آئی ایم ایف کی تعریفیں اور وزیراعظم کا غصہ
19 فروری 2020 2020-02-19

وزیراعظم عمران خان کومیڈیا والوں پر غصہ ہے اور خاص طور پر ان صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور اینکرز پر غصہ ہے جو مسلسل مہنگائی کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔ یہ ’’صالح اور ایماندار حکومت‘‘ کی کامیابیوں اور کارناموں کو اجاگر کرنے کی بجائے ہر بات میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں۔ ان کو ملک میں مہنگائی کے علاوہ اور کوئی مسئلہ ہی نظر نہیں آتا۔ کیا ہوا اگر بجلی کا بل 17 ماہ میں دوگنا ہو گیا ہے؟ خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ افراط زر، 14.6 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ خواک کا افراط زر 25 فیصد ہو گیا ہے۔ چینی کی قیمت 85 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ آٹا 70 روپے کلو میں مل رہا ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ اس سب میں بھلا وزیراعظم کا کیا قصور ہے۔ ان کی نیت تو صاف ہے وہ تو غریبوں اور ناداروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تو برا ہو مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کا جنہوں نے حکومت کی اجازت کے بغیر ہی چیزیں مہنگی کر دی ہیں۔ واپڈا نے بجلی مہنگی کر دی ہے۔ سوئی گیس کمپنیوں نے گیس کے نرخ بڑھا دیئے ہیں۔ دکانداروں نے خوراک مہنگی کر دی ہے اور چند عاقبت نااندیش اور نادان صحافی خواہ مخواہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ’’صاف شفاف حکومت‘‘ کو لتاڑتے رہتے ہیں۔

لگتا ہے کہ یہ صحافی، کالم نگار اور اینکرز آئی ایم ایف کی سہ ماہی ریویو رپورٹیں نہیں پڑھتے۔ بقول مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے ’کہ جن لوگوں کوآئی ایم ایف کے برآمدے تک میں گھسنے کی اجازت نہیں ملتی وہ آئی ایم ایف اور حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ آئی ایم ایف کے برآمدے اور دفاتر تک رسائی نہیں رکھتے تو کم از کم آئی ایم ایف کی رپورٹیں ہی پڑھ لیا کریں۔ ان کو یقینا افاقہ ہو گا‘۔

آئی ایم ایف حکومت کی پالیسیوں کی تعریفیں کر رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں ملک کوصحیح سمت میں لے کر جا رہی ہیں۔ آئی ایم ایف حکومت کی تعریفیں کر رہا ہے کہ یہ حکومت صدق دل سے اس کے پروگرام پر عمل کر رہی ہے۔ معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔ کیا ہوا اگر تھوڑی بہت مہنگائی ہو گئی ہے، کیا ہوا اگر بے روزگاری اور غربت بڑھ گئی ہے، کیا ہوا اگر غریبوں کے لئے دوقت کی روٹی کھانا مشکل ہو گیا ہے، علاج اور دوائی مہنگی ہو گئی ہے۔ ان سب چیزوں کوبھول جائیں اور آئی ایم ایف کی باتوں پر کان دھریں۔ جب وہ کہہ رہے ہیں کہ معیشت درست سمت میں سفر کر رہی ہے، معاشی مشکلات ختم ہوا چاہتی ہیں تو پھر ناسمجھ کالم نگاروں اور صحافیوں کی تنقید کیا معنی رکھتی ہے جو خواہ مخواہ وزیراعظم کا موڈ خراب کر دیتے ہیں۔

یہاں پر صرف ایک مسئلہ ہے، معمولی نوعیت کا چھوٹا سا مسئلہ۔ وزیراعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ ان کی ’’صاف شفاف‘‘ حکومت ملک کی پہلی حکومت ہے جس

کی آئی ایم ایف والے تعریفیں کر رہے ہیں۔ اس کی پالیسیوں کو سراہ رہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب ایسا نہیں ہے۔ ویسے تو یہ چھوٹا منہ اور بڑی بات والا معاملہ ہے مگر حقائق پر بات کرنا ضروری ہے۔ آئی ایم ایف تو ہر حکومت کی جو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے اس کی شرائط کو لاگو کرتی ہے اس کی تعریف کرتا ہے۔ ہر وزیراعظم اور حکومت آئی ایم ایف کی تعریفوں سے یہ نتیجہ اخذ کر لیتی ہے کہ بس پاکستان کی معیشت مشکلات سے نکل کر تیزرفتار اور بلند شرح ترقی کوحاصل کرنے والی ہے۔ بس تین سال کے معاہدے اور شرائط پر عمل درآمد کر لیں پھر اس کے بعد خوشحالی، معاشی ترقی اور صنعت کاری کے ختم نہ ہونے والے دور کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ چند سالوں یا مہینوں کی مشکلات ہیں اس کے بعد تمام مشکلات ختم ہو جائیں گی۔ جب آئی ایم ایف کے ماہرین کی رس بھری میٹھی باتیں اقتداری کانوں کو بھلی لگ رہی ہوتی ہیں۔ ان خشک ماہرین معیشت کی آوازیں اور سپاٹ لہجے اس وقت مہدی حسن، محمد رفیع اور کشور کی مدھر آوازوں کی طرح کانوں میں رس گھول رہی ہوتی ہیں۔ اس کیفیت میں جو کوئی بھی مہنگائی کی بات کرتا ہے بے روزگاری اور غربت کی بات کرتا ہے وہ واقعی زہر لگتا ہے۔ اس پر غصہ کرنا تو جائز ہے۔

