3 نسلوں کا ساتھ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کشمیر کی آزادی کے لیے ہزار سال بھی جنگ لڑیں گے، بی بی شہید نے کہا تھا جہاں کشمیریوں کا پسینہ وہاں ہمارا خون گرے گا۔ ماضی کے وزرائے اعظم نے کشمیر کی آواز دنیا بھر میں پہنچائی۔ آج دنیا تسلیم کررہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی ہورہی ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر کی طرح امارات، یورپی یونین، آسٹریلیا او ردیگر ممالک میں بھی کشمیریوں کی حمایت میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام قابض بھارتی فورسز کے بدترین لاک ڈائون میں ریاستی جبر اور ظلم برداشت کررہے ہیں۔ اس انسانی المیے کو ختم کرنے کا وقت ہے۔ تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں اور یو این کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیان ٹویٹ کیا جس میں آرمی چیف نے کہا کہ وہ کشمیریوں کو ان کی حقیقی جدوجہد پر سلام پیش کرتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے کشمیری عوام بھارت کا بدترین ریاستی ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں برداشت کر رہے ہیں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام قابض بھارتی فورسز کے بدترین لاک ڈائون کا سامنا کر رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا حل ہمارے تدبر، جمہوری کمٹمنٹ، اجتماعی سیاسی دانش اور ہماری موثر سفارت کاری کا امتحان ہے جس میں سرخ روئی کے لیے سیاسی حکمت عملی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر