Professor Mazhar columns,urdu columns,epaper
19 فروری 2021 (11:36) 2021-02-19

مفکر نے کہا ’’جو قوم اپنی تاریخ سے ناآشنا ہو وہ اُس شخص کی مانند ہے جو اپنا حافظہ کھو بیٹھتا ہے‘‘۔ ہمارا المیہ بھی یہی کہ ماضی پر نظر نہ مستقبل کی فکر، ہم حال میں جیتے ہیں مگر بدحال۔ یہ ہمارے مقدر کی خرابی نہیں، انتخاب کی ’’خوبی‘‘ ہے کہ جنہیں ہم شعوروفکر کے ماہِ تاباں سمجھتے ہیںاُن کے ورقِ خیال بصارتوں اور بصیرتوں سے محروم۔ اُن کی ہوسِ جاہ وحشم اُنہیں لازمۂ انسانیت سے تہی کرنے کے لیے کافی۔ مگر کیا کریں ہمارا اجتماعی ضمیر تو جذبات میں گندھا ہوا جہاں وفاداری کو اولیت، راست گوئی کو نہیں۔ یہ جذباتیت ہماری آستینوں کے پالے ہوئے’’ بتوں‘‘ پر تنقید کا ایک لفظ بھی گوارا نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا کاسۂ اُمید اور کشکولِ طلب ہمیشہ خالی ہی رہتاہے۔ انہی عقیدتوں کے زیرِاثر ہم بانیٔ پاکستان کے فرمودات فراموش کر چکے، اگر کچھ یاد ہے تو صرف یہ کہ ’’اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان‘‘ لیکن قائد کی جیب کے کھوٹے سکوں کا انتخاب کرکے ہم یہ احسان بھی اتار دیتے ہیں۔ بابائے قوم نے 11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں فرمایا کہ جان ومال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ رشوت اور کرپشن لعنت ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔ بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی مہلک سماجی برائیاں ہیںجن پر عدل وانصاف اور کڑے احتساب سے ہی قابو پایا جا سکتاہے۔ اقرباء پروری اور احباب نوازی ریاست کی ترقی وخوشحالی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ پاکستان قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار، اقلیتوں کے احترام اور آزادیٔ صحافت کی بنیاد پر چلایا جائے گا۔  

قائد کے اِن فرمودات کی روشنی میں اگر ہم اپنی ذات کا تجزیہ کریں تو سوائے ندامت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ پاکستان میں قانون زورآور کے گھر کی لونڈی در کی باندی۔ جمہوری اقدار کا یہ عالم کہ تشکیلِ وطن سے اب تک آدھا وقت آمر نگل گئے اور باقی آدھا جمہوری آمر۔ یوں تو ہم آمریت پر تبرہ بھیجتے ہوئے اِسے بلائے بے درما ں سمجھتے ہیںلیکن کبھی غور کیا کہ جمہوری ادوار میں بھی قوم کا بھلا نہیں ہوتا۔ آمریت کے پنجۂ استبداد سے جب بھی چھٹکارا ملا قوم جمہوری آمروں کے پنجۂ خونی کا شکار ہوئی، جمہوریت کے ثمرات تو کبھی نصیب ہی نہیں ہوئے۔ کیسی جمہوریت، کون سے انسانی حقوق اور کہاں کی آزادی، یہ سب تو جمہوری 

شاہوں کی بھینٹ چڑھ چکے۔ نرگسیت کا شکار جمہوری شاہ انانیت کا خول توڑ کر باہر نکلنے کے بجائے تنقید کا ہر حرف، حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے کے درپے۔ وجہ یہ کہ ’’نازک مزاج شاہاں تابِ سخن نہ دارد‘‘۔ جو کہا وہ حرفِ آخر اور برہان قاطع۔ 

صحافت ایمان وایقان کی سوداگری میں ڈھل چکی۔ مدح سرائی ہمیشہ شاہوں کو مرغوب۔ اِسی لیے ضمیر کا سودا کرنے والے شاہوں کے مقربین اور صحافت کو سیادت سمجھنے والے منصورِ حقیقت سرِدار۔ کتنے ہی جانیں گنوا بیٹھے لیکن دستِ قاتل سلیمانی ٹوپی اوڑھے ہوئے۔ پرویز مشرف کی مہربانی سے الیکٹرانک میڈیا نے اتنی ترقی کی کہ اب کھمبیوں کی طرح جابجا اُگے ہوئے اینکرز اور قلمکار۔ جسے کچھ نہیں آتاوہ مائیک پکڑ کر رپورٹر بن جاتاہے۔ اب تو ماشاء اللہ گھر گھر یوٹیوب چینلز کھل چکے، سوشل میڈیا کی بے باقیاں الگ۔ خبر کی بے اعتباری کا یہ عالم کہ ہر چینل کی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ۔ 

