All Pakistan, Cement Manufacturers, Association, cement companies, nexus, profit, billions
19 دسمبر 2020 (12:48) 2020-12-19

چند روز قبل یعنی 16 دسمبر 2020ء کو ٹی وی پر بتایا جا رہا تھا کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان (Compitition comission of Pakistan) نے ایک انکوائری کے بعد بتایا ہے کہ آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور سیمنٹ کی کمپنیوں نے گٹھ جوڑ سے سیمنٹ کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کرکے گزشتہ 8ماہ میں چالیس ارب روپے کا منافع کمایا ہے۔اب اگر آپ اس انکوائری کی تفصیلات میں جا کر دیکھیں تو آپ یہ دیکھ کر حیران اور پریشان ہو جائیں گے کہ کئی کمپنیوں نے کئی کئی سو فیصد منافع تقریباً پونے سال میں کمایا ہے۔مجھے تو وہ دن یعنی 21اپریل 2020ء کبھی نہیں بھولتا جب سیمنٹ مینوفیکچرر ایسو سی ایشن کا ایک نمائندہ وزیراعظم سے اسلام آباد میں ملا تھا اور انہیں کرونا فنڈز کے لیے ڈھائی کروڑ روپے کا چیک دیا تھا اور واپس آتے ہی سیمنٹ کے پچاس کلو کے تھیلے میں ساٹھ روپے کا اضافہ کر دیا تھا، یعنی جو تھیلا چار سو ساٹھ روپے کا بک رہا تھا وہ بائیس اپریل 2020 ء کو520 روپے کا ہو چکا تھا۔ وزیراعظم کا کرونا کے لیے یہ ڈھائی کروڑ روپے کا فنڈ لینا قوم کو کتنا مہنگا پڑا اس کا آپ خود اندازہ لگا لیں۔ اس سے بھی بڑھ کر قابل غور بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے 2 مئی 2020 کو بنفس نفیس خود ایک پریس کانفرنس کرکے قوم کو بتایا تھا کہ ہم نے صرف ایک مہینہ میں ڈیزل کی قیمتوں میں بیالیس روپے فی لیٹر کمی کی ہے اور اب ہمارے ملک میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت برصغیر کے تمام ممالک سے کم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے کنسٹرکشن سیکٹر کو اب ایک انڈسٹری کا درجہ دے دیا ہے اور اس ڈیزل کے ریٹس میں کمی سے کنسٹرکشن سیکٹر سے ملحقہ کئی انڈسٹریز کا پہیہ بھی تیزی سے چل پڑے گا اور قوم خوشحالی کی طرف چل نکلے گی ۔ تو جناب یہ ہے خوشحالی کا رستہ جس میں سیمنٹ مینوفیکچرر ز نے صرف آٹھ ماہ میں اس غربت کی ماری قوم کو چالیس ارب کا ٹیکہ لگا دیا ہے۔ اب آپ خود وزیراعظم کو دی گئی ڈھائی کروڑروپے کی donation اور اس کے عوض قوم کو چالیس ارب کے ٹیکہ کی percentage نکال لیں۔ اب تو یہی بنتا ہے کہ یہ غریب قوم وزیراعظم سے ہاتھ جوڑ کر التجا کرے کہ خدا کے لیے اس مُلک کے ارب پتیوں سے donations نہ لیا کریں یہ قوم کو بہت مہنگی پڑ تی ہیں۔ ابھی چند روز پہلے چیف جسٹس لاہور کورٹ کی طرف سے منگوائی گئی پٹرول بحران سے متعلق ایف آئی اے کی تیار کردہ انکوائری رپورٹ چیف جسٹس لاہور کے سامنے پیش کی گئی ۔ چیف صاحب نے رپورٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد حکم صادر کیا کہ اسے فوراً پبلک کیا جائے۔ وفاقی حکومت کا نمائندہ اسے پبلک کرنے کے حکم پر لیت و لعل کرتے ہوئے تیس دن کا ٹائم مانگتا رہا لیکن چیف جسٹس صاحب نے اسے فوراً پبلک کرنے کے فائنل آرڈر کر دیئے۔ اب اس انکوائری رپورٹ کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کابینہ کی میٹنگ میں وزیر اعظم کے مشیر برائے پٹرولیم ندیم بابر وضاحتیں پیش کرنے میں مصروف رہے۔ کابینہ نے اپنی ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس رپورٹ کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے لائحہ عمل تیار کرکے کابینہ کے سامنے رکھے گی۔وزیر اعظم نے بھی کہا ہے کہ جو جو اس انکوائری میں ذمہ دار ٹھہرائے گئے ہیں اُن کے خلاف سخت ایکشن لیے جائیں۔لیکن یہ بات سامنے نہیں لائی گئی کہ وہ کون سی شخصیات تھیں جو اس رپورٹ کو دبا کے بیٹھی ہوئی تھیں ، حالانکہ اس انکوائری رپورٹ کا خود وزیراعظم کو بھی علم تھا۔وفاقی حکومت میں ایک عجیب روایت چل رہی ہے کہ جب بھی کچھ لوگ اس غریب قوم کے ساتھ لُوٹ کھسوٹ کا باز ار گرم کرتے ہیں تو شور مچنے پر اُن کے خلاف انکوائری کمشن بن جاتا ہے۔ کمشن کی رپورٹ آنے کے بعد وزیراعظم بڑے کر و فر سے فرماتے ہیں کہ کسی کو معاف نہیں کیا جائیگا ۔ لیکن پھر اُس کے بعد وہ کمشن رپورٹ یا انکوائری رپورٹ کہیں گم ہو جاتی ہے یا دب جاتی ہے ۔ آپ کے سامنے ہے شوگر کمشن کی رپورٹ ، غلط data کابینہ کی کوآرڈینیشن کمیٹی کو دیا گیا ، غیر ضروری چینی اور گندم کی ایکسپورٹ کرائی گئی اور دولت بنائی گئی۔ بعد میں اس غریب قوم سے پیسہ لے کر یہ دونوں اجناس امپورٹ کی گئیں اور یوں خاصا زر مبادلہ ضائع کیا گیا۔کیا یہ سب کچھ قوم کے سامنے نہیں ہے۔ کیا آج تک آپ نے کسی کو سزا ہوتے دیکھی ہے۔اسی طرح کا کچھ سلوک آٹا سکینڈل کے ساتھ بھی کیا گیا۔ پوری قوم وزیراعظم کے باہر کے ملکوں کی شہریت اور گرین کارڈ رکھنے والے نان الیکٹڈ سپیشل اسسٹنٹس اور مشیران کی کارکردگی سے ناخوش نظر آتی ہے لیکن وزیر اعظم کی تو لگتا ہے جان اُن کے اندر پھنسی ہوئی ہے۔ جو بھی موجودہ حکومت کے معترضہ فیصلے ہیں وہ تقریباً سب کے سب ان امپورٹڈ مشیران اور سپیشل اسسٹنٹس کی کارکردگی کا مظہر ہوتے ہیں۔ اب تو اسلام آباد ہائی کورٹ نے برملا احکامات پاس کر دیئے ہیں کہ یہ لوگ صرف وزیراعظم کو مشورہ دے سکتے ہیں۔ یہ لوگ نہ تو کسی کابینہ کمیٹی میں شامل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کمیٹی کی سربراہی کر سکتے ہیں۔لیکن جیسا کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم کی جان انہی میں ہے تو وہ اب قانونی مشیران سے کوئی راستہ پوچھتے پھرتے ہیں۔ ایک راستہ تو یہ بتایا گیا کہ وزیراعظم کسی کو بھی چھ مہینے کے لیے وزیر مقرر کرسکتے ہیں ۔ اسی راستہ کو اپناتے ہوئے وزیراعظم نے شیخ حفیظ کو تو چھ مہینے کے لیے وزیر مقرر کر دیا ہے۔ دوسرا راستہ انہیں وزیر بنانے کا یہ ہے کہ انہیں سینیٹر بنوایا جائے ، یہ ذرا مشکل راستہ ہے ۔ اسے اپنانے میں خاصی مشکلات ہو نگی ۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اب لوگوں میں کچھ نہ کچھ awareness آگئی ہے۔ اب اس ملک کے لوگ ان غیر ممالک کے شہریوں کو اپنے ملک کی حکومت کو چلانے کا حق دینے کو تیا ر نہیں ہوتے ۔ لوگ کہتے ہیں جس ملک کے شہری ہیں ، جہاں ان کے گھر ہیں، وہیں رہیں۔عمران خان صاحب کو بھی یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ امپورٹڈ مشیران تو بھاگنے میں دیر نہیں لگائیں گے ، بھگتیں گے وہ خود ہی۔ اور ان کے سیاسی مخالفین بھی ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں، وہ بھی کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔


ای پیپر