بندوق، ترازو، میڈیا اور جمہوریت
19 فروری 2020 2020-02-19

پاکستان 1947 کو معرض وجود میں آ گیا تاہم اداروں کے بننے اور مضبوط ہونے کا عمل قائداعظم کی بیماری کے ساتھ ہی تعطل کا شکار ہوگیا۔ ہمارے اداروں میں طاقت کے توازن کی جنگ قائد اعظمؒ کی وفات کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی۔ 1958 کے مارشل لاء تک کے پہلے 11 سالوں میں سات وزیراعظم آئے اور چلتے بنے۔ تاریخ کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے پہلے باسٹھ سالوں میں بلاتعطل بندوق نے اپنی اجارہ داری برقرار رکھی۔ ایک لمبی جہدوجہد کے بعد 2009 میں ترازو اور میڈیا طاقتور ستونوں کے طور پر ابھرے اور جمہوریت کے ساتھ مل کر بندوق کو پسپائی پر مجبور کیا۔ اس وقت کے آمر جنرل پرویز مشرف گارڈ آف آنر لے کر ملک سے باہر چلے گئے۔ یہ 2009 ہی تھا جب ترازو نے اپنا مزاج بدلا اور مقتدر حلقوں نے اسے ایک بڑی تبدیلی کا آغاز قرار دیا۔ تاہم بندوق نے پس پردہ اپنی طاقت کو منوانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بدقسمتی سے اس وقت کی بدعنوان جمہوریت کے سامنے جب بھی بندوق نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تو جمہوریت نے دبئی جانے یا دب جانے میں ہی عافیت جانی۔ ترازو نے بھی بندوق کو للکارنے کی بجائے جمہوریت کو نیچا دکھانے کی روش اپنا لی۔ جبکہ میڈیا نے بندوق, ترازو اور جمہوریت تینوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

2013 کے انتخابات کے بعد اگرچہ شیر اقتدار کے ایوانوں پر آکر بیٹھ گیا تاہم بندوق نے پس پردہ اپنی اجارہ داری برقرار رکھی۔ اس کا سرعام مظاہرہ 2014 کے دھرنے میں پوری قوم نے دیکھا۔ اگرچہ دھرنا 126 دن بعد اختتام پذیر ہوگیا تھا مگر اداروں کے توازن میں جو دراڑ پڑی وہ اگلے چار سال تک نہ بھر سکی۔ اس دوران میڈیا بھی وہ کردار ادا نہ کر سکا جس کی توقع مقتدر حلقوں کو تھی۔ کمزور جمہوریت نے میڈیا کو ساتھ ملا کر

ترازو کو نظرانداز کرتے ہوے بندوق کو دبانے کی کوشش بھی کی۔ بندوق نے جمہوری طاقتوں اور میڈیا کے گٹھ جوڑ پر پہلے پس پردہ مزاحمت کی اور پھر جونہی ڈان اور وکی لیکس جیسے معاملات سامنے آئے اور ترازو نے اپنا وزن بندوق کی طرف ڈالا تو نہ صرف اداروں میں توازن پھر بگڑ گیا بلکہ کمزور جمہوریت ایک دفعہ پھر سازش کا شکار ہوگئی۔

2018 کے انتخابات سے فوری پہلے اور بعد کے معاملات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ بندوق نے اپنی روایتی اجارہ داری پھر سے قائم کرلی ہے۔ اب بندوق نے بلے کے ساتھ ملکر میڈیا پر جو قدغن لگائی ہے وہ کم یا ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔

ترازو نے جو ہلکی انگڑائی لی تھی وہ وقت اور نوعیت میں محدود ہو کر رہ گئی ہے اور بندوق نے اس کے اثرات اور مضمرات دونوں پر قابو پا لیا ہے۔ ایسے حالات میں لگتا ہے کہ ترازو نے پس قدمی میں عافیت جانتے ہوئے معاملات کو اپنے اندر ہی سمیٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان میں ادارے ہمیشہ شخصیات کے تابع رہے ہیں اور یہی ان کے درمیان توازن کے بگاڑ کی بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان میں مارشل لاء چاہے جمہوری ہو، عسکری یا پھر عدالتی کبھی ادارے نے نہیں بلکہ شخصیات نے لگایا ہے۔

جمہوری اداروں کے توازن میں سب سے کٹھن مرحلہ بندوق کے معاملات اور عمل سے منسلک ہے۔ یہ وہ بندوق ہے جو 72سال سے اپنی بات منوانے کی عادی ہوچکی ہے اور اسکے پس پردہ حاصل اختیار کو کم کرنا ایک مشکل اور تکلیف دہ عمل ہو گا۔ معاملہ فہمی کو ترجیح دیتے ہوئے بغیر مزاحمت کے بندوق کو جمہوری قوتوں کے تابع کرنا ایک مرحلہ وار عمل ہی ہو سکتا ہے۔ منزل پر پہنچنے کے لئے منطق, برداشت اور عمل کی ایک سیڑھی بنانی ہو گی جس پر ایک ایک زینہ چڑھنا ہو گا تاکہ کوئی ایک غلط قدم سانپ سیڑھی کی طرح پورے عمل کو زمین پر نہ گرا دے۔ سب سے پہلے جمہوریت کو اس کے لئے تیاری کرنی ہوگی۔

کسی بھی جمہوری نظام میں سب سے طاقتور ادارہ پارلیمنٹ ہوتی ہے اس لیے یہ کام پارلیمنٹ کو ہی سرانجام دینا ہو گا۔ سب سے پہلے جمہوریت اپنے آپ کو بالا تر ثابت کرے۔ یہ ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ اپنی برتری کو ثابت کرنے کے لیے جمہوریت ادارے کو اپنے کام اور وضع دونوں میں مثالی نہیں تو اچھا ضرور ثابت کرنا پڑے گا۔ یہ وہ انفرادی اور ادارتی عمل ہوگا جو ایک مثال کے طور پر دوسرے اداروں اور قوم کے سامنے جب آئے گا تو ادارے خود بخود اپنی آئینی روش پر چلنا شروع کر دیں گے۔ عدلیہ جیسے معزز ادارے کو سوموٹو کی ضرورت اسی وقت پڑتی ہے جب جمہوری ادارے یا تو بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں یا پھر انکی روش اور طریقہ کار عدلیہ کو ایسے نوٹس لینے پر مجبور کرتی ہے۔ اداروں کے وقار کو جہاں ان کے عملوں نے بڑھانا ہے تو وہاں جمہوریت نے بھی بڑا پن دکھانا ہے اور اس طرح کے طرز عمل کا مظاہرہ کرنا ہے جہاں ادارے آزاد رہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو جمہوریت کے تابع محسوس کریں۔ کسی شخص کی تبدیلی کے ساتھ اس عمل میں کوئی خلل نہیں پڑنا چاہیے۔


ای پیپر