سرخیاں ان کی…؟
19 فروری 2020 2020-02-19

٭… کسی کو اندازہ نہیں پاکستان کتنا عظیم ملک بننے جا رہا ہے، عمران خان!

٭… وزیراعظم جناب عمران خان نے پھر کہا ہے کہ پاکستان دنیا کا عظیم ملک بننے جا رہا ہے۔ قوم مایوس نہ ہو۔ معروف چینی فلسفی کنفیوشس کہیں سے گزر رہے تھے کہ کسی نے ان کے لباس پے انگلیاں اٹھائیں، کسی نے بالوں پے اور کسی نے جوتوں کی طرف اشارہ کیا۔ کنفیوشس ان سے کہنے لگا۔ ’’میرے بچو! جب تم اپنے ہاتھ کی ایک انگلی سے کسی کی طرف اشارہ کرتے ہو تو تمہارے اسی ہاتھ کی تین انگلیاں تمہاری طرف اشارہ کرتی ہیں‘‘۔ کوئی شک نہیں۔ ہمارے ہاں کچھ بڑھتے ہوئے عدم تحفظ، دہشت گردی، معاشی مسائل، منفی سیاست، بے روزگاری، مہنگائی کے نام پر مہنگائی اور معاشرتی بگاڑ نے ہماری جسمانی ہی نہیں ذہنی صحت کو بھی متاثر کیا ہے۔ لیکن کیا اس کا حل…؟ مسائل سے گھبرا کر مشکلات میں مزید دب جانا ہے یا ایسی حکمت عملیاں اپنا کر، اپنی سوچ و خیالات کا زاویہ اور انداز بدل کر خوشحال اور صحت مند زندگی گزارنے میں ہے۔ باقی بچے مسائل تو مسائل سے دنیا اَٹی پڑی ہے۔ دنیا کی ایک جگہ بتائیں جہاں مسائل نہیں۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں جہاں مسائل زیادہ ہوتے ہیں وہاں ان کے حل کے امکان بھی زیادہ موجود ہوتے ہیں۔ شرط صرف سیکھنے کی ہے جبکہ ہم کچھ سیکھنے اور سیکھ کر آگے بڑھنے کی بجائے گھٹ گھٹ کر مرنا پسند کرتے ہیں۔ آہیں بھرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے قریب جانے کی بجائے نفرت کرتے ہیں اور برملا اظہار کرتے ہیں، اٹھتے بیٹھتے یہی تاثر پھیلاتے ہیں کہ یہاں کچھ نہیں ہو سکتا؟ ہمارے بدلنے سے یہاں کچھ نہیں بدلے گا۔ یہ ہماری عادت بن چکی ہے۔ حالانکہ ہم اپنے ماضی سے، اپنی غلطیوں سے، دوسروں کے انجام سے، دوسروں کی حماقتوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اس تاریکی سے باہر نکل سکتے ہیں۔ خوشیوں بھری نئی اور خوشحال زندگی شروع کر سکتے ہیں۔ ویسے بھی ہم کیوں نہیں سمجھتے کہ اگر تیمورلنگ جیسا مایوس اور حالات کا مارا ہوا ایک حقیر چیونٹی سے سیکھ کر فاتح بن سکتا ہے، حضرت جنید بغدادی صرف ایک حجام سے اخلاص کا مفہوم لے کر راہ محبت اختیار کر سکتے ہیں تو ہم متحرک اور اچھی زندگی سیکھ کر اسے چاروں طرف پھیلا کیوں نہیں سکتے۔ خدارا مایوسیاں اور ہر وقت کی تنقید چھوڑ دیں، اپنے اعلیٰ ترین دماغوں کو زنگ آلود نہ کریں، ہم تو دنیا کی کایا پلٹ دینے والے لوگ ہیں، کون نہیں جانتا کہ کل ہم کس طرح پہاڑوں کے چراغ تھے۔ ترقی پذیر ممالک میں ہمارا شمار تھا بلکہ کوریا، انڈونیشیا، تائیوان ہماری صنعت سازی دیکھنے آتے تھے بلکہ ہمارا ایک نہری نظام دنیا دیکھ کر دنگ رہ جاتی تھی یا ہماری ریل، پی آئی اے،ثقافت دنیا کے لئے مشعل راہ تھی۔ لہٰذا کیا غم! اگر ہم کچھ دیر کو سو گئے اور راستے کھو گئے! خالقِ کائنات نے ہمیں بے شمار صلاحیتوں سے مالامال کیا ہے اور تسخیر کائنات کا حکم دیا ہے۔ پھر ڈر کیسا خوف کیسا مایوسی کیسی؟ جبکہ دیکھیں، آنکھیں کھولیں اور سامنے دیوار پر تحریر کو پڑھیں کہ پاکستان بدل رہا ہے؟ عربی کہاوت ہے ’’کتوں کے بھونکنے سے بادل ذرہ بھر مرعوب نہیں ہوتے‘‘۔ صرف کھیل کا میدان ہی دیکھ لیں۔ ایک طویل مدت کے بعد پاکستان کی کرکٹ پھر بام عروج کو چھونے جا رہی ہے۔ دنیا بھر کے کرکٹ شیدوائیوں کی نگاہیں پاکستان پر جم چکی ہیں۔ پاکستان سپرلیگ کی بدولت قوم کا جوش و جذبہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کے ایک طویل عرصے بعد چار بڑے سٹیڈیم یعنی قذافی سٹیڈیم، نیشنل سٹیڈیم، راولپنڈی سٹیڈیم اور ملتان سٹیڈیم دلہن کی طرح سج چکے ہیں جہاں 20 فروری سے 22 مارچ 2020 تک ملکی اور غیرملکی کرکٹ سٹارز کے کھیل سے قوم لطف اندوز ہو گی

یعنی اب پھر سے سیٹی بجے گی، کہیں ففٹیاں، کہیں سنچریاں، کہیں جیت ہار اور کہیں کئی ریکارڈ بنیں گے اور ٹوٹیں گے۔ مگر دنیا کہے گی بلکہ تسلیم کرے گی کہ پاکستان بدل رہا ہے اور قوم کامیابیوں کے زینے چڑھنے لگی ہے۔

…………………

٭… مریم نہ ہوتیں تو نواز اس حال میں نہ ہوتے، شیخ رشید!

