عہد …اور عہد شکنی
19 فروری 2020 2020-02-19

انسان اپنے خاکی وجود کے ساتھ اِس خاک نگر میں خاک نشیں ہے۔ یہ خاک نشیں ‘ ہمراز ِ عرش نشیں بھی ہو سکتا ہے کیا؟ انسان کے پاس اس خاکدان سے بلند ہونے کی کیا سبیل ہے؟… وہ کون سا راستہ جو اِسے زمین پر رہتے ہوئے آسمان کا سفر طے کروا سکتا ہے؟

ؑٓعالمِ خلق اور عالمِ اَمر کے درمیان ایک ایسابرزخ ہے‘ جہاں لفظ کی سفارت کاری چل رہی ہے۔ لفظ کی اِنتہائی معتبر صورت عہد ہے۔ عہد … قَسَم کی ایک قِسم ہے۔ قدیم کتب ِ سماوی میں ’’رب کی سوگند‘‘… ’’رب کی قسم‘‘ جیسے الفاظ ملتے ہیں۔ زمین کو آسمان سے متعلق کرنے والی چیز عہد ہے۔ انسان کا خدا سے عہد ‘ خود سے بھی ایک عہد بن جاتا ہے…اور شاہراہِ زیست پر چلتے چلتے یہی عہد اپنے ہم نشینوں سے عہد کی صورت بھی اختیار کرلیتا ہے۔ انسانی زندگی سے عہد نامے نکال دیے جائیں تو اِس کی زندگی ایک معاشرتی حیوان کی زندگی بن جاتی ہے… ایسا معاشرتی حیوان جو معاشرت کے سارے ابواب و آداب اپنی جسمانی جبلتوں کی تکمیل کیلئے استعمال کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ جبلّتوں سے آزادی کی اگر کوئی صورت ہے تو یہی اس کا عہد ہے …وہی عہد جوانسان سب سے پہلے اپنے خالق و مالک سے باندھتا ہے ، خود سے باندھتا ہے اور پھر اپنے ہم جلیسوں سے بھی باندھتا ہے۔ انسان کا عہد اس کیلئے عہد ساز بھی ہو سکتا ہے۔ یہ انسان کا عہد ہے ‘جو اسے جسمانی سطح سے بلند ہو کر ایک روحانی سطح پر زندگی بسر کرنے کا جواز مہیا کرتا ہے۔ جب ہم اپنے مالک و خالق سے کسی اَمر کا عہد کرتے ہیں تو شعوری سطح پر اپنے خاکی وجود سے بلند ہو جاتے ہیں۔ ہمارا جسم خواہ اِسی خاکدان کا اسیر ہو‘ ہماری روح خیال کے سمٰوات کی سیر کرتی ہے۔ ہمارا مادّی شعور ہمارے دینی شعور کے تابع ہو جاتا ہے۔ اب اچھائی برائی کا پیمانہ ہمارا عقلی شعور نہیں رہتا … بلکہ روحانی اور وجدانی پیمانے ہمارے وجود میں رائج ہو جاتے ہیں۔

کلمہ طیبہ بھی ایک عہد ہے… ہم اس عہد کے ذریعے خود کو پابند کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی راہ میں اپنی خواہش ِ نفس کو حائل نہیں ہونے دیں گے۔ خواہش ِ نفس اختیار سے باہر ہو جائے تو ایک جھوٹے معبود کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔مالکِ کائنات کی عبادت اور اس کے محبوبؐ کی محبت کی راہ میں حائل جو بھی رکاوٹ ہے ‘وہ ہماری خواہشِ نفس ایسے جھوٹے الٰہ کی پرستش کا نتیجہ ہوتی ہے۔ الغرض ‘انسان اپنے مادّی شعور سے روحانی شعور کی طرف ہجرت کیلئے جو راستہ اختیار کرتا ہے‘ وہ اس کا عہد ہوتاہے۔ اس عہد کی پاسداری اُسے مادّے سے روح کی طرف اور ظلمت سے نور کی طرف سفرمیں معاون ہوتی ہے۔ عہد شکنی … ایک مسافر کو آدھے رستے کا مسافر بنا دیتی ہے۔ آدھے رستے کا مسافر‘ دو منزلوں سے محروم ہوتا ہے… ایک وہ منزل جسے وہ چھوڑ آیا ہے اور دوسری وہ منزل جو اُس کی عہد شکنی کے سبب اُسے چھوڑ چکی ہے۔

