Rana Zahid Iqbal columns,urdu columns,epaper
19 فروری 2021 (11:39) 2021-02-19

ہماری ہر طرح کی انتخابی سیاست میں شروع سے ایک ہی مسئلہ کار فرما رہا ہے کہ انتخابی عمل سے بد عنوانی کا کیسے خاتمہ کیا جائے؟ یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں بالخصوص سینٹ کے انتخابات میں پیسے کے بل بوتے پر ارکانِ اسمبلی کے ووٹ خریدے جاتے رہے ہیں۔ اس سے جہاں ایوانِ بالا کا تقدس مجروح ہوا وہیں کرپشن کلچر کو بھی فروغ حاصل ہوا۔ اب سینٹ کے انتخابات میں بھی وہی صورتحال درپیش ہے کہ سینٹ میں ووٹوں کی خرید و فروخت کو کیسے روکا جائے۔ سینٹ کے انتخابات میں سیکرٹ یا اوپن بیلٹ کا مسئلہ تحریکِ انصاف کی حکومت کی اس خواہش کا نتیجہ ہے کہ انتخابات میں سیکرٹ کی بجائے اوپن بیلٹ کے ذریعے ہونے چاہئیں جب کہ پی ڈی ایم میں شامل حزبِ اختلاف کی جماعتیں اوپن بیلٹ کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سیکرٹ بیلٹ کی صورت میں تحریکِ انصاف اور اس کی اتحادی پارٹیوں کے کئی ارکان حکومتی امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے اس لئے حکومت ووٹنگ اوپن کرانے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے جب کہ حکومت کو یقین ہے کہ خفیہ ووٹنگ ہوئی تو بھی جیت اسی کی ہو گی۔ روایتی طور پر حکومت کی بات درست معلوم ہوتی لیکن یہ بات ملکی مفاد میں نہیں ہے کیونکہ موجودہ جمہوری نظام میں اقتدار تک پہنچنے کے لئے یہی لین دین جاری رہا تو ملکی سیاست میں کرپشن کا رجحان ختم نہیں کیا جا سکے گا۔ اس لئے جیت کسی کی بھی ہو سینٹ انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کرپشن کے خاتمے کا عہد کر کے سیاست کے میدان میں اترے تھے اور اسی بنیاد پر انہیں عوام میں پزیرائی بھی حاصل ہوئی تاہم بدقسمتی سے وہ سینٹ کے انتخابات میں کرپشن کلچر کے تدارک کے لئے مٔوثر کردار ادا نہ کر پائے اور سینٹ کے 2018ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے بھی بعض نامزد امیدوار ووٹوں کی خرید و فروخت میں ملوث پائے گئے۔ بہر حال عمران خان نے ان اراکینِ اسمبلی کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے فارغ کر دیا۔ عمران خان کا بظاہر تو یہ مشن ہے کہ وہ اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اسی لئے وہ ملک میں گزشتہ چالیس سالوں سے مروجہ سینٹ کے انتخابات میں خریدو فروخت کے طریق کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کے رویے میں صداقت نظر آتی ہے کیونکہ انہوں نے مسلم لیگ کے دور ِ حکومت میں اوپن بیلٹ کے لئے آئین میں تبدیلی کے لئے ساتھ دینے کا عندیہ دیا تھا۔ بالفرض اگر ان کی نیت ٹھیک نہیں بھی ہے اور وہ اپنے اراکین کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر بھی یہ ملکی سیاست کا رخ درست کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے پاس اچھا موقع ہے کہ جمہوریت کے مفاد میں سیاست کا قبلہ درست کر لیں۔ اس بات کو زیادہ وقت نہیں گزرا جب سینٹ کے انتخابات میں ایسی ہی خرید و فروخت ہوئی تھی اور اپوزیشن نے بہت واویلہ کیا تھا راست قدم کوئی بھی اٹھائے وہ قابلِ تعریف ہے۔ اس سے سینٹ کے انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی قائم ہونے والی روایت کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی۔جو پیسے لے کر سینیٹر منتخب ہوں گے ان سے کیا اچھائی کی توقع کی جا سکتی ہے ایسے لوگ پھر پیسے لے کر کچھ بھی کر سکتے ہیں، عین ممکن ہے کہ پیسوں کی خاطر ملکی مفاد کو بھی داؤ پر لگا دیں، کم از کم اپنے پیسے تو ضرور پورے کرنے کی کوشش کریں گے۔              

ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک سیاسی سمت کا درست تعین نہیں ہو سکا، ایک غیر مستحکم سیاسی نظام نے کرپشن کا زہر گھول دیا ہے۔ ایک مضبوط سیاسی نظام اور قانون کی حکمرانی ہی سے اس ناسور کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے غیر مستحکم سیاسی نظام کی صورتحال بڑی عجیب ہے اگر آپ انتخابات جیت جائیں تو الیکش شفاف اور اگر انتخابات ہار جائیں تو پھر دھاندلی کا شور مچ جاتا ہے۔ جو بھی جماعت اپوزیشن میں ہوتی ہے اس بات پر بڑا واویلہ کرتی ہے لیکن کبھی اپوزیشن نے اس کے لئے کوئی شعوری کوشش نہیں کی۔ پی ڈی ایم انتخابات 

میں دھاندلی اور سلیکشن کا رونا تو رو رہی ہے لیکن اب اگر ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے پی ٹی آئی عملی اقدامات کرنا چاہ رہی تو اس کے راستے میں بھی روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستان میں انتخابات کی تاریخ دھاندلی کے الزامات سے بھری پڑی ہے۔ موجودہ حکومت اگر سینٹ کے انتخابات میں بہتری لا کر نظام کو بہتر کرنا چاہ رہی ہے تو اپوزیشن کو اپنے مفادات کو پسِ پشت ڈال کر عمران خان کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ اس کو ابتداء سمجھا جائے اور انتخابات کے بعد اپوزیشن حکومت کو باور کرا سکتی ہے کہ ہم نے سینٹ کے انتخابات میں آپ کا ساتھ دے کر ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکا ہے اور اب آپ پر لازم ہے کہ آپ انتخابی نظام میں مزید تبدیلیوں کے ذریعے خامیوں کو بھی دور کریں۔

پاکستانی قوم کے لئے سینٹ انتخابات کے حوالے سے منتخب نمائندوں کی ضمیر فروشی کے امکانات خبروں اور تجزیوں کے حوالے سے ملکی سیاسی ماحول انتہا کا مایوس کن ہے۔ امیدواروں کی ضمیر فروشی کا مسئلہ ہماری قومی سیاسی جماعتوں کی مجموعی بیمار، غیر جمہوری اور اسٹیٹس کو کی حامل مخصوص سوچ کا عکاس ہے ۔ اب ایک بار پھر پی ڈی ایم اس بارے میں حد درجہ پر اعتماد ہے کہ وہ تین مارچ کو ایوانِ بالا کے انتخابات میں  فتح سے ہمکنار ہو گی گو کہ اس اعتماد کے محرکات اور یقین تو خریدو فروخت کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے۔ کیا ماضی کی غلطیوں سے نجات حاصل نہیں کی جا سکتی ہے اور اگر یہی حالات رہے تو جمہوریت کسی نہ کسی دن ایک بار پھر آمریت کی گرفت میں آ جائے گی۔ آمریت بڑے روپ بدلتی رہتی ہے مگر وہ کوئی بھی لبادہ اوڑھ لے اس کا قد وہی رہتا ہے۔               

پاکستان کے سیاست دانوں کو سنجیدہ رویہ اپنانا چاہئے۔ صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے، غور و فکر سے اختلافات اور مسائل کو حل کرنا چاہئے۔ اگر کوئی سیاست دان یا لیڈر چاہے کہ اپنی سوچ کو دوسرے پر مسلط کر دے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ قومی مفاد میں خواہشات کو اور سوچ کو قربان کرنا پڑتا ہے، اس طرح قوم کی تعمیر ہو سکتی ہے۔ اپوزیشن کا طرزِ فکر اور سیاسی سوچ منفی نہیں ہونی چاہئے، اسے چیزوں کو صحیح منظر نامے میں دیکھنا چاہئے اور اپنے دلوں میں پلنے والی خواہشات کو پورا ہوتے دیکھ کر بغلیں نہیں بجانی چاہئیں۔ ٹکراؤ کی روش اور تصادم کے نظریات سے دور رہنا چاہئے۔ اس لئے کہ اس سے منفی سیاسی روئیے جگہ پاتے ہیں قوم خانوں میں بٹ جاتی ہے۔ ٹکراؤ کی سیاست خسارے کا سودا ہے پاکستان نے 73 سالہ تاریخ میں اس کی وجہ سے بہت نقصانات اٹھائے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی سوچ کو بدلا جائے۔ سیاسی کلچر میں تبدیلی لائی جائے اور پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کیا جائے۔ وقتی جذبات، احساسات، ذاتی مفادات سے بلند ہو کر سوچا جائے۔ ملک کی بقاء اور عوام کے اطمینان کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی قائدین ذمہ دارانہ گفت و شنید کے ذریعے اپنے اختلافات دور کریں اور ملک کو یاس و حزن کی لعنت سے نجات دلائیں۔


ای پیپر