فائل فوٹو

پی ایس ایل 5 سے تاجروں کو روزانہ 23 ارب روپے کا نقصان ہوگا
19 فروری 2020 (15:53) 2020-02-19

لاہور: پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل ) کا میلہ جمعرات سے سجے گا اور مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لئے بازاروں اور سڑکوں کو سیل کرنے جیسے سخت حفاظتی اقدامات کے باعث مقامی کاروباروں کو روزانہ کم از کم 23 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایل سی سی آئی) کے تاجروں اور عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس کرکٹ میچز کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ یہ سرگرمیاں ملک کا امیچ بہتر بنانے میں مدد کرتی ہیں لیکن لبرٹی مارکیٹ اور اسکے آس پاس کے علاقوں میں دکانوں کی صرف ایک دن کی بندش سے تقریبا23 ارب روپے مالیت کا نقصان ہوگا۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایل سی سی آئی) کے تاجروں اور عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور طویل المیعاد حکمت عملی بنانے کی تجاویز بھی پیش کر رہے ہیں۔

ایل سی سی آئی کے صدر کا موقف تھا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی صحت مند علامت ہے اور اس سے ملک کے سافٹ امیچ کو مزید فروغ ملے گا لیکن معاشی سرگرمیاں بھی یکساں اہمیت کی حامل ہیں لہذا حکومت کو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے کرکٹ میچز کے انعقاد کے لیے کاروبار کو متاثر کیے بغیر ایک لائحہ عمل بنانا چاہئے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ حالیہ دنوں میں کرکٹ میچز کے دوران لبرٹی اور دیگر مارکیٹوں کے علاوہ قذافی سٹیڈیم سے متصل ریستوران بند کرنے کے نتیجے میں نہ صرف تاجروں بلکہ روز مرہ کے کاروبار کو بھی خاصا نقصان ہوا۔

ایل سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ تاجر برادری ان میچوں کے دوران تمام ضروری حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے حکومت سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہے لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ملحقہ بازاریں اور ریستوراں بند رہنے پر مجبور نہ کیے جائیں کیوں کہ اس سے سب سے بڑا منفی تاثر یہ پیدا ہوگا کہ سکیورٹی کے حالات ابھی معمول پر نہیں ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ مہمان ٹیموں کے لئے قذافی سٹیڈیم، لاہور کے احاطے میں جلد سے جلد ایک جدید ترین پرتعیش ہوٹل تعمیر کیا جانا چاہئے کیونکہ تمام خدشات کو دور کرنے کا یہی واحد حل ہے۔


ای پیپر