روز روز کی جبری ایکسٹینشن
19 فروری 2020 2020-02-19

انسان کی انفرادی شناخت ہر دور ہر معاشرے میںایک بہت بڑا سوال رہا ہے آپ کی شخصیت اور درست پہچان کے بارے میں یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ سے نہیں بلکہ آپ کے جاننے والوں سے پوچھا جاتا ہے اور ان کا جواب ہی آپ کے تعارف کا فیصلہ کرتا ہے کہ آپ کون ہیں۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس سوال کا جواب99فیصد انسانوں کے بارے میںغلط ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ کے جاننے والے آپ کی پہچان کا سب سے بڑا معیار آپ کے پیشے کو سمجھ بیٹھتے حیں انگریزی کا محاورہ ہے کہ what you do is who you are?،، یعنی آپ وہ ہیں جو آپ کا پیشہ ہے مگر حقیقت میں ایسانہیں ہوتا۔ اونچی ہوائوں میں اڑنے والا لیڈر اندر سے بہت ادنیٰ ہو سکتا ہے جبکہ ایک صفائی کرنے والا یا ایک چوکیدار بھی وفا کا ستون ثابت ہو سکتا ہے۔ آپ کا پیشہ آپ کی شخصیت کی عکاسی نہیں کرتا۔

امریکی سابق خاتون اول اور ماہر سماجیات Eleoner Roosoveltکا مشہور قول ہے کہ چھوٹے دماغ کے لوگ ہمیشہ شخصیات کوزیر بحث لاتے ہیں اوسط یا درمیانے درجے کے لوگ واقعات کو موضوع بناتے ہیں جبکہ اعلیٰ دماغ کے لوگ صرف خیالات اور نظریات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہمارے ہاں عوام کی اکثریت کا تعلق پہلی قسم سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے جیسے لوگوں میں سے کسی کے پاس کسی وزیر یاممبر پارلیمٹ یابڑے بیوروکرپٹ یا بزنس مین کا وزٹینگ کارڈ ہوتو اسے جیب میں رکھنے اور پھر اس کی نمائش کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وقت پڑنے پر یہ وزیر اور امیر کام نہیں آتے البتہ اگر کسی چھوٹے آدمی سے دوستی ہو تو وہ شاید آپ پر اپنی جان بھی قربان کردے گا۔

انسانوں کو پڑھنے اور سمجھنے میں مجھ سے اکثر غلطی ہوتی ہے شاہد اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانوں کو پڑھنا کتابیں پڑھنے سے کئی گنا مشکل کام ہے اس کا کوئی فارمولا بھی نہیں ہے اس میں Fundamentalsبھی کام نہیں آتے انسانی نفسیات لامحدود حد تک متنوع ہے دنیا میں اگر 7.6ارب کی کل آبادی ہے تو ایک ایک کو سمجھنے کیلئے آپ کو 7.6ارب فارمولے وضع کرنا پڑیں گے۔بعقول شاعر

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے!

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

ایک عرصے سے میرے اوپر اللہ کا خاص کرم ہے کہ اس نے مجھے شعورکی ایک ہلکی سی روشنی کی کرن سے نوازا ہے اب میں لوگوں کے سماجی وسیاسی مرتبے یا مال ودولت یامنصب سے متاثر نہیں ہوتا البتہ مجھے ان کی تعلیم ان کی دانشمندی روحانیت یا عاجزی وانکساری بہت متاثر کرتی ہے۔ انسانوں کی پہچان کو میں ان کے پیشے سے ہٹ کر جب سے دیکھنا شروع کیا ہے مجھے معاشرے کے چھوٹے چھوٹے کردار بہت قدآور نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے اندر انسانیت وفاداری اعتماد اور محبت کا جزبہ خبط عظمت میں مبتلا نام نہاد جعلی شخصیات سے کہیں زیادہ ہے۔

گزشتہ کئی سالوں سے میری ایک ایسے بندے سے دوستی استوار ہے جس کے بارے میں میرے معلومات بہت کم ہیں لیکن اس کی شخصیت کے چند اشاریئے ایسے ہیں جو مجھے یقین دلاتے ہیں کہ وہ ایک عظیم انسان ہے۔ ہمارے مروبہ سماجی نظام میں اگر آپ اس کے سٹیسٹں کا تعین کرنا چاہیں تو شاید ہمارا یہ پیمانہ اسے زیرو سے بھی نیچے کوئی منفی نمبر دیدیگا کیونکہ اس کی کوئی کلاس ہے ہی نہیں۔ اس کلاسیفکیشن میں اگر آپAسے Zتک کلاسیں گنتے جائیں تو میرے دوست کا نمبر آخر میںبھی نہیں آئے گا۔ مجھے اس دوست کا نام نہیں معلوم میں اسے چاچا کہتا ہوں اس نے بھی کبھی مجھ سے میرا نام نہیں پوچھا۔ چاچا کی عمراس وقت75سال سے اوپر ہے مگر اس کا پیشہ وہ پیشہ ہے جس میں ریٹائرمنٹ نہیں ہوتی۔ ہمارے افسر اور بڑے بڑے چیف ایگزیکٹو اورجنرل 60سال کی عمر میں ریٹائر ہونے لگتے ہیں تو نوکری میں توسیع یا ایکسٹینشن کیلئے سروھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں لیکن وقت کا جبر ہے کہ چاچا تھک چکا ہے وہ آرام کرنا چاہتا ہے وہ ریٹائر ہونا چاہتا ہے مگر قدرت ہے کہ اسے روزانہ کی بنیاد پر جبری ایکسٹینشن دے دیتی ہے چاچا اس لئے قبول کرلیتا ہے کہ اگر انکار کرے گا تو بھوکا مر جائے گا آیئے اب چاچا کے کاروبار کا جائزہ لیتے ہیں چاچا کے کاروباری اثاثہ جات میں ایک عدد پرانی زنگ آلودسائیکل ہے ایک لمبی رسی ہے اور ایک عددبوری ہے۔ وہ لاہور کی ایک معروف شاہراہ کے ایک چوراہے پر صبح دورویہ سڑک کے درمیان فٹ پاتھ پر سائیکل کھڑی کرتا ہے اپنی رسی نکالتا ہے اسے ایک طرف سے سائیکل سے باندھ کر رسی کا دوسرا سرا ایک درخت سے باندھ کر اس تنی ہوئی رسی پر اپنا سٹاک برائے فروخت ڈسپلے کر دیتا ہے۔ اس کے سٹاک ان ٹریڈ میں ملک کے تمام میڈیا گروپوں کے اخبار ہوتے ہیں۔ چاچا ایک اخبار فروش ہے۔ اس کی رسی اس کے لئے شو کیس کا کام دیتی ہے جس کے نیچے وہ بوری بچھا کر بیٹھ جاتا ہے۔ مگر چاچا بارش کی صورت میں اپنے بچائو سے زیادہ اپنے اخباروں کو بچانے کیلئے فکرمند ہوتا ہے ۔

چاچاکے ساتھ جب دوستی نئی نئی تھی تو وہ دور سے میری گاڑی دیکھ کر اخبار لے کر گاڑی کی طرف بھاگتا تھا اسے پتہ ہوتا تھا مجھے کون سا اخبار چایئے مگر اب وہ ایسا نہیں کرتا اب اسے پتہ ہے کہ میں اخبار لے کر ہی جائوں گا دوسری وجہ بڑی تکلیف دہ ہے اب اس کی ٹانگوں میں اتنی سکت نہیں رہی کہ وہ پہلے والی چستی سے مجھے گاڑی میں اخبار تھمائے اب مجھے گاڑی سے اتر کر اس کے پاس جانا ہوتا ہے۔ دوستی میں حساب کتاب نہیں ہوتے اس لئے وہ مجھ سے اخبار کے پیسے نہیں لیتا۔ جب چاچا اپنی فاقہ کشی کے باوجود مجھ سے حساب کتاب نہیں رکھتا تو میں نے بھی کبھی اپنی طرف سے چاچا کی نگہداشت میں کوٹا ہی نہیں کی ۔ چاچا میرے لئے اللہ کے ساتھ تجارت کا ایک وسیلہ ہے یہ وہ تجارت ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں چاچا کی Place of Businessسے اسے کچھ دیئے بغیر گزرجائوں۔ اس دوستی کوکئی سال ہوگئے ہیں یہ سارا عرصہ اسی کشمکش میں گزراہے کہ جب بھی ملے ہیں یہی خدشہ ہوتا ہے کہ دوبارہ ملاقات ہونہ ہو ۔وقت کے ساتھ یہ خدشے بہت بڑھ چکے ہیں۔

اب مشکل یہ آن پڑی ہے کہ مجھے وہ راستہ بدلنا پڑگیاہے جہاں چاچا کا کاروبار ہے۔ میری بیٹی جسے میں روزانہ یونیورسٹی چھوڑنے کیلئے چاچا کے پاس سے گزرتا تھا وہ اب ڈاکٹر بن گئی ہے۔ کچھ دنوں سے اب میں اس طرف سے نہیں گزرتا۔ مجھے راستہ بدلنے کا بڑا رنج ہے اب میں ہفتے میں ایک دفعہ وہاں سے گزرنے کے بہانے تلاش کرتا ہوں۔چاچا ملاقات پر بیٹی کے امتحان کا رزلٹ پوچھتا ہے۔ جب اسے دعا کی درخواست کریں تو وہ اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی تسبیح نکال کر دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ میں نے آپ کی دعائوں کیلئے رکھی ہوئی ہے اور مجھے پختہ یقین ہے کہ وہ سچ کہتا ہے۔ چاچا ایک چھوٹا آدمی مگر ایک اعظیم انسان ہے۔اخبار چھپتے رہیں گے اخبار بکتے رہیں گے مگر وقت کی اندھیوں میں چاچا جیسے ٹمٹماتے دیئے آخر کب تک روشن رہ سکتے ہیں۔


ای پیپر