Government, blackmailing, food factory, owners, Maryam Nawaz
19 دسمبر 2020 (14:07) 2020-12-19

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری محکموں کی جانب سے فوڈ فیکٹریز مالکان کو بلیک میل اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔

اپنی ٹویٹ میں مریم نواز نے کہا کہ ملز مالکان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ وہ 8 روپے کلو مہنگی گھٹیا کوالٹی کی چینی خریدے یا اپنے فیکٹریاں بند کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر جگہ سے یہ شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

واضح رہے کہ آج کل ن لیگ کی نائب صدر سیاسی طور پر بہت زیادہ متحریک ہیں اور حکومت کی خامیوں اور ناکام پالیسیوں کو فوری طور پر عوام کے سامنے بے نقاب بھی کر رہی ہیں۔

مریم نواز کا کہنا ہے کہ جعلی وزیراعظم عمران خان کے گھر جانے تک وہ سکون سے نہیں بیٹھیں گی۔ وہ پی ڈی ایم تحریک کا حصہ بھی ہیں جن میں 11 سیاسی جماعتیں ہیں اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اس تحریک کو چیئرمین ہیں۔

دوسری جانب ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے کو 400 ارب کی چینی چوری کرنے والوں کا فیس کیوں نہیں نظر آتا ؟ نیب اور ایف آئی اے کو ہزاروں ارب کی دوائیاں چوری کرنے والوں کے فیس کیوں نظر نہیں آتے ؟ نیب اور ایف آئی اے کو بلین ٹری کی اربوں روپے کی چوری کا سونامی لانے والوں کے فیس کیوں نہیں نظر آتے ؟ 

انہوں نے مزید کہا کہ نیب اور ایف آئی اے کو بی آر ٹی پشاور کے 126 ارب روپے کی چوری کرنے والوں کے فیس کیوں نظر نہیں آتے ؟ اس کے علاوہ نیب اور ایف آئی اے کو 23 فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کی ڈکیتی کرنے والوں کے فیس کیوں نہیں نظر آتے ؟ انہوں نے کہا کہ حکومت صرف چور چور کا شور مچا رہی ہے۔


ای پیپر