سیاست اور قلمکار!
19 فروری 2020 2020-02-19

پاکستان میں سیاسی انتخابات کی تاریخ سات دہائیوں پر مشتمل ہے انتخابات کے ذریعے جتنی بھی سیاسی جماعتوں کو اقتدار ملا انہوں نے جمہوریت کے ثمرات جمہور تک پہنچانے کی بجائے صرف ملکی سیاست کو اپنے اقتدار اور مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کیا۔ المیہ ہے کہ مفاداتی سیاست نے عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، غربت، لوڈشیڈنگ، دہشت گردی، انصاف کی عدم دستیابی،اقرباء پروری، رشوت، سفارش جیسے مہلک مسائل سے دوچار کیا۔ حالانکہ سیاست کو ملک میں جو مرکزیت حاصل ہے وہ دیگر معاشرتی تنظیموں کو نہیں ‘معاشرے کے رسم و رواج ‘اخلاقیات‘مالیات‘تہذیب و ثقافت کا تحفظ اور نشو ونما اس وقت تک ممکن نہیں جب تک معاشرہ سیاسی طور پر منظم نہ ہو۔دنیا کے معاشروں کی سیاست کا جائزہ لے لیں سیاست کی مختلف اقسام آپ کے سامنے ہیں جن میں اقتدار کا حصول‘مذہبی اقدار کا تحفظ‘جمہوری روایات کا تحفظ‘ذاتی مفادات کے تحفظ کے علائوہ حقوق کے حصول کی سیاست شامل ہے ۔پاکستان میں رائج سیاست اتنی سفاک ہے کہ اشرافیہ اور اقتداری طبقات ملک و ملت کے مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ملک و قوم کے وسائل اور خزانے کو بیدردی سے لوٹ کر مل بانٹ کر کھاتے ہیں ۔عوام کو پانچ بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے روٹی‘ کپڑا‘ مکان‘ تعلیم اور صحت لیکن بد قسمتی سے آمرانہ رویوں کی گود میں پرورش پانے والا یہ سیاسی نظام اس حد تک منہ زور ہو چکا ہے کہ ریاست اور اداروں کو ڈکٹیٹ کرتا نظر آتا ہے بنیادی حقوق اور عدل و انصاف سے عاری معاشرہ کیسے دنیا کے دیگر معاشروں کے لئے بہتر لیبارٹری ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاست کا خلاصہ صرف اتنا سا ہے کہ سیاستدان ایکدوسرے کے گندے اور پرانے موزے آپس میں تبدیل کرتے رہتے ہیں اور یہ عوام بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسی جا رہی ہے۔ ملک میں یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں عوام کے بنیادی حقوق اور ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتا دنیا کے تھنک ٹینک ایسے نظام کو جمہوری نہیں گردانتے ان کے مطابق جمہوریت جمہور کی آئینہ دار حکومت ہوتی ہے۔ملک میں

