از کجا می آید ایں آواز ِدوست…!
19 فروری 2020 2020-02-19

پچھلے بدھ کی شام کے لمحات میرے لیے ہی نہیں محبی مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب ، جناب ڈاکٹر جمال ناصر صاحب ، شاگرد ِ رشید پروفیسر ڈاکٹر ندیم اکرام ، ہمدم دیرینہ محترم اسماعیل قریشی اور عرفان صاحب کے صاحب زادگان عزیزی عمران خاور اور عزیزی نعمان راشد کے لیے انتہائی خوشی، مسرت اور شکر گزاری کا باعث تھے کہ کم و بیش ڈیڑھ سال تک جرم بے گناہی میں نیب کی حراست اور پابند سلاسل رہنے والے عزیز مکرم فواد حسن فواد سے ہماری ملاقات ہو رہی تھی ۔ اڑھائی تین ہفتے قبل لاہور ہائی کورٹ سے ان کی ضمانت منظور ہوئی تو ان سے ملنے اور حال دل سننے سنانے کی خواہش نے بے تاب اور بے چین کر رکھا تھا۔فواد ضمانت کے کچھ دن بعد پنڈی آئے تو مجھے نہ تو ان کی پنڈی آمد کا پتا چلا اور نہ ہی میری ان سے ملاقات ہو سکی۔جسکا مجھے دکھ بھی تھا ۔ اس دوران محترم عرفان صدیقی صاحب جو دوبئی اپنے بیٹے عزیزی عمران خاور کے پاس گئے ہوئے تھے کا ڈاکٹر ندیم اکرام کو میسج آیا کہ بدھ شام کو فواد صاحب کے ساتھ ملاقات اور کھانے کے پروگرام سے احباب کو مطلع کریں۔ ڈاکٹر صاحب کا حسب ہدایت یہ میسج ملا تو میری خوشی دیدنی تھی۔ میرے لیے ایسا ہی تھا جیسے مولانا جلال الدین رومی ؒ کے الفاظ میں " از کجا می آید ایں آواز ِ دوست"کا معاملہ ہو۔ بدھ شام کو میں فواد صاحب کی پنڈی چکلالہ سکیم تھری میں کرائے کی رہائش گاہ جہاں فواد کے بڑے بھائی فاروق ، محبوب اور وقار بھی رہتے ہیں میں پہنچا تو اسی وقت ڈاکٹرندیم اکرام بھی آگئے ۔اسما عیل قریشی پہلے سے وہاں موجود تھے ۔ اور احبا ب بھی آئے ہوئے تھے۔ فواد صاحب سے ملاقات اور کچھ دیر گپ شپ رہی پھر فواد صاحب کے ہمراہ اسلام آباد عرفان صاحب کے گھر (G-10/3 میں 10مرلے کا گھر جس میں عرفان صاحب مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں وزیر اعظم کے مشیر بلحاظ عہدہ وفاقی وزیر کا منصب سنبھالنے کے بعد بھی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مقیم رہے) کی طرف روانہ ہوئے ۔پروگرام یہ تھا کہ عرفان صاحب کے ہاں گپ شپ اور تبادلہ خیال کا سلسلہ کچھ دیر چلے گا اور پھر حسب روایت ٹیکسلا کے مخصوص شنواری ہوٹل اور وقت کی کمی ہوئی تو اسلام آباد کے کسی" نئے دریافت شدہ" شنواری ہوٹل میں مٹن، تکوں اور بالٹی گوشت کا روایتی اور پسندیدہ کھانا کھا لیں گے۔

عزیز محترم فواد حسن فواد سے اتنے عرصے بعد ملاقات ہورہی تھی تو مجھے تقریبا ً ڈیڑھ سال قبل کا وقت یاد آرہا تھا کہ 5جولائی 2018کو نیب لاہور نے فواد حسن فواد کو حراست میں لیا تو اس سے کچھ ہی دن پہلے ہم لوگ (چنڈال چوکڑی کے ارکان) پشاور گئے تھے ۔ پروگرام اتنا ہی تھا کہ گپ شپ لگائیں گے اور اپنی مخصوص ڈش (مٹن تکے اور بالٹی ) کا محاضر تناول کرکے واپس آجائیں گے۔ فواد گاڑی چلا رہے تھے آتے جاتے خوب گپ شپ اور تبادلہ خیال ہوا۔ہمارے گمان میں بھی نہیں تھا کہ نیب فواد حسن فواد کے خلاف دانت تیز کیے بیٹھا ہے۔ چند دن بعد آشیانہ سکینڈل میں فواد حسن فواد کی نیب میں طلبی تھی تو نیب نے آشیانہ سکینڈل کے

ساتھ آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا کیس بھی فواد حسن کے خلاف گھڑ لیا اور انھیں اپنی حراست میں لے لیا۔پھر فواد حسن کی کردار کشی کے لیے نیب ذرائع کی طرف سے ایسی ایس خبریں میڈیا کو Feed کی گئیں کہ ہمارے لیے ان پر یقین کرنا یا ان کے بارے میں یہ سمجھنا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے وہم وگمان میں آنے والی بات نہیں تھی لیکن یا ر لوگوں بالخصوص الیکڑونک میڈیا میں بعض حلقوں کو فواد حسن فواد کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے کا خوب موقع ملا۔ یہ سب کچھ یک طرفہ تھا اور اتنی منصوبہ بندی سے ہوا کہ کوئی بھی شخص خواہ کتنے ہی مضبوط ا عصاب کا مالک کیوں نہ ہو اس کو برداشت کرنا اس کے لیے اتنا آسان نہیں تھا تاہم فواد حسن فواد کے مضبوط اعصاب اور ان کے موقف کے مبنی برحق ہونے کی داد دینی ہوگی کہ انھوں نے یہ سب کچھ بڑے عزم ، حوصلے اور خندہ پشانی سے برداشت کیا۔

