19 فروری 2019 2019-02-19

میں آج سعودی عرب سے آئے ہوئے اپنے مہمانوں کے شاندار استقبال اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے کئی شعبوں میں ہونے والے ایسے معاہدوں پر لکھنا چاہتا تھا جن کے مستقبل میں پاکستان کو بے پناہ فوائد ہوں گے، میں اس پر اگلے کالم میں عرض کروں گا، فی الحال میں اس ”ویلنٹائن لو“ پر مزید عرض کرنا چاہتا ہوں جس کا رجحان ہمارے ہاں روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ خالص محبت اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا ”خالص محبت“ کی اب کسی کو ضرورت ہی نہیں رہی، ایک زمانے میں محبت کے موضوع پر ہونے والی، پائی جانے والی شاعری دلوں پر بڑا اثر کرتی تھی۔ اب محبت کے موضوع پر شاعری بھی بس ایسی ہی ہوتی ہے جو دلوں پر اتنی اثر نہیں کرتی جتنی صحت پر کرتی ہے اگلے روز محبت کے موضوع پر ایک مختصر ترین نظم پڑھ کر مجھے بڑا ”دکھ“ ہوا میں نے یہ نظم بار بار پڑھی، میں آپ کو اپنے ”دکھ“ میں شریک نہیں کرنا چاہتا۔ یاد آیا ”ملاوٹی محبت“ کے موضوع پر لکھا جانے والا میرا گزشتہ کالم ”لویو“ میرے ایک صحافی دوست کو پسند نہیں آیا، اس کا خیال تھا یہ غیراخلاقی تجربہ ہے، میرے ایف سی کالج کے ایک شاگرد عزیز (کرائم رپورٹر) نے بھی ایسے ہی کچھ کمنٹس دیئے، میری ان سے گزارش ہے کسی روز میرے پاس تشریف لائیں یا مجھے اپنے پاس بلا لیں تاکہ میں ان سے ”اخلاقیات“ سیکھ سکوں، اللہ جانے اس المیے سے ہماری جان کب چھوٹے گی، ہمارے ہاں ہر شخص دوسروں کو ٹھیک کرنا چاہتا ہے۔ خود نہیں ہونا چاہتا اور دوسروں کو بھی وہ صرف اپنے لئے ٹھیک کرنا چاہتا ہے، باقی سب کے لئے وہ چاہے جتنے بھی خراب ہوں اس کی اسے کوئی پروا نہیں ہوتی۔ جہاں تک ”ملاوٹی محبت“ کا تعلق ہے والدین سے بڑھ کر رشتہ دنیا میں کوئی نہیں ہوتا، ماں کو تو دنیا میں خدا کا دوسرا روپ قرار دیا گیا ہے، افسوس یہ رشتے بھی، اولاد کے لئے اب قابل قدر نہیں رہے، اگلے روز ایک واقعے نے مجھے حیران کر دیا اک نوجوان عزیز مجھ سے ملنے آیا کچھ دیر بعد اس نے اجازت چاہی، کہنے لگا مجھے ایک ضروری کام سے نیشنل ہسپتال ڈیفنس جانا ہے میں نے پوچھا خیریت ہے؟ وہ بولا ”میں نے اپنے ایک دوست کی والدہ کو لے کے جانا ہے وہاں ایک ڈاکٹر کے ساتھ ان کی اپوائٹمنٹ ہے میں نے پوچھا ”وہ دوست خود اپنی والدہ کو لے کر کیوں نہیں جا رہا؟ وہ آپ کو ان کے ساتھ کیوں بھیج رہاہے؟ کہنے لگا ”سر اصل میں عین اسی وقت اس نے ضروری کام جانا تھا، تو اس نے مجھ سے کہہ دیا امی کو تم لے جانا.... میں نے عرض کیا ”یار یہ کتنی بری بات ہے“ کہنے لگا ”سر اس میں بری بات کیا ہے؟ دوستوں کے کام آنا چاہیئے ایک بار ایسے ہی وہ میرے بھی کام آ چکا ہے....“ اب آپ خود اندازہ لگا لیں والدین کے رشتے اگر اولاد کے لئے قابل قدر نہیں رہے تو باقی رشتوں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ ہم ایسے ہی ”گوروں“ کو کوستے رہتے ہیں کہ وہ رشتوں کی قدر نہیں کرتے، خصوصاً جب ان کے والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں وہ انہیں ”اولڈ ہومز“ میں چھوڑ آتے ہیں، پچھلے برس میں نے کینیڈا ٹورنٹو میں ایسا ہی ایک جگہ ایک گورے سے کہا آگے سے اس نے یہ گلہ کر دیا کہ مشرقی دنیا والوں نے اس حوالے سے ایسے ہی ہمیں بدنام کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے گوری دنیا میں ملازمتیں اور کاروباری مجبوریاں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کوئی لاکھ چاہے اپنے والدین کو ان کے حق کے مطابق وقت نہیں دے پاتا، سو اکثر والدین یا بوڑھوں کی اپنی یہ خواہش ہوتی ہے ان کی اولاد انہیں ”اولڈ ہومز“ میں چھوڑ آئے، جہاں ان کی عمر کے مطابق ان کی ہرضرورت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ وہاں وہ اپنے ہم عمروں کے ساتھ اپنے گھروں سے بھی زیادہ خوش رہتے ہیں۔ اس گورے نے بتایا میں ہر ویک اینڈ پر اپنے والدین کو گھر لے آتا ہوں ان کی خدمت کرتا ہوں ان کے ساتھ وقت گزارتا ہوں مگر کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ویک اینڈ پر گھر آنا پسند نہیں فرماتے، اولڈ ہومز میں اپنے ہم عمروں کے ساتھ ان کا زیادہ جی لگتا ہے۔ اس گورے نے مجھے آفر کی تم اگر چاہو میں تمہیں اپنے والدین سے ملوا سکتا ہوں وہ خود تمہیں بتائیں گے میں ان سے کتنی محبت کرتا ہوں۔ تم یہ بھی ان سے پوچھ لینا وہ کہاں رہناپسند کرتے ہیں....؟ میں سوچ رہا تھا ہمارے اگر ”اولڈ ہومز“ ہوں وہاں بھی ویسی سہولیات ہوں جیسی گوری دنیا کے اکثر اولڈ ہومز میں ہوتی ہیں، ہم میں سے بھی کئی لوکوں کے والدین کی شاید یہ خواہش ہو انہیں گھروں سے نکال کر اولڈ ہومز میں بھجوایا دیا جائے، گوروں کے پاس واقعی وقت نہیں ہوتا، معاشی اور دیگر معاملات سے نمٹنے کے لئے انہیں کئی کئی گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے صرف والدین کو نہیں دیگر خونی رشتوں کو بھی وہ وقت نہیں دے پاتے، اس کے برعکس ہمارے ہاں بے شمار لوگوں کے پاس بہت فالتو وقت ہوتا ہے اس کے باوجود ان کے بوڑھے والدین یا دیگر خونی رشتے ترستے رہتے ہیں وہ ان کے ساتھ کچھ وقت گزاریں، ان کے ساتھ پیار بھرے دو بول بولیں، ان کی خدمت کریں، یہ نہیں کہ سبھی ایسے ہوتے ہیں، رشتوں کو اہمیت دینے والے بھی بہت ہیں مگر میرا دل اس وقت کانپ اٹھتا ہے جب ایسی خبریں پڑھنے یا سننے کو ملتی ہیں فلاں شخص نے اپنی بیوی کے کہنے پر ماں کو گھر سے نکال دیا، فلاں شخص نے جائیداد کے جھگڑے میں باپ کو قتل کر دیا، فلاں شخص نے سگے بھائی کو موت کے گھاٹ اتار دیا یا فلاں عورت نے اپنے آشنا سے مل کر اپنے خاوند کو مار دیا، ایک زمانے میں سب سے بڑا رشتہ ”انسانیت“ کا بھی ہوتا تھا، وہ بھی اب ڈھونڈنے سے نہیں ملتا، ملاوٹی محبت کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے، یہ ہر کسی سے ہو جاتی ہے اور پھر ختم بھی ہو جاتی ہے، اس کے شروع ہونے کا پتہ چلتا ہے نہ ختم ہونا کا.... ابھی کل کی بات ہے ایک صاحب ملنے تشریف لائے دوران ملاقات وہ غیر ضروری طور پر ایک ہی جملہ بار بار دہرائے جا رہے تھے کہ ”مجھے آپ سے بڑی محبت ہے....“ مجبوراً مجھے بھی دو تین بار عرض کرنا پڑا ”مجھے بھی آپ سے بڑی محبت ہے“ پھر اچانک انہوں نے مجھ سے پوچھا آپ میری شراب چھڑوا سکتے ہیں؟“ مجھے پتہ تھا وہ شراب پیتے ہیں میں نے سوچا ”وہ شاید دینی حوالے سے مجھ سے کوئی ”وظیفہ“ وغیرہ پوچھ رہے ہیں جس سے ان کی شراب کی عادت چھوٹ جائے.... میں نے عرض کیا ”ہاں چھڑا سکتا ہوں“ وہ بولے ”چلیں پھر اٹھیں اور لاہور ایئرپورٹ پر میری شراب پکڑی گئی ہے وہ چھڑوا دیں“ میں نے بڑے ادب سے ان سے معذرت کی، میں نے عرض کیا ”میں ایسے کام نہیں کرتا“ اس پر وہ غصہ کر گئے اور فوراً اٹھ کر چلے گئے ان کی وہ محبت بھی ساتھ ہی چلی گئی جس کا اظہار چند لمحے پہلے وہ بار بار کر رہے تھے۔


ای پیپر