عہد شکنی دراصل بے وفائی ہے۔ محبت ایک پیمانِ وفاہی تو ہوتی ہے …کبھی ختم نہ ہونے والی وفا! باوفا دوست کے ساتھ بے وفائی انسان کو اس کی اپنی ہی

نظروں میں گرا دیتی ہے۔ نظروں سے گرا ہوا انسان کسی مسند پر بیٹھنے کے قابل نہیں رہتا۔ عہد شکن آدمی اپنی عہد شکنی سے زبانِ خامشی سے یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ وہ اپنے دوست ، محسن اور مربی کو ایسا عزیز ہر گزنہیں سمجھ رہا‘ جیسا عہد باندھتے ہوئے اس نے سمجھا تھا۔ عہد شکن اپنے دوست کی ناقدری کا مرتکب ہوتا ہے… اور دوست کی ناقدری کرنے والا خود اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ باطن میں اس کی عقل سمیت اس کی وجود کی صلاحیتیں یکسر قابلِ ذکر نہیں ہیں، بلکہ اگر کوئی چیز وہاں ذکر اور قدر کے قابل ہے تو اُس کا عہد ہے… اگروہاں کسی چیز کا مول پڑاہے‘ تو وہ اُس کا قول و قرار ہے۔

عہد … ہماری وابستگی کی داستان ہے۔ ہماری نسبت کا اعلان ہمارے عہد باندھنے سے ہوتا ہے۔ ہم اپنے بزرگوں سے ایک عہد باندھتے ہیں… اور اِسی عہد کی وجہ سے وہ ہمیں استعداد اور استحقاق نہ رکھنے کے باوجود اپنی محفل میں جگہ دے دیتے ہیں۔ جب تک ہم اِس عہد کی پاسداری میں مصروفِ عمل رہتے ہیں ‘اُن کی محفل کا حصہ رہتے ہیں۔ عہد شکنی کے بعد ظاہری طور پر ہم اِس محفل کا حصہ نظر آتے ہیں لیکن باطنی طور پر اُن کی محفل سے خارج ہو جاتے ہیں… اِلّا یہ کہ تائب ہو کر پلٹ آئیں … توبہ کا مطلب ہی پلٹ آنا ہے۔ ہماری نسبت… درحقیقت ایک عہد نامہ ہوتی ہے۔ دینی و روحانی نسبت کوئی موروثی جائیداد نہیں…کہ اولاد اور قریب بیٹھنے والوں ہی میں تقسیم ومنتقل ہو… یہاں تو

