19 فروری 2019 2019-02-19

لاہور کے دل دھرتی پر بوند ا باندی جاری تھی، منچلوں کے سرخ گلاب بھیگ رہے تھے ان کا ”ویلنٹائن ڈے“ بدمزا ہورہا تھا مگر ہم دھیرے دھیرے فیض احمد فیض کو یاد کررہے تھے۔ 14فروری فیض کی ولادت کا دن تھا۔ محبت کے دن فیض کی آمد کی وجہ جانناضروری ہو تو فیض کی روحانی شاعری پڑھی جاسکتی ہے۔ یوں تو فیض کی یاد کو ان کے اہل خانہ نے کمرشل کردیا ہے مگر فیض کو رنگوں کی زبان دینے والا ایک جینوئن فنکار اسلم کمال اسی شہر میں اپنے محبوب شعراءکو الگ انداز میں یاد کرتا ہے۔ شہرسیالکوٹ نے تین عظیم سپوت پیدا کیے ہیں خاص طورپر تخلیق کاری کے حوالے سے دیکھا جائے تو علامہ محمد اقبال اور فیض احمد فیض سیالکوٹ کی مٹی کے وہ گلاب ہیں جن کی خوشبو آج بھی تروتازہ اور جوان ہے۔ اسلم کمال نے بھی اسی سرزمین کے ایک گاﺅں میں آنکھ کھولی۔ اس کے بھی رنگ باتیں کرتے ہیں اور باتوں سے خوشبو آتی ہے۔ میں بتارہا تھا کہ رم جھم کی برستی پھوار میں ہم ”الحمرائ“ کے مدیر محترم شاہد علی خان کی دعوت پر جم خانہ جارہے تھے جہاں ایک مختصر مگر نہایت بھرپور اور جامع ”محفل دوستاں“ آباد تھی۔ بڑے لاﺅنج میں بیٹھے ہوئے باہر کی رم جھم اور موسم کی تانک جھانک میں شیشے سے کبھی کبھی کوئی خوبروحسینہ اپنے بال درست کرتے بالکل اسلم کمال کی نشست کے قریب آجاتی تو شاہد علی خاں کی کرسی پر سمٹ جاتے۔ احتشام ربانی وضاحت کرتے: ”اصل میں باہر والے کے لیے یہ شیشہ ”آئینہ“ ہے ہم تو باہر والوں کو دیکھ سکتے ہیں مگر باہر والے آئینہ میں اپنے آپ کو دیکھ کر مزید سنوارنے لگتے ہیں ۔“

یادوں کی سلگتی ہوئی دھونی میں ہم اس قدر مگن تھے کہ وقت کا احساس ہی نہ تھا۔ ہم اسلم کمال کی داستاں گوئی کے تو پہلے بھی قائل تھے، اب ان کی کھٹی میٹھی گفتگو کے جادو کے مزید اسیر ہوگئے۔ وہ بریڈ فورڈ کے پارک میں کسی گوری سے اپنی ہونے والی گفتگو سنواتے، اپنی شاندار مصوری کی نمائشوں کا تذکرہ کرتے تو ہم ان کی انگلی تھامے ان کے ہمراہ لندن اور لاہور کی ادبی ثقافتی تقریبات اور شخصیات میں کھو جاتے۔

اسلم کمال بتانے لگے کہ ”انہوں نے 1977ءجو علامہ اقبال کے سال کے طورپر منایا گیا اقبال کو کینوس پر اتارا۔ اس نمائش کے دوران ان کی ملاقات فیض احمد فیض سے ہوئی اور ان کے پبلشر نے مجھے کہا کہ خوشخبری یہ ہے کہ اب آپ فیض کی شاعری کو کینوس پر لائیں گے۔“ نسخہ ہائے وفا، فیض کا یادگار کلیات ہے اس میں اسلم کمال کے رنگ فیض کی شاعری سے باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسلم کمال نے اسے ”Poetry on canvas“ کا نام دیا ہے تو بہت خوب دیا۔ فیض احمد فیض کے حوالے سے وہ واحد مصور ہیں جنہوں نے فیض کی شاعری کو رنگوں کی زبان دی اور اسے Poetry on canvasکا نام بھی دیا۔ انہوں نے فیض کی نظموں کو تخلیقی نگاہ سے دیکھا اور عام ”ایسٹریشن“ کے بجائے اس میں معنویت کے کئی درقارئین پر منکشف کئے۔“