٭… وفاقی وزیر ریلوے جناب شیخ رشید نے مولانا فضل الرحمن پر غداری کے مقدمے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے حامی نہیں اور یہ بھی کہ مریم بی بی نہ ہوتیں تو جناب نوازشریف اس حال میں نہ ہوتے۔ ویسے لوگ کہتے ہیں کہ محترم شیخ رشید بھی اب 60 سے اوپر کے ہو گئے ہیں اس لئے انہیں معلوم ہی نہیں کہ ایشوز کیا ہیں؟ لہٰذا وہ ایشوز کو سمجھنے کی بجائے ایشولِس گفتگو کرتے رہتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ فضل بھائی پے غداری کا مقدمہ ایسے ہی ہوائی باتیں ہیں۔ اسی طرح لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر شیخ رشید جو ایک سیٹ جیت کر اتنی بڑی وزارت نہ لیتے تو ’’ریل‘‘ کی حالت بھی یہ نہ ہوتی جبکہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے صرف ریلوے کا نظام درست کر کے انقلابی معاشی ترقی حاصل کر لی ہے۔ بہرحال اب ہو گیا سو ہوگیا۔ اب سب کو مل جل کر وہ کرنا چاہئے جو ہم سب کے لئے مفید ثابت ہو ورنہ جس قدر شیخ صاحب بولتے ہیں ڈر ہے کہ کہیں ایک نہ ایک دن وہ بھی اس حالت کو نہ پہنچ جائیں جہاں آج دوسرے پہنچ چکے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اگر اپنی کمیوں اور کوتاہیوں سے کچھ سیکھنے کی

توفیق حاصل کرنی چاہئے نہ کہ اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کے باوجود خود کو حق پر ہمیشہ سمجھنا چاہئے؟

…………………

٭… معیشت بحران سے نکل رہی ہے۔ مشیر خزانہ!

٭… خدا کا شکر ہے اگر یہ سچ ہے ورنہ اکتوبر 2019ء میں سٹیٹ بینک کی مالیاتی جائزہ رپورٹ تو کچھ اور ہی کہہ رہی تھی۔ بہرحال، آج نہیں تو کل ہماری برآمدات میں بھی اضافہ ہوتا ہے تو ہماری معیشت نے بھی بحران در بحران سے نکلنا ہے۔ اگرچہ یہ سب سستی بجلی اور سستی گیس کے بغیر مشکل ہے، ناممکن نہیں۔

…………………

٭… اپوزیشن کو ایک جگہ پر اکٹھا کیا، مگر…؟ فضل الرحمن کا شکوہ۔

٭… ویسے آپس کی بات ہے کہ مجھے محترم فضل بھائی کی سیاست سے سچی محبت پر کوئی شک نہیں ہے مگر ان کی نامناسب خواہشوں پر گلہ ضرور ہے کہ وہ بسااوقات یہ حقیقت تسلیم نہیں کرتے کہ ’’سایہ سیدھا نہیں ہو سکتا اگر لاٹھی ٹیڑھی ہو‘‘۔ حالانکہ جب وہ 30 لاکھ افراد کے ساتھ اسلام آباد پر قبضہ کرنے نکلے تھے تو میں نے انہیں دونوں ہاتھ جوڑ کر مشورہ دیا تھا کہ آپ استعمال ہو جائیں گے۔ ابھی بہار کے دن نہیں ہے۔ آپ خواہ مخواہ جناب اسد عمر اور جناب پرویز خٹک کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ویسے بھی ابھی جناب عمران خان کا ’’استعفیٰ‘‘ ناممکن ہے۔ البتہ بقیہ مطالبات رسمی قسم کے ہیں۔ جو زیادہ سے زیادہ کسی پریس کانفرنس میں بیان کئے جا سکتے ہیں جبکہ ابھی ہمارا مقروض ملک بھی مزید 25 سے 26 ارب روپے کے انتخابی اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ لہٰذا ابھی آرام فرمائیں تو بہتر ہو گا، مگر انہوں نے میری باتیں نظرانداز کر دیں۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ اسلام آباد کی نالیاں بھرنے کے بعد آزادی مارچ خود تحلیل ہو گیا اور اس کی آڑ میں فائدہ اٹھانے والوں نے ایسے ہی فائدہ اٹھایا جیسے آٹا اور چینی کے مصنوعی بحران سے مال بنانے والوں نے فائدہ اٹھایا اور دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ گئے۔ اسی لئے تو میں کہتا ہوں کہ کائنات کے رموز کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے انسان کو سمجھا جائے۔ ورنہ…؟

ہم گلے کس سے ملیں کیسے بجھے دل کی لگی

عید کے دن تو نہ ہونا تھا انہیں عید کا چاند


ای پیپر