ہر حکومت سہ ماہی جائزہ رپورٹس کواپنی معاشی پالیسیوں کے درست ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ آئی ایم ایف والوں کی یہ خوبی ہے کہ یہ قرض لے کر ان کی شرائط اور پالیسیوں پر عمل کرنے والی ہر حکومت کی دل کھول کر تعریفیں کرتے ہیں۔ بس ان کا ایک ہی مسئلہ ہے کہ یہ سابق حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں۔ اپنی پالیسیوں کے نتائج کا الزام بھی ماضی کی حکومتوں کو قرار دیتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان پر یہ راز اس وقت کھلے گا جب وہ سابق ہوں گے۔ ویسے اگر وہ جاننا چاہیں تو وزارت خزانہ سے مسلم لیگ (ن) اور جنرل مشرف کے دور کی سہ ماہی ریویو رپورٹیں منگوا کر دیکھ لیں انہیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔

جب اس ملک کے خزانے کی چابی شوکت عزیز کے پاس تھی جو پہلے وزیر خزانہ اور بعد میں وزیراعظم بنے تو ان کی حکومت کے بارے میں جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی رپورٹیں دیکھ لیں۔ اس وقت ڈبل بجٹ گروتھ کے بہت چرچے تھے۔ پاکستان کی معیشت بلند شرح ترقی کے کبھی ختم نہ ہونے والے سفر پر گامزن ہو چکی تھی مگر محض 6 ماہ میں معیشت دھڑام سے زمین بوس ہو گئی تھی۔ معیشت تو جنرل مشرف کے اقتدار کے آخری سال میں بحرانی کیفیت سے دوچار ہو چکی تھی۔ ان کے رخصت ہوتے ہی 8 فیصد کی جی ڈی پی گروتھ بھی ایسے ہی غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

زیادہ دور نہ جائیں بس وزیر خزانہ اسحق ڈار کے دور کی رپورٹیں پڑھ لیں۔ آئی ایم ایف کیسے تعریفیں کر رہا تھا۔ پاکستانی معیشت 6 فیصد کی شرح ترقی کوچھونے والی تھی۔ پھر مسلم لیگ (ن) کی حکومت رخصت ہوئی۔ جب نوازشریف کی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں تھی اور ان کی مرضی کی پالیسیاں لاگو ہو رہی تھیں ان کو کوئی برائی نظر نہیں آتی تھی مگر جیسے ہی وہ حکومت رخصت ہوئی تو تمام معاشی مشکلات اور بیماریوں کا الزام پچھلی حکومت پر عائد کر دیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان صاحب یہ آئی ایم ایف کی پرانی پالیسی ہے یہ حکومت وقت کی تعریفیں کرتے ہیں۔ جب تک آپ ان کی مسلط کردہ شرائط اور نیو لبرل پالیسیوں پر عمل کریں گے یہ اس وقت تک آپ کی تعریفیں کریں گے۔ آپ کی پالیسیوں کو سراہیں گے اورجیسے ہی آپ رخصت ہوں گے تمام خرابیوں کا الزام آپ پر عائد ہو جائے گا۔

وزیراعظم صاحب کبھی آئی ایم ایف والوں سے پوچھئے گا کہ یہ اس ملک کانام تو بتا دیں جس نے آئی ایم ایف کے پروگرام اور شرائط کے تحت غربت کم کی ہو، مہنگائی پر قابو پایا ہو، بے روزگاری میں نمایاں کمی کی ہو، معیشت لمبے عرصے تک بلند شرح ترقی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہو، غربت اور امارت میں فرق کم ہوا ہو، ہمارے تو کان پک گئے ہیں کہ معاشی استحکام کے بعد مہنگائی کم ہو گی۔ مگر کئی دہائیوں سے عوام کواس دن کا انتظار ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرول سستا کر دیں چیزیں سستی ہو جائیں گی۔


ای پیپر