Kashmir, Kashmiri tea, Ertugrul Ghazi
19 دسمبر 2020 (11:57) 2020-12-19

ملک بھرمیں موسم سرما کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے گرم مشروبات اور خاص طور پر کشمیری چائے  کی طلب بہت بڑھ گئی ہے۔ ایسی ہی ایک سرد رات کشمیری چائے کا مزہ لیتے ہوئے ایک دم سے میرا دھیان مقبوضہ کشمیر کی طرف چلا گیا بات یہ تھی کہ صرف کشمیری چائے کی نہیں بلکہ ہمارے دل و جان کی نسبت ہے کشمیر سے، یہ وہی وادی ہے جسے پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا گیا تھا۔ 

ایک دم بہت ندامت ہوئی کہ ہم لوگ کتنے خود غرض ہیں کہ ایک ایسا مسئلہ جس پر سات دہائیوں میں کبھی ہماری اور کشمیر کی غیور عوام نے سمجھوتہ نہیں کیا۔ یک دم سے کیا ہوا کہ وہاں بھارتی تسلط اور کرفیو کو ڈیڑھ سال ہونے کو ہے مگر تحریک زور پکڑنے کے بجائے مدھم ہورہی ہے دل اداس ہوجاتا ہے یہ سوچ کر کہ کیا ہماری یہ محبت تھی کشمیر سے!  

کیا صرف کشمیر انڈر پاس کا نام رکھ لینے سے

یوم یک جہتی کشمیر منانے سے

اقوام متحدہ میں جاندار تقریر کرنے سے کشمیر کا مسئلہ حل ہوا؟ 

ترکی ڈرامے ارطغرل غازی کے مرکزی کردارانگین التان پاکستان کے دورے پر آئے تو میں سوچنے لگی کہ ہمارے ملک میں ارطغرل کا سیزن بہت شوق سے دیکھا گیا اور ارطغرل کی مقبولیت اتنی بڑھ گئی کہ بچے بچے نے کائی قبیلے کی شرٹس اور تلواریں رکھ لی ہیں ڈرامے کے ایک ایک کردار سے واقف ہیں مگر یہ صرف ڈرامائی محبت ہے کیا حقیقت میں کسی نے کوشش کی کہ ارطغرل کی طرح مظلوموں کی مدد کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی جائے۔ اس ڈرامے سے سبق بھی لیا تو یہ کہ ہمارے ملک میں اب اس ڈرامے کی کاسٹ کو برانڈ ایمبیسڈر بنایا جا رہا ہے۔ 

میرا دل بہت اداس ہوا کہ ہماری نسل میں کبھی بھی وہ جذبہ اور ولولہ پیدا ہوتا نظر نہیں آرہا جو کہ امت مسلمہ کا خاصہ تھا۔ 

 اگر ہم قرآن کی رو سے بھی دیکھیں کہ 

اگر کچھ مسلمانوں پر جب کفار کا تسلط ہو جائے، اسلامی سرزمین کفار کے قبضے میں چلی جائے تو ایسے میں دوسرے مسلمانوں پر ان کے حوالے سے کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟…

کیا وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟

سورہ نسا میں ارشاد ہوتا ہے۔ 

 اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اْن بے 

بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما۔ 

پھر جب میں اپنی قوم اور پوری امت مسلمہ کی طرف دیکھتی ہوں تو علامہ اقبال کے اس شعر کی تصویر نظر آتی ہے۔ 

ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے 

تم مسلمان ہو یہ انداز مسلمانی ہے 

ہم اپنے اپنے حال میں بد مست ہیں حکومت، ادارے  اپوزیشن، مافیا سب کے اپنے مفادات ہیں۔ کبھی کسی کے منہ سے ایک لفظ سے سنا کشمیر کی آزادی کا۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گی کہ سوائے جماعت اسلامی کے اب کشمیری عوام کے لیے کوئی ٹویٹ کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔ 

کیا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد اب کشمیر  پر بھی سب نے سمجھوتہ کرلیا؟  

کشمیر پر بھارت دندنا رہا ہے اسرائیل سعودیہ میں آل سعود کی شیرباد سے  نیا دجالی شہر آباد کرنے جا رہا ہے، دور حاضر میں جنہوں نے ارطغرل بننا تھا وہ سوشل میڈیا کی میمز تک محدود ہیں اورمسلمان کافر کافرکھیلنے میں مصروف ہیں۔

مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنی بڑی امت مسلمہ اگر اپنے مظلوم بہن بھائیوں کی داد رسی نہیں کر رہے تو پھر ہم صرف نام کے ہی مسلمان ہیں کام کے نہیں۔ لیکن یہ ماحول اور تبدیلی فضا میں عجیب سا سناٹا اور ہماری بے حسی کو شاید علامہ اقبال نے سو سال پہلے بھانپتے ہوئے فرمایا تھا

وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

وہ کشمیر جس کی پہچان حَسین وادیاں، پھلوں سے لدے باغات، سر سبز چناراور برف پوش پہاڑ تھے  …

مگر اب اُس کی پہچان بچّوں کی چیخیں، جوان شہیدوں کی میتیں، مائوں کی سِسکیاں، گھروں سے اُٹھتے آگ کے شعلے کپکپاتے ہونٹ اور ٹمٹماتی آنکھیں ہیں جو برسوں سے آزادی کی راہ تک رہی ہیں۔ 

ظلم کی اِس سیاہ رات کو کئی دہائیاں بیت چُکیں۔ وہ اذیتیں، مصیبتیں سہتے رہے اس آس پرکہ ایک دن ہم پاکستان کا حٖصہ بن جائیں گے وہ مرتے کے بعد پاکستانی پرچم میں دفن ہوتے رہے اور ہم نے ان کو کتنی بے دردی سے بھلا دیا۔

بالائی علاقوں سمیت کشمیر نے اس بار بھی مکمل برف کی سفید چادر اوڑھ لی ہے۔ برف گرتی رہے تو سب کچھ اچھا لگ رہا ہوتا ہے لیکن  برفباری تھمنے کے بعد ایک عجیب سی اداسی ہے جو پورے ماحول کو افسردہ کر دیتی ہے 

معروف نقاد، شاعر اور محقق جناب ڈاکٹر سعادت سعید کی یہ نظم کشمیری عوام کے جذبات اور موجودہ حالات کی بھرپور عکاسی کررہی ہے۔  

ابھی برف پگھلی نہیں ہے 

چناروں پہ پھولوں کی گلکاریاں 

کس نے دیکھیں

 ابھی برف پگھلی نہیں ہے

 نہ جانے گلابوں کی خوشبو سے محروم

 مظلوم وادی پہ 

سورج کی روشنی شعاعوں کے

 وہ کارواں اب تلک کیوں نہ اترے

 کہ جن کی تمازت سے جھیلوں میں

 آزاد بحروں کے موسم چہکنے لگیں گے

 لہو رنگ کشمیر شب خون کے سلسلے

 کب تلک چل سکیں گے

 ابھی برف پگھلی نہیں ہے

 ہوائیں ابھی منجمد ہیں

 اداسی کے نوحے سناتی

 فضائیں ابھی منجمد ہیں

 تری خلق دہشت زدہ ہے

 کہ ہر سو فرنگی خداؤں کی

 آزاد کردہ ترنگی بلاؤں کے جھنڈے گڑے