گٹھ جوڑ کی سیاست نے اس ملک و ملت کو یرغمال بنا رکھا ہے میثاق جمہوریت کے نام پر عوام کو ایک نئے فریبی انداز سے دھوکہ دیا جا رہا ہے ملکی سیاست اقتدار کے حصول اور مفادات کے تحفظ کا ایک ایسا کٹھ پتلی تماشا ہے جس میں عوام کے لئے کچھ نہیں ہے۔ملک کے موروثی سیاستدان بازار سیاست کے ایسے بیوپاری ہیں جنہوں نے کرپشن کو نئی جہتوں سے روشناس کروایا صرف اقتدار کے حصول اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے جن کے نعرے‘وعدے اور اعلانات جھوٹ کی گرہ سے بندھے ہیں ۔ملک میں بد قسمتی سے کبھی منصفانہ انتخابات نہیں ہوئے اگر انتخابات فری اینڈ فیئر ہوں تو یہ قوموں کو پروان چڑھانے کے لئے بہت اچھا پراسیس ہوتے ہیں لیکن جہاںگٹھ جوڑ کی سیاست کا رواج ہو وہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق پاور پالیٹکس کا راج ہوتا ہے۔ملکی تاریخ میں ہونیوالی پچیس آئینی ترامیم کا زائچہ دیکھ لیں یہ بھی عوام کے رستے زخموں کا مرہم نہ بن سکیں یہ ترامیم بھی صرف اختیارات کو تقویت دینے کے لئے کی گئی ۔اگر ملک کی عوام اپنی نسل نو کا مستقبل کو محفوظ ہاتھوں میں دیکھنا چاہتی ہے تو پھر ان ہنر مند سرٹیفائیڈ نقب زنوں کا محاسبہ کر کے قومی وسائل اور ملکی دولت کو ان سے بچانے کی ضرورت ہے۔چین کے شہر بیجنگ میں ایک ایسا انسٹی ٹیوٹ ہے جو اقتدار میں آنے سے پہلے سیاستدانوں کی تربیت کرتا ہے صدر سے لے کر وزیر مشیر تک اس ادارے کے سرٹیفکیٹ کے بغیر عہدے کے اہل نہیں ہوتے لیکن پاکستان کی سیاسی و جمہوری جماعتوں کے اندر کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو کارکنان کے سیاسی شعور کی پختگی کے لئے کام کرتا ہوجو کہ ملک میں موجود جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتوں کے قائدین کے لئے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ پاکستان جو چین کے لئے پہلی کھڑکی تھا جس کے ذریعے چین نے دنیا کو دیکھنا شروع کیا آج چین دنیا کی معاشی منڈیوں پر راج کر رہا ہے اور دنیا چین کی مضبوط معیشت کے رول ماڈل کے ذریعے اپنی معاشی سمتوں کا تعین کر رہی ہے لیکن بد قسمتی سے ہم اپنے ہمسایہ ملک چین سے سیکھنے کی بجائے اسی کے در کے مجاور بن گئے۔ان حالات میں اہل قلم ‘ادیب اور دانشور اپنی ذمہ داریوں سے مفر اختیار نہیں کر سکتے ان کرسیوں کے کیڑوں سے ملک و ملت کو نجات دلوانے کے لئے اپنے قلم سے رائے عامہ ہموار کرتے ہوئے ایسی کھیپ تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے جو ایسے سیاستدانوں کو جمہوری انداز میں مات دے کر انہیں ہمیشہ کے لئے عبرت کا رزق بنا دے ۔ ماضی میں چراغ حسن حسرت، عبدالمجید سالک، مِ،ش،وقار انبالوی، شوکت تھا نوی ، مجید لاہوری، طفیل احمد جمالی اور انعام درانی جن کا معروف و مقبول کالم نویسوں کی فہرست میں شمار ہوتا تھا اہل قلم ،اہل دانش اور ادیب ملک و ملت کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جو اپنی فہم ودانش اور قلم سے ملک وقوم کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں تاریخ کے اوراق کی تہوں میں جھانک لیں تو معلوم ہو گا کہ دنیا کی بڑی ااقوام اور ممالک میں جتنے انقلاب رونما ہوئے ان کے پس پردہ محرکات میں اہل قلم،اہل دانش اور ادیب ہی کی فکر موجود تھی اہل قلم کی تحریر کا ہر لفظ وسیع علم، تجربے،بصیرت اور فکر ونظر کا حامل ہوتا ہے۔ قلمکار یقینا ملکی مسائل سمیت سیاست کے نشیب و فراز سے اپنے قاری کو اپنے لفظوں کے ذریعے آگہی پہنچا کر اپنے فریضہ سے سبکدوش ہونے کی سعی میں مصروف عمل ہیں جن میں صف اول کے کالم نویس ڈاکٹر اے آر خالد بھی شامل ہیں ملک کے ممتاز کالم نویس جن کے کالم ایک قومی مئوقر روزنامہ اخبار میں شائع ہورہے ہیں ان کے کالموں کو یکجان کرتے ہوئے قلم فائونڈیشن انٹرنیشنل کے پبلشرعلامہ عبدالستار عاصم صاحب نے ’’کرسیوں کے چند کیڑے ملک سارا کھا گئے‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل دی جس کا ایک نسخہ مجھے بھی ارسال کیا۔ ڈاکٹراے آر خالد مصنف کی قلمی جدو جہدقاری کے لئے بڑی حو صلہ افزا ہے اپنی قلم سے معاشرہ میںوہ ایک ایسی کھیپ تیار کر رہے ہیں جو مستقبل قریب میں اپنے مسائل کے حل کے لئے فکر مند ہوںکتاب سے جڑا مصنف کا رشتہ یہ احساس ضرور دلاتا ہے کہ ایک کالم نگار اپنی قلمی ذمہ داریوں کا احساس اسی صورت کر سکتا ہے جب اس کا کتاب سے تعلق دوستی کے سفر پر گامزن ہو گا ایک کالم نگار کی حالات حاضرہ اور مستقبل میں آ نے والی سیاسی ، سماجی اور معاشی تبدیلیوں پر گہری نظر ہوتی ہے۔ پاکستانی سیاست کے نشیب وفراز اور عالمی ایشو ز پر نظر رکھنے والوں کے لئے ڈاکٹر اے آر خالد کی کتاب بیش بہا خزینہ ہے اور ان کے کالموں کا یہ مجموعہ پاکستان کی سیاست کا وہ باب ہے جو ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ۔


ای پیپر