فواد حسن فواد سے ملاقات کرکے اور ان سے گپ شپ لگا کر جہاں خوشی ہو رہی تھی وہاں یہ رنج اور ملال بھی تھا کہ خوب صورت زبان و بیان پر عبور رکھنے ، اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے مالک انتہائی ذہین ، فرض شناس اور قابل سینئر بیورکریٹ جس کا پورا کیرئیر اس کی شاندار کارکردگی اور اس کی اہلیت ، قابلیت اور اس کے صاف ستھرے اور شفاف کردار کی گواہی دے رہا ہے اس طرح کے المناک اور انتہائی تکلیف دہ سلوک کا مستحق کیوں گردانا گیا۔ یہ المیہ یا اس سے بڑھ کر تکلیف دہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ فواد حسن فواد 14جنوری 2020کو 60سال کی عمر پوری ہونے پر سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو وہ کیمپ جیل لاہور کے 10 x 10 فٹ کے ایک سیل میں آہنی سلاخوں کے پیچھے بند تھے ۔ فواد حسن فواد کی قسمت میں یہ تھا ورنہ ایک بار انھوں نے ہم احباب کی محفل میں اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف نے ان کو پیشکش کی کہ فواد صاحب میری خواہش ہے کہ ہماری حکومت کی آئینی معیاد مکمل ہو تو اس سے کچھ عرصہ قبل آپ کو ورلڈ بینک یا کسی اور عالمی ادارے میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا جائے ۔ (اس سے قبل فواد حسن فواد کے پیش رو وزیر اعظم کے سیکرٹری کے منصب پر فائز رہنے والے جناب ناصر محمود کھوسہ اور جناب جاوید اسلم یکے بعد دیگرے اسی طرح کی نامزدگی حاصل کر چکے تھے۔ ) بقول فواد حسن فواد انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو بصد ادب جواب دیا کہ میاں صاحب میری خواہش اس کے برعکس یہ ہے کہ میں ریٹائر ہوں اور میرے بچوں کی اولاد ہو اور میں انہیں گود میں لیکر کھلاتا رہوں۔

اللہ کرے فواد حسن فواد کی یہ خواہش جلد پوری ہو لیکن فواد کے اہل خانہ کو پچھلے ڈیڑھ سال کے عرصے میں جس تکلیف دہ اور المناک صورت حال کا سامنا رہا ہے یقینا اس کے ایک ایک لمحے کو شمار کیا جائے تو شاید اس کو گنتی میں لانا آسان نہیں ہوگا۔ملاقات کے موقع پر فواد کے روایتی طور پر شگفتہ چہرے پر میں اس کے اثرات دیکھ رہا تھا ۔ فواد سے کھانے کی میز اور اس سے قبل عرفان صاحب کے ہمراہ گپ شپ کے دوران کئی باتیں سامنے آئیں فواد پر کئی طرح کے دبائو ڈالے گئے ان سے بعض کاغذات پر دستخط لینے کی کوشش بھی کی گئی جس سے انھوں نے انکار کیا ۔ فواد کو اس بات کا شدید دکھ تھا کہ ان کی کردار کشی کے لیے جھوٹی خبریں لگوائی جاتی رہیں۔ ان کی فیملی کو ٹارچر کیا گیا۔ فواد اپنے بیٹے صلال ، اپنی اہلیہ محترمہ اور اپنی بیٹی کا ذکر کرتے ہوئے کسی حد تک آبدید ہ ہوگئے کہ ان لوگوں کے لیے ڈیڑھ سال کا یہ عرصہ کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ وہ ہر طرح کے دبائو کا شکار رہے اور صلال کو دبئی میں اپنی ملازمت سے بھی استعفیٰ دینا پڑا۔

فواد حسن فواد سے خوب گپ شپ رہی پرانی باتوں اور یادوں کو جہاں تازہ کیا گیا وہاں فواد حسن نے اس دوران جو نظمِ اور غزلیں لکھی ہیں ان کے بعض اشعار بھی سننے کو ملے ۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ فوادحسن فواد جیسا ایک جینوئن (حقیقی) تخلیق کار جو اپنی منصبی ذمہ داریوں کی بنا پرشاعری سے اپنے فطری لگائو کے باوجود دور ہو چکا تھا ایک بار پھر اس نے شاعر ی اور تصنیف و تالیف سے دل لگا لیا ہے اور حراست کے دوران بعض خوب صور ت نظمیں اور اشعار لکھے ہیں ۔ کالم میں گنجائش نہیں ورنہ میں ان کے کئی اشعار نقل کرتا تاہم محترم عرفان صدیقی صاحب جو صاحب طرز نثر نگار اور کالم نگار ہونے کے علاوہ خوب صورت شاعر بھی ہیں ان کی تازہ غزل کے دو شعر ضرور نقل کرنا چاہوں گا۔

عجب فریبِ مسلسل ہے آدمی کے لیے

کہ سانس اپنے لیے زندگی کسی کے لیے

کوئی سزا کہ نصیحت ہو سات پشتوں کو

صلیب کافی نہیں جرمِ آگہی کے لیے


ای پیپر