December, APS, bad incidents, history, Pakistan, Bangladesh
19 دسمبر 2020 (12:19) 2020-12-19

یوں تو پاکستان کی تاریخ میں کئی ایسے دن گزرے ہیںجنہیں بھلائے نہیں بھولا جاسکتا۔ ان میں دو دن ایسے ہیں جن کا تعلق دسمبر کے مہینے سے ہے اور ان کو یاد کرتے ہوئے دل غم و غصے سے ہی نہیں بھر جاتا بلکہ ان کی وجہ سے دسمبر کو "ستمگر دسمبر"کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان میں ایک 16دسمبر 1971کا دن ہے تو دوسرا 43سال بعد دکا 16دسمبر 2014ء کا دن ہے۔ ان دونوں دنوں میں پاکستان کی تاریخ کے انتہائی المناک، تکلیف دہ اور شرمناک واقعات پیش آئے۔ 16دسمبر 1971ء کو سقوطِ ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا المناک واقعہ رونما ہوا تو 16دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول و کالج وارسک روڈ پشاور کا انتہائی المناک و شرمناک واقعہ پیش آیا۔یہ دونوں المناک واقعات ایسے ہیں جن کو یاد کرتے ہوئے دل خون کے آنسو ہی نہیں روتا بلکہ غم و غصے کے جذبات سے بھی بھر جاتا ہے۔ دسمبر 1971 ء کی 16 تاریخ کو سقوطِ ڈھاکہ کا المناک سانحہ پیش آیا ۔ پاکستان دو لخت ہوا اور پاکستان کی مشرقی کمان کے کمانڈر۔ ننگِ وطن لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں اپنے بھارتی ہم منصب لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالے اور 90 ہزار کے لگ بھگ پاکستانی سپاہ کو اپنے ابدی اور ازلی دشمن بھارت کا جنگی قیدی بننا پڑا۔ پوری پاکستانی قوم اس سانحہ پر پھوٹ پھوٹ کر روئی۔اللہ گواہ ہے آج سے 49برس قبل 16 دسمبر 1971 ء کو سقوطِ ڈھاکہ اور پاکستان کے دو لخت ہونے کا سانحہ پیش آیا تو میں اس وقت سی بی سرسید سائنس کالج شاہراہِ مال راولپنڈی جہاں میں پڑھاتا تھا اپنے ساتھیوں کے ساتھ اور شاید اُن سے بڑھ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا۔ پچھلے کئی سال سے سقوطِ ڈھاکہ کے بارے میں اخبارات کے لیے اپنے کالم (مضامین) لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں ہمیشہ آنسو تیرتے رہے ہیں ۔ ایسا کیوں نہ ہوتا ، پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دن 16دسمبر 1971کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے قیام کے ڈیڑھ دو عشرے بعد بنگالی عصبیت اور قومیت کو اور پاکستان سے نفرت، تعصب ، ضد اور انتقام کے جن جذبات کو ہوا دی گئی وہ با لآخر دسمبر 1971 ء میں پاکستان کے مشرقی حصے (مشرقی پاکستان) کی متحدہ پاکستان سے علیحدگی اور 

بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں منتج ہوئے۔ ایسا کیوںہوا؟ یہ ایک دردناک اور المناک داستان ہے جس میں غیروں بالخصوص بھارت کی پاکستان کے خلاف سازشوں ،اور پاکستان دشمنی کا بڑا ہاتھ ہے وہاں اپنوں کی ریشہ دوانیوں ، خودغرضیوں، منفی سوچ اور اقتدار کے لیے مرے جانے کی خودغرضانہ خواہشات کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمٰن نے اپنے چھ نکات کے لیے بنگالیوں کے احساسِ محرومی اور قومیت پرستی کے جذبات کو ہوا دے کر ان میں علیحدگی پسندی کو راسخ کیا تو مولانا عبدالحمید بھاشانی جیسے بنگالی راہنما بھی جب جی چاہتا تھا بنگالی انتہا پسندوں کو خوش کرنے اور مغربی پاکستان میں بیٹھے پاکستان کے حکمرانوں کو ڈرانے اور بلیک میل کرنے کے لیے پاکستان کو "شلام الیکم"کہنے پر تیار رہتے تھے ۔ دوسری طرف پاکستان کے اصل حکمرانوں ، سیاستدانوں اور مشرقی پاکستان میں تعینات سول اور ملٹری بیوروکریسی کا معاملہ بھی عجیب تھا، چاہیے تو یہ تھا کہ بنگالیوں کے جائز مسائل ، مشکلات اور ان کے احساسِ محرومی اور بنگلہ قومیت پرستی کے انتہا پسندانہ جذبات کا دانائی ، حکمت عملی اور بنگالیوں کی اقتدار میں حقیقی شمولیت جیسے اقدامات کرکے اس کا حل ڈھونڈا جاتا، اس کے بجائے ادھر سے ایسے اقدامات اور فیصلے ہوئے جن سے بنگالی نیشنلزم اور بنگالیوں کے احساسِ محرومی کو ہی ہوا نہ ملی بلکہ بھارت جیسے پاکستان دشمن ملک کو مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی کے لیے بنگالیوں کو ابھارنے کا حوصلہ بھی ملا۔ رہی سہی کسر1970کے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی قومی اسمبلی کی 162میں سے 160نشستیں لے کر صوبہ گیر کامیابی اور مغربی پاکستان میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کی 138نشستوں میں سے 81نشستیں لے کر کامیابی نے پوری کر دی۔ المیہ یہ ہوا کہ شیخ مجیب الرحمٰن اور ذوالفقار علی بھٹو انتقالِ اقتدار کے کسی متفقہ فارمولے یا منصوبے پر راضی نہ ہوئے۔ بھٹو اقتدار میں اپنا حصہ لینا چاہتے تھے جبکہ شیخ مجیب الرحمٰن اپنی اکثریت کی بنا پر اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ نتیجہ مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی اور بغاوت کی صورت میں سامنے آیا جو 16دسمبر 1971کو سقوطِ ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں منتج ہوا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بارے میں اور کئی تفصیلات بھی بیان کی جا سکتی ہیں لیکن اس کے بجائے 16دسمبر 2014ء کے سانحہ آرمی پبلک سکول و کالج وارسک روڈ پشاور کی طرف آتے ہیں۔

 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول وارسک روڈ پشاور میں جو انتہائی المناک سانحہ پیش آیا، معصوم اور بے گناہ جانوں کے خون سے جو ہولی کھیلی گئی۔ سفاکی، ظلم، بربریت اور وحشیانہ پن کا جو مظاہرہ کیا گیا، پھولوں جیسے نرم و نازک اور فرشتوں جیسے پاک باز 122 معصوم بچوں کو چشمِ زدن میں خون میں نہلا دیا گیا ، سکول کی پرنسپل سمیت 12 معمارانِ قوم اور 10 دیگر سٹاف ممبران کو شہید کر دیا گیا۔ کیا اس سانحہ کو بھلایا جا سکتا ہے؟ یقینا نہیں ۔ شیطان کے درندہ صفت چیلوں نے جب بربریت کی انتہا کرتے ہوئے ان معصوم بچوں کو گولیوںکی باڑ اور دستی بموں کا نشانہ بنایا ہو گا تو ان معصوم بچوں کی چیخیں اور آہ بکا کی آوازیں یقینا عرشِ بریں تک پہنچی ہونگی، ان کے اساتذہ گولیوں کی بوچھاڑ میں اُن کے سامنے ڈھال بنے ہونگے ۔ یہ سب کچھ انتہائی دل ہلا دینے والا منظر ہوگا ۔ میں اس پیرانہ سالی میں اس کا تصور کرتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو ہی نہیں تیرنے لگتے ہیں بلکہ میرا خون بھی کھولنے لگتا ہے۔اس کے ساتھ یہ تصور بھی اور زیادہ دکھ غم اور غصے کو بھڑکاتا ہے کہ سانحہ APS پشاورکے ماسٹر مائند تحریک طالبان پاکستان کا امیر مُلا منصور (نرے) جب اس کے وحشی پیروکار معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیل رہے تھے تو اس نے فون کرکے بعض صحافیوں کو اطلا ع دی کہ جا کر دیکھو کہ APS پشاورمیں کس طرح چنگیز خان اور ہلاکو خان کے ظلم و بربریت کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ یقینا یہ سب کچھ انتہائی المناک ، خوفناک اور دل خراش تھا جسے آنے والے زمانوں میں بھی نہیں بھلایا جا سکے گا۔ ملا منصور اپنے انجام کو پہنچ چکا اس کے درندہ صفت وحشی پیروکار بھی کیفر کردار ہو چکے لیکن بے گناہ اور معصوم بچوں کی قیمتی جانوں کا مداوا اور ان کے عزیز و اقارب کے غموں کا کفارہ کیسے ادا ہوگا یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ابھی تک تشنہ تکمیل ہے ۔تاہم تاریخ کی یہ گواہی آنے والے زمانوں کے اوراق پر ہمیشہ ثبت رہے گی کہ پاکستان سے قتل و غارت گری ، 


ای پیپر