Riaz Chaudhry columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
19 فروری 2021 (11:34) 2021-02-19

 پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر نے سی پیک کو علاقے کی ترقی اور تعاون کا شاہکار منصوبے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف پاکستان چین بلکہ پورے خطے کی تقدیر بدل دیگا۔سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ( بی آر آئی) منصوبے علاقائی ترقی خصوصاً پاکستان، چین اور ایران کے لیے انتہائی فائدے مند ثابت ہوں گے۔ یہ منصوبے خطے کی تقدیر بدل کر رکھ دیں گے۔

سی پیک منصوبوں کی حمایت کا غیر معمولی اقدام تہران حکومت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اہم اشارہ ہے۔ کیونکہ ایرانی سفیرکا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سی پیک اور بی آر آئی منصوبے خطے کی ترقی اور تعاون کے لیے انتہائی موزوں پلیٹ فارم ہیں۔ خصوصاً اسلامک ربپلک آف ایران، اسلامی رپبلک آف پاکستان اور پیپلز رپبلک آف چائنا، یہ منفرد ترقی کے منصوبے نہ صرف ہمارے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ علاقائی تعاون و ترقی کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے لیے سود مند ہیں۔

 ایران نے گزشتہ برس چاہ بہار ریلوے لائن منصوبے سے بھارت کو بے دخل کر کے خود اسے مکمل کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے بھارت اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ 4 سال پہلے طے پایا تھا اور منصوبے کے تحت افغان سرحد پر چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائن تعمیر ہونی تھی لیکن بھارت کی جانب سے پروجیکٹ پر کام شروع کرنے اور فنڈز کی فراہمی میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی تاہم ایران یہ پراجیکٹ مارچ 2022 تک خود مکمل کرے گا۔اس اہم منصوبے سے بھارت کی علیحدگی کے بعد ایران نے پاک چین راہداری اور بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ میں دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔

 شروع دن سے ہی ایران کی خواہش تھی کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کیساتھ سی پیک میں شامل ہوجائے لیکن بھارت نے ایرانی قیادت کو چاہ بہار بارے سبز باغ دکھا کر سی پیک سے دور رکھا ہوا 

تھا۔ اب ایرانیوں کی انکھوں کے سامنے سے بھارتی مکاری کا پردہ ہٹا ہے تو انہوں نے پہلی فرصت میں سی پیک میں شمولیت کا عندیہ دے دیا ہے۔ 

دنیا کے دوسرے حصوں کے برخلاف جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون سرحدی تنازعات اور متصادم تزویراتی ترجیحات کا شکار رہا ہے۔2013 میں اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی۔آر۔آئی) منصوبے کو متعارف کرنے کے بعد سے چین نے جنوبی ایشیا میں معاشی مفادات کی تکمیل کا آغاز کیا۔ پاکستان چین کا پہلے سے ہی قدرتی طور پر معاشی اور دفاعی اتحادی تھا جبکہ جنوبی ایشیائی خطہ تزویراتی طور پر مشرق وسطیٰ کے تجارتی راستوں کے قریب واقع ہے۔ چین کے بی-آر-آئی اور سی پیک جیسے منصوبے اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ ایران اور افغانستان، جنہوں نے ماضی میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں دیکھے، نے بھی سی پیک میں دلچسپی ظاہر کی ۔ اپنے طور پر چین اور پاکستان دونوں نے سی پیک میں افغانستان کی شرکت چاہی ہے تاکہ نہ صرف افغانستان کا بیرونی امداد پر انحصار کم کیا جاسکے بلکہ اس عمل سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی بہتر ہو سکیں گے۔ اسی لئے سی پیک میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ نہ صرف علاقائی شراکت داری کا باعث بن سکے بلکہ پاکستان کے معاشی مفادات بھی حاصل کر سکے۔

سی پیک منصوبہ دنیا میں جاری سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے۔56 ارب ڈالر مالیت کا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کو تیز رفتار اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر لے جائیگا۔طویل، کشادہ اور محفوظ سڑکیں، توانائی کے منصوبے، انڈسٹریل پارکس اور گوادر بندرگاہ کا منصوبہ، جس کی تکمیل دہشتگردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ پاکستان کیلئے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ سی پیک کے قلیل المدتی منصوبے دو تین سال میں جبکہ طویل المدتی منصوبے 2020ء تا 2030ء تک مکمل ہو جائیں گے۔ قراقرم ہائی وے کو بہتر بنانے کے ساتھ ایم فور نیشنل موٹر وے پر بھی چینی انجینیئرز دن رات کام میں مصروف ہیں۔ ریلویز اور لائٹ ریلز کی اپ گریڈیشن بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔ منصوبے کا محور گوادر ہے جہاں سی پیک منصوبہ بحیرہ ہند سے ملتا ہے۔ یہیں سے تمام وسائل پاکستان کے مرکز اور مغربی چین کو جائیں گے۔ پاکستان اور چین میں تیار ہونیوالا مال دنیا بھرمیں بھیجا جائیگا۔جہاں تک سی پیک کے فوائد کا تعلق ہے، اسکے اثرات کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی سے گوادر تک بننے والی شاہراہ آج کل مصروف نظر آتی ہے۔ بے شمار لوگ ایسے ہیں جو روزانہ ہی کراچی سے گوادر جاتے ہیں۔ وہ صبح 4بجے گھروں سے نکلتے اور صبح 8بجے تک گوادر پہنچ جاتے ہیں۔

سی پیک پاکستان کے لیے گیم چینجر بننے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ یہ اتنا بڑا منصوبہ ہے کہ بروقت اور اعتبار سے جامع تکمیل کی صورت میں ملک کا معاشی جغرافیہ تبدیل کردے گا۔ اس سے قبل جس منصوبے نے پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر معاشی اور معاشرتی تبدیلیوں کی راہ ہموارکی تھی وہ انڈس واٹر ورکس منصوبہ تھا جس کے تحت منگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہزاروں کلو میٹر طوالت کی نہریں بھی بنائی گئیں۔ اس کے نتیجے میں اب وہاں سال میں دو فصلیں ہوتی ہیں جہاں پہلے گھاس کا تنکا بھی نہ اگتا تھا اور جہاں1970 کے عشرے تک ویرانے تھے وہاں اب ہنستے بستے شہر ہیں۔

سی پیک سے ہونے والے سب سے زیادہ غیر معمولی اور دیرپا فائدے بلوچستان اور جنوبی خیبر پختونخواہ کے محرومی کے شکار اضلاع میں رہنے والے لوگوں کو حاصل ہوں۔مصنوعات اور خدمات کی قومی مارکیٹ سے ان اضلاع کے ملاپ سے ان کی ماہی گیری، کان کنی، لائیواسٹاک، زراعت اور دیگر سرگرمیاں اقتصادی طور پر قابلِ عمل بنیں گی۔ یوں روزگار اور ملازمت کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور اس طرح انہیں غربت سے نکلنے میں مدد ملے گی۔


ای پیپر