جو بڑھ کر خود اُٹھا لے ہاتھ میں ‘مینا اُسی کا ہے

نسبت کی حقیقت بزرگوں کے ساتھ وفا ہے۔ بزرگوں کے ساتھ وفا ‘ درحقیقت اُن کے خیال کے ساتھ وفا کرنے کا میثاق ہے۔ خیال کے ساتھ وفا کے دو درجے ہیں، ایک درجہ تو یہ ہے کہ اُن کے خیال کو اپنے فکر اور احساس کا حصہ بنایا جائے…اور دوسرا کامل اور احسن درجہ یہ ہے کہ اُن کے خیال کو اپنے عمل اور پھر کردار میں نافذ کیا جائے۔ اگر فکر موجود ہے لیکن وجود عمل سے دُور ہے تو انسان کا تعلق معلق رہتا ہے۔ اگر فکربھی منحرف ہو جائے تو نسبت منقطع ہو جاتی ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ عہد باندھنے کا دعویٰ بھی ہم نے کیا، اسے قائم رکھنے کا عہد بھی ہم نے کیا…اور اسے مخدوش اور پھر معدوم کرنے کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں۔ وفا سے بے وفائی تک کے اس سارے سفر میں نسبت کے صاحب پر کوئی دوش نہیں۔ دوش سب کا سب ‘ عہد کا دعویٰ کرنے والے کے اپنے کندھوں پر ہے۔ دیکھا نہیں ‘ سنا ہے…کندھوں پر کراماً کاتبین بھی موجود ہوتے ہیں… فرشتوں کے لکھے پر کوئی ناحق نہیں پکڑا جاتا ہے… دمِ تحریر آدمی تو خود موجود ہوتا ہے!!

قرآن کریم میں جہاں بنی آدم کی تکریم بیان ہوئی ہے‘ وہاں یہ بھی بتا دیا گیا کہ’’ ولم نجد لہ عزما‘‘ … اور ہم نے اسے عزم میں پختہ نہ پایا۔ سو! انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ گناہ ‘ عہد شکنی کی ایک صورت ہے۔ اپنے رب سے پیمانِ وفا باندھنے کے بعد توڑنا ہی توگناہ ہے… اگر یہ عہد قصداً توڑا جائے تو ایک گناہِ عظیم ہے… سہواًخطا پرفردِ جرم نرم ہوتی ہے، خطائے عمد پر فردِ جرم کڑی عائد ہوتی ہے… اورایسی فردِ جرم کا عائد ہونا ہی سزا کی ابتدا ہے۔ عمد اور خطا میں فرق دنیا کا اندھا قانون بھی دیکھ لیتا ہے… اوراسے ملحوظ رکھتا ہے۔

صد شکر کہ ہمارا مالک و خالق جہاں علیم و خبیر ہے ‘ وہاں ستّار العیوب بھی ہے۔ علیم و خبیر ہونے کے باوجود وہ خود گواہ نہیں بنتا۔ وہ اتنا روؤف و رحیم ہے کہ اس وقت تک منصف بھی نہیں بنتا جب تک مجرم اپنے جرم کا کوئی عینی گواہ خود پیش نہ کردے۔ اپنے جرم پر اصرار اور تسلسل سے گواہان پیدا ہو جاتے ہیں … جس مقدمے میں عینی گواہ پیش ہو جائیں‘ اُس کا فیصلہ چکانا لازم ہو جاتا ہے… ایسے میں معافی تلافی مشکل ہو جاتی ہے۔ تنہائی کے گناہ ‘تنہائی میں معافی سے معاف ہو جاتے ہیں۔ جس گناہ سے افرادِ اُمت مضروب ہو جائیں ‘اُس پرشریعت کا کوڑا حرکت میں آجاتا ہے۔ صد شکر! اُس نے توبہ کا راستہ تا دمِ مرگ کھلا رکھا ۔ انسان عہد شکنی کرتے کرتے خود شکستہ ہو جاتا ہے‘ لیکن وہ ذاتِ روؤف و رحیم اسے دوبارہ قبول کرنے میں کبھی شکستہ خاطر نہیں ہوتی۔ وہ ذات جو عہد ٹوٹنے کے بعد بھی اپنے بندے کو ٹوٹنے نہیں دیتی … اور اس کی خطاؤں کو اس کے بھائی بندوں میں مشتہر نہیں ہوتے دیتی… ایسی رحیم اور شفیق ہستی کے حضور سجدہ ٔ شکر واجب ہے… سجدۂ شکر کی عملی صورت یہ ہے کہ عہد شکنی سے باز آنے کا پھر سے عہد کر لیا جائے!!


ای پیپر