راجا یاسر سرفراز ہمایوں کے نام
19 فروری 2020 2020-02-19

راجا یاسر سرفراز ہمایوں پنجاب میں اعلیٰ تعلیم یعنی ہائیر ایجوکیشن کے منسٹر ہیں، میرا ان سے دو چار ملاقاتوں میں تبادلہ خیال کا تجربہ ہے، بات چیت میں ڈیسنٹ، وژنری اور لاجیکل لگتے ہیں خاص طور پرجب ان سے میٹرک کے روایتی ناقص امتحانی نظام بارے مکالمہ ہوا تو انہوں نے امپریس کیا لہٰذا کم از کم مجھے ان سے یہ اُمید ہرگزنہ تھی کہ وہ بھی وہی کچھ کریں گے جو ان کے کابینہ میں جمع کئے گئے بھائی بندکر رہے ہیں، مطلب اپنے ہی شعبے کی تباہی، جبکہ ان کا شعبہ وہ ہے جو پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کی یونیورسٹیوں کو ڈیل کرتا ہے جنہیں ہم پی ٹی آئی کی نظریاتی نرسریاں کہہ سکتے ہیں۔ کیاوہ پبلک کے بعد پرائیویٹ سیکٹر کی ان یونیورسٹیوں کو تباہ کرنا افورڈ کرسکتے ہیں ،اقتدار بارے سازشی تھیوریوں کو ایک طرف رکھئے، یہ تو درخت پر بیٹھے اس شخص جیسا حال ہے جو اسی شا خ کوکاٹ رہا ہے جس پر وہ بیٹھا ہوا ہے۔

جی ہاں ! راجا یاسر سرفراز ہمایوں وہی غلطی کرنے جا رہے ہیں جو محترمہ یاسمین راشد صحت کے شعبے میں کر رہی ہیں، کیا وہ ان سے سبق نہیں سیکھ رہے۔ راشد منظور ایجوکیشن بیٹ کے سینئر رپورٹر ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ پنجاب کی حکومت اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اربوں روپوں کی سرمایہ کاری کوتباہ و برباد کرنے جار ہی ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی یونیورسٹی کو نئی فیکلٹی یا ڈپیارٹمنٹ کھولنے کے لئے ہائیر ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے گورنر ہاو¿س تک پانچ سے چھ صوبائی اور وفاقی اداروں سے منظوری لینا پڑتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ایک فائل چھ، چھ اور سات، سات برس پھنسی رہتی ہے جیسے یونیورسٹی آف لاہور کا پاک پتن میں سب کیمپس کوئی پچاس کروڑ روپے مالیت کی عمارت کے ساتھ تعمیر ہو گیا مگر منظوری سات برس تک نہ مل سکی۔منظوری نہ ملنے کی وجوہات بھی نامعلوم رہتی ہیں۔ اب نئی قانون سازی کی جار ہی ہے جس کے بعد منظوری کے بغیر سب کیمپس یا ڈپیارٹمنٹ کھولنے پر پانچ برس تک قید اور پچاس لاکھ روپوں تک جرمانے بھی کئے جا سکیں گے یعنی خرابی اس ہائیر ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ کی ہو گی جس کے تبدیلی سرکار قائم ہونے کے بعد دس ماہ میں دس سیکرٹری بدل گئے اور سزا ان کو ملے گی جو اس ملک میں نوجوان کے مستقبل کےلئے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ عام پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو ایک طرف رہنے دیجئے، میجر جنرل ریٹائرڈ عبید بن ذکریا بتا رہے تھے کہ وہ لاہور گیریژن یونیورسٹی میں ڈیجیٹل فرانزک کا شعبہ شروع کرنا چاہ رہے تھے، منظوری کوئی سوا برس بعد ملی۔

پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران، پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ہیں، آپ سرکاری اورپرائیویٹ یونیورسٹیوں کی ایڈمنسٹریشن کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، اگر وہ غلط کہتے ہیں تو ان کے پیش کردہ حقائق اور اعداد و شمار کو غلط ثابت کر دیجئے۔ ہائیر ایجوکیشن کے قانون میں تعلیم دینے والوں کے لئے ڈرگز ایکٹ میں دی گئی سزائیں تجویز کی جار ہی ہیں۔حکومت منصوبہ بندی کر چکی ہے کہ وہ استاد کو لائسنس جاری کرے گی اور دلچسپ امر یہ ہے کہ لائسنس جاری کرنے والے اساتذہ کے بجائے بیوروکریٹ ہوں گے۔ یہی وہ بیوروکریسی ہے جو اساتذہ کو اپنے ہی نہیں بلکہ اپنے سپرنٹنڈنٹوں اور کلرکوں کے کمروں کے باہرچھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے گھنٹوں نہیں بلکہ دنوںبٹھائے رکھتی ہے۔ یہی وہ بیوروکریسی ہے جو فائلوں کو دنوں، ہفتوں اورمہینوں نہیں بلکہ برسوں تک لٹکائے رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ اس سرخ فیتے کا خاتمہ کرتی، پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے اپنے اداروں کو اختیارات دیتی جیسے پبلک یونیورسیٹیوں کے سینڈیکیٹ بااختیار ہیں۔

میر اگمان تھا کہ یاسمین راشد اور راجا یاسر سرفراز ہمایوں جیسے لوگ پنجاب کی روایتی بیوروکریسی کے پنجے کمزور کر یں گے جس نے صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے مگر یہ بھی نوکر شاہی کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بن کے رہ گئے ہیں۔ میں آپ کے سامنے بین الاقوامی اور بین الصوبائی دو موازنے رکھوں گا اورپھر آپ فیصلہ کیجئے گا کہ اس تباہی کے ذمہ داروں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے۔ پہلا موازنہ پاکستان کا دوسرے ممالک سے ہے،اس وقت ترکی 69فیصد،ایران 52فیصد،انڈیا 25فیصد، سری لنکا 17فیصد اور بنگلہ دیش اپنے ساڑھے 13فیصد نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم دے رہا ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح صرف ساڑھے 9فیصد ہے جس سے آپ کو اپنے ملک کے مستقبل کا اندازہ ہوجانا چاہئے ۔ اس میں صرف پی ٹی آئی کی حکومت کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ہم جس پرویزمشرف کو غیر جمہوری، آمراور آئین شکن کہتے ہیں، اس کے دور میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی کوششیںملتی ہیں مگر اس کے بعد آصف علی زرداری اورنواز شریف کے ادوار مجرمانہ غفلت کا شکار نظر آتے ہیں۔