آزادیٔ اظہار ہر کہ ومہ کا بنیادی حق جس کا نظارہ پوری قوم نے پچھلے دنوں شاہراہِ دستور پر اُس وقت کیا جب نانِ جویں کے محتاج سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کیا۔ پرویزمشرف کی جوتیاں سیدھی کرنے والے وزیرِداخلہ شیخ رشید نے رعونت آمیز لہجے میں کہا ’’کافی عرصے سے پڑی آنسو گیس کا لوگوں پر ٹیسٹ ضروری تھا اِس لیے احتجاج کرنے والوں پر تھوڑی سی گیس کا ٹیسٹ کیا گیا‘‘۔ گویا آنسو گیس کی اثرپذیری دیکھنے کے لیے بھی انسانی جسم درکار تھے۔ شیخ رشید کے اِس ٹیسٹ میں کچھ سرکاری ملازم زخمی ہوئے مگر ایک پولیس کا اہلکار جان کی بازی ہار گیا۔ سوال یہ کہ اُس اہلکار کے قتل کا ذمہ دار کون، شیخ رشیدیا اُس کو وزارتِ داخلہ کا منصب عطا کر نے والا۔ شیخ رشید کے اِس وحشیانہ بیان میں پی ڈی ایم کو یہ دھمکی مضمر تھی کہ اگر اُس نے شاہراہِ دستور پر آنے کی جرأت کی تو یہی گیس اُن پر استعمال کی جائے گی۔ ایک ٹی وی رپورٹر آنسو گیس کا شیل دکھاتے ہوئے بتا رہی تھی کہ یہ آنسو گیس زاید المیعاد ہے کیوں کہ اِس پر 2016ء کی تاریخ درج ہے اور یہ گیس زیادہ سے زیادہ چار سال تک استعمال کی جا سکتی ہے۔ کراچی کو خونم خون کرنے کے بعد جب آمر پرویزمشرف مُکے لہرا لہرا کر اپنی اندھی طاقت کا اظہار کر رہا تھا اُس وقت یہی شیخ رشید سٹیج سیکرٹری تھا۔ یہ وہی شیخ رشید ہے جو تحریکِ انصاف کے جلسوں میں جلاؤ، گھیراؤ، مارو، مرجاؤ جیسے نعرے لگایا کرتا تھا۔ جس ملک کی وزارتِ داخلہ شیخ رشید جیسے شخص کے پاس ہو، وہاں جان ومال کا تحفظ چہ معنی دارد۔     

قائدِاعظمؒ نے اقرباء پروری اور احباب نوازی کو ایسی برائی قرار دیاجو ریاست کی ترقی وخوشحالی میں رکاوٹ بنتی ہے لیکن ہمارے ہاں اقرباء پروری اور احباب نوازی کا چلن عام۔ استثنا کسی کو بھی نہیںمگر موجودہ حکمرانوں نے تو ساری حدیں ہی پار کر ڈالیں۔ کہا گیا کہ وفاقی کابینہ سترہ وزراء سے زیادہ نہیں ہوگی لیکن یہی کابینہ پچاس سے تجاوز کرتی ہوئی جس میں مشیروں اور معاونین کی بھرمار، سبھی وزیرِاعظم کے احباب یا اے ٹی ایمز۔ فیصل واوڈا کا دہری شہریت کا مقدمہ چار سال سے عادلوں کے عدل کے انتظار میں لیکن میزانِ عدل تو اُس کے ہاتھ میں جس کا فیصل واوڈا نفسِ ناطقہ۔ اب اُسے  سینٹ کی ٹکٹ سے نوازا گیاہے، وجہ یہ کہ خان کی کابینہ میں سب سے زیادہ مُنہ پھٹ وہی جسے اخلاقیات چھو کر بھی نہیں گزری۔ اُس کی یہی خوبی خان کو مطلوب ومرغوب۔ ایک فیصل واوڈا ہی کیایہاں توکچھ ارب پتیوں اور کچھ دوسری سیاسی جماعتوں سے نکلے ہوئے بھنوروں کا مینابازار لگا ہے۔ وزیرِخزانہ حفیظ شیخ پہلے پرویزمشرف اور پھر پیپلزپارٹی کابینہ کی رونقیں بڑھاتے رہے، ثانیہ نشتر پاکستانی سیاست میں نووارد۔ علی ظفر کے والد پرویزمشرف کے ساتھی فیصل سلیم کی سب سے بڑی خوبی یہ کہ وہ بڑی سگریٹ انڈسٹری کا مالک اور کئی لوگوں کا اے ٹی ایم۔ سیف اللہ ابڑو ایسا ارب پتی جس کے دَرِ دولت سے کئی مستفید ہوتے ہیں۔ایسے ہی کئی دوسرے بھی۔ 

 عدل کے اونچے ایوانوں نے تین بار وزیرِاعظم بننے والے میاں نوازشریف کے کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے چھ ماہ کی مدت مقرر کر دی لیکن زورآوروں کے محبوب وزیرِاعظم کا فارن فنڈنگ کیس چھ سال سے معلق۔ کہا امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے کہ اگر کسی کی وجاہت کے خوف سے عدل کا پلڑا اُس کی جانب جھُک جائے تو قیصروکسریٰ کی حکومت اور اسلامی حکومت میں کیا فرق ہوا۔ جہاں ووٹ کی عزت تار تار ہو جائے، عدل پر بھروسہ ختم ہوجائے، عمرِعزیز دیدہ ونا دیدہ قوتوں کے حصار میں سسکنے لگے اور جرم کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگے وہاں امانت ودیانت، اخوت وبرداشت اور انصاف ومساوات کی توقع محض احمقوں کی جنت میں بسنے کے مترادف۔


ای پیپر