ایف اے ٹی ایف اجلاس 2020
19 فروری 2020 2020-02-19

ایف اے ٹی ایف ( فنانشل ایکشن ٹاسک فورس )کا اجلاس پیرس میں جاری ہے جس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا رکھے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ 1989 میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لئے جی سیون (معاشی طور پر طاقتورترین 7 ممالک کا اکٹھ ) ممالک نے فنانشل ایکشن فورس آن منی لانڈرنگ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف دنیا کے طاقتور ترین ممالک کو وہ اکٹھ تھا جو جو دنیا بھر کے مالیاتی نظام کو دہشت گردی اور کالے دھن کو سفید کرنے جیسے مسائل سے بچانے کے لئے بنایا گیا تھا ۔ ایف اے ٹی ایف کے موجودہ اراکین میں امریکہ ، برطانیہ ، چین ، جاپان اور بھارت سمیت 35ممالک شامل ہیں ۔ ایف اے ٹی ایف بنی تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے اسکی قانونی حیثیت کو بھی تسلیم کر لیا گیا جس کے بعد سے یہ منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خاتمے کے لئے عالمی سطح پر معیار طے کرنے کا ادارہ بن گیا۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ ان ممالک کی فہرست ہوتی ہے جن کے بارے میں ادارہ سمجھتا ہے کہ انھیں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی امداد روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔اس وقت پاکستان کے ساتھ ساتھ پانامہ، سری لنکا، شام ، ٹوباگو، تیونس اور یمن سمیت مختلف ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں ۔ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی جو وجوہات بتائی گئی ہیں ان میں سٹریٹجک ، نقائص پر قابو نہ پانا، دہشت گرد گروہوں کے خطرات کی سنگینی کو نہ سمجھنا، منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کرنے والے افراد یا اداروں کے خلاف اقدامات نہ کرنا ، کرنسی کی غیر قانونی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی پر قابو نہ پانا ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان عدم تعاون ااور اقوام

متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی شخصیات اور اداروں کے خلاف موثر کاروائی اور انکے اثاثے منجمند نہ کرنا شامل تھا ۔ 2018میںپاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے پیچھے اندرونی وجہ بھارت اور امریکہ کا وہ گٹھ جوڑ تھا جو پاکستان کو امریکہ کی جانب سے بلیک میل کرنے اور بھارت کی جانب سے تنہا کرنے کے لئے بنایا گیا ۔ بھارت اور امریکہ کی قربتوں اور سازشوں کے نتیجے میں پاکستان کو گرے لسٹ میں تو ڈال دیا گیا لیکن 2020تک کے سفر نے ہمسایہ ملک کی سازشیں دنیاکے سامنے عیاں کر دیں ۔پاکستان کوجب گرے لسٹ میں شامل کیا اس وقت ملک میں نگران حکومت تھی۔2019میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس ہوا تھا ایک مرتبہ پھر بھارت نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی کوشش شروع کر دی مگر پاکستان کی کوششوں سے پاکستان بلیک لسٹ میں جانے سے تو بچ گیا مگر گرے لسٹ سے نہ نکل سکا اور ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو شرائط پوری کرنے کے لئے مزید وقت دے دیا گیا ۔ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونا انتہائی خطرناک ہے ۔ بلیک لسٹ کوبین الاقوامی سطح پر ’’کال فار ایکشن ‘‘کا نام بھی دیا جاتا ہے ۔بلیک لسٹ میں شامل ممالک کو تجارت سمیت سخت معاشی پابندیوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان کی کوششوں اور دوست ممالک کی مدد سے پاکستان اب 2020 میں گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے پر اعتماد ہے ۔اتوار سے پیرس میں شروع ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے6 روزہ اجلاس میں جرائم اور دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والی رقم اور دیگر مالیاتی خطرات پر بات چیت کی جا رہی ہے ۔اجلاس میں شرکت کے لئے پیرس میں موجود پاکستانی وفد کی سربراہی وفاقی وزیر حماد اظہر کر رہے ہیں ۔نگران سیٹ اپ کے بعدپوزیشن سنبھالتے ہی حکومت کی جانب سے گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں ۔ کالعدم تنظیموں پر پابندیاں ، مذہبی اداروں اور مدرسوں کو محکمہ تعلیم کے دھارے میںلانا ، غیر سرکاری تنظیموں کی امداد پر نظر رکھنا ، اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی شخصیات پر پاکستان میں پابندی لگا نا ایسے اقدامات ہیں جس سے پاکستان کی پوزیشن بین الاقوامی سطح پر مضبوط ہوئی ۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان 27 میں سے 14پوائنٹس پر عمل درآمد کرانے میں کامیاب ہوا ہے ۔ چند روز پہلے امریکی سفارت کار نے بھی پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ٓآباد دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے سے متعلق اقدامات کی تکمیل کے قریب ہے ۔رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کے تناظر میں پاکستان کا بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ تو ٹل چکا ہے مگر گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے ابھی بھی ممبر ممالک کا مرہون منت ہے ۔ پاکستان کی مستحکم پوزیشن اور بھارت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف شہریت قانو ن بنانے اور کشمیر میں کرفیو لگانے جیسے اشتعال انگیز اقدامات کے بعد دنیا کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے سنجیدگی سے کسی اور کی شروع کی گئی دہشت گردی سے نکلنے کے لئے نہ صرف موثر اقدامات کیے ہیں بلکہ افغانستان میں بھی ہمسایہ ملک کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے امن قائم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں ۔ ایف اے ٹی ایف کے موجودہ صدر شیالگمن لو کا تعلق چین سے ہے جو ایف اے ٹی ایف کے صدر بننے سے پہلے چین کے مرکزی بینک میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھا م سے متعلق شعبے کے انچارج تھے۔ پاک چین دوستی کے تناظر میں جہاں چین پاکستان کی امن کے لئے کوششوں کو چشم دید گواہ ہے وہاں ہی شر پسند عناصر کی سازشوں سے بھی واقف ہے ۔ اسی لئے موجود صورتحال میں پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے پر امید تو ہے مگر اسے سازشی عناصر کی نقل و حرکت پر کڑی نظر بھی رکھنی ہو گی ۔


ای پیپر