اگر دوسرے ملکوں سے موازنہ کرتے ہوئے پاکستان میں اعلی تعلیم کا ستیا ناس ہے تو پنجاب کی بیوروکریسی نے سوا ستیاناس کر رکھا ہے ، جناب مجاہد کامران کے ریفرنس سے مزیداعداد و شمار حاضر ہیں کہ ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے ساڑھے سترہ لاکھ طالب علم ہیں۔ اگر ہم آبادی کے تناسب کو سامنے رکھیں تو پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کے طالب علمو ں کی تعداد نولاکھ کے لگ بھگ ہونی چاہئے مگر یہ تعداد تین لاکھ پچاسی ہزار ہے جو محض بائیس فیصد بنتے ہیں، ان میں سے ایک لاکھ دس ہزارپرائیویٹ یونیورسٹیوں میںہیں۔ ایسے میں اگر راجا یاسر فراز ہمایوں کی وزارت یہاںاعلیٰ تعلیم کے نجی اداروں پر بندشوں اور قدغنوں کی بھرمار میں کامیاب ہو گئی تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پبلک کے بعد پرائیویٹ سیکٹر بھی کس طرح تباہ ہوگا۔ پبلک سیکٹر اس وقت ایچ ای سی کے بجٹ میں پچاس فیصد تک کمی کے بعد اپنے پروگرامز ، ریسرچز اور سکالرشپس بند کررہا ہے۔وزیر موصوف پنجاب کی جس بیوروکریسی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں وہ خیبرپختونخوا اور سندھ کی بیوروکریسی سے زیادہ ظالم اور کرپٹ ہے۔ مو¿خرالذکر دونوں صوبوں کے محکمہ ہائے تعلیم جب اسمبلی سے کسی پرائیویٹ یونیورسٹی کو چارٹر دلواتے ہیں تو قانون کے اندر لکھا ہوتا ہے کہ یہ یونیورسٹی پورے ملک میں اپنے سب کیمپس کھول سکتی ہے مگر پنجاب کی جامعات کے جہاں دوسرے صوبوں میں جانے پر پابندی لگا دی جاتی ہے وہاں اپنے صوبے میں ہرنئے سب کیمپس کی الگ منظوری درکار ہوتی ہے ، یہ شرط کیوں رکھی جاتی ہے ا س سے ہر پاکستانی اچھی طرح آگاہ ہے ۔ خبردار رہئے کہ پاکستان اس وقت دوسرے ملکوں کی یونیورسٹیوں کی چراگاہ بنتا جا رہا ہے، وہ ہمارا ٹیلنٹ چوری کر رہی ہیں، ان میں ایسی یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں جو اپنی حکومتوں کے تعاون سے ٹیوشن فیس معاف کرتے ہوئے ہمارے نوجوانوں کو اچک لیتی ہیں اور پھر وہ کبھی واپس نہیں آتے۔میں نے دو روز قبل ایک بڑے ہوٹل میں ملائشیا، جرمنی، آئیرلینڈ اور کینیڈا کا سٹڈی فئیر دیکھا ہے، ان ممالک میں یونیورسٹیوں نے اپنے شہرآباد کررکھے ہیں مگر ہمارے ہاں علم کے آباد شہروں کو بھی آباد رہنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ اگر پنجاب کی حکومت جامعات کوسزاو¿ں اوراساتذہ کو لائسنسوںجیسے معاملات پر تعلیم دشمن قانون سازی کرنے میں کامیاب رہی تو لاکھوں طلبا اور ہزاروں اساتذہ کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں اب تک کی گئی اربوں روپوں کی سرمایہ کاری تباہ ہوجائے گی جو ہماری تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہوگا۔ سقوط ڈھاکہ میںہم نے اپنا ایک بازو کھویا تھا لیکن اگر تعلیم کا سقوط ہو گیا تو ہم اپنا آنے والا کل، اپنا مستقبل کھو دیں گے۔

پنجاب کے نوجوان وزیر تعلیم کو اپنی آنکھوں پر بیوروکریسی کی طرف سے باندھی گئی پٹی اتار کر دیکھنا چاہئے کہ وہ ا نہیں جہاں کھڑا کیا جا رہا ہے وہاںان کا بھاری پاو¿ںجامعات کی آکسیجن کے پائپ پرہے، انہیں چند قدم پیچھے ہٹنا ہو گا۔ وہ دیکھیں، جن لوگوںکے مستقبل تاریک ہوں گے وہ پی ٹی آئی کا ہی اثاثہ کہلاتے ہیں۔ کیا منظر ہو گا جب یہ سب ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اپنی اس غلطی کا ماتم کر رہے ہوں گے جو انہوں نے تبدیلی کا خواب دیکھ کر کی تھی۔ اساتذہ ، طالب علموں کو بتا رہے ہوں گے کہ تبدیلی کے اس ایک خواب کی تعبیر اتنی بھیانک ہے کہ اس نے اچھے مستقبل کے باقی تمام خواب بھی چکنا چور کر دئیے ہیں۔ جناب عمران خان کو بھی سمجھنا چاہئے کہ پنجاب حکومت میں دوسرے وزراءجو مرضی کرتے رہیں مگر یاسمین راشد اور راجا یاسر سرفراز ہمایو ں کو وہ ہرگز نہیں کرنا چاہئے جو وہ کر رہے ہیں۔


ای پیپر