فیض اور علامہ اقبال دونوں سیالکوٹ سے ہیں دونوں پنجابی ہیں اور دونوں کے ایام بھی منائے جاتے ہیں۔ دونوں کا واحد مصور بھی سیالکوٹی اسلم کمال ہے۔ اسلم کمال حقیقی معنوں میں دونوں کے پرستار ہی نہیں ”پرچارک“ بھی ہیں۔ اصل ورثہ تو یہی ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی جب فیض کا میلہ منعقد کیا جاتا ہے تو اسلم کمال ہمیں کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ ان کی مصورانہ اور تخلیقی صلاحیتوں کی داد خود فیض صاحب نے انہیں ہمیشہ گلے لگا کر دی۔ اسلم کمال کے آدمی ہیں۔ ان کی باتیں سنتے ہوئے انسان بوریت کا شکار نہیں ہوتا، وہ واقعات کو اتنی جزئیات کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ واقعتاً کہانی تصویروں میں ڈھل جاتی ہے۔

”الحمرا“ مو¿قر ادبی جریدہ ہے شاہد علی خان نے فیض کے خاندان والوں کی طرح اپنے والد حامد علی خان کو کمرشل نہیں کیا۔ ان کی شاعری اور تخلیقی جہات کو نمایاں ضرور کیا۔ اب برسوں سے ان کی یاد میں الحمرا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس میں اسلم کمال کی ادبی اور تخلیقی زندگی کے واقعات بھی شائع ہوتے ہیں۔ اب تو ان واقعات میں سے منتخب ”یادداشتیں“ کتابی صورت میں بھی شائع ہوگئی ہیں۔ فیض کی سالگرہ کے روز اس چھوٹی سی نشست میں سبھی احباب فیض کو یاد کررہے تھے۔ تنویر ظہور نے فیض کی پنجابی شاعری پر بات کی۔ اپنی کتاب میں فیض کا وہ خط بھی پڑھ کر سنایا جو تنویر ظہور کو انہوں نے بیرون ملک سے تحریر کیا تھا۔ جب وہ رسالہ ” لوٹس Lotus“کے مدیر تھے۔ انہوں نے تنویر ظہور کو بیٹے کی ولادت کی مبارکباد دی اور اس کا نام فیض رکھنے پر ودھائی بھی پیش کی۔ اسلم کمال نے فیض کی وطن سے محبت کا ذکرکرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں فیض کو ایک بھارتی آفیسر یہ جتلارہا تھا کہ دیکھئے فیض صاحب آپ کو پاکستان میں جب بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے آپ کو بھارت میں محبت ملتی ہے یہاں ہم آپ کی خدمت کرتے ہیں آپ پھر بھی ....“ بھارتی کا مقصد تھا کہ فیض یقیناً اب پاکستان کے خلاف بات کریں گے مگر فیض نے اپنے مخصوص انداز میں سگریٹ کا کش لگایا اور کہا : ہاں بھئی آپ ٹھیک کہتے ہیں بھارت میں ہمیں بڑی محبت ملتی ہے۔

انڈیا ہماری محبوبہ جو ٹھہری اور ”پاکستان توہماری منکوحہ ہے۔ کیا کیا جائے۔“

”ویلنٹائن ڈے “ہم نے فیض کو یاد کرکے گزارا۔ ظفر سپل ، سعداللہ شاہ، فرخ محمود اور کچھ دیگر دوست اور بزرگان بھی محفل کا حصہ رہے۔ اسلم کمال شعر پڑھتے اور سعداللہ شاہ کو کہتے اس طرح شعر پڑھا کیجئے۔ شعر پڑھتے ہوئے خود کو بھی لطف آنا چاہیے۔ پیارے موسم میں یہ ایک یادگار شام تھی۔ چلتے چلتے نذیر قیصر کی نظم کی سطریں اسلم کمال کی نذر:

بس تمہارے لیے یہ غزلیں، یہ نظمیں

یہ کاغذ پہ اڑتے پرندے

پرندوں کے نغمے

یہ ٹیبل پہ رکھی ہوئی انگلیاں

صبحوں شاموں کی نارنجی قاشیں

یہ لفظوں کے پوشاک پر

رنگ، خوشبو ہوا روشنی

اور سایوں کی صورت گری

بس تمہارے لیے

ہماری یہ برسوں کی جادوگری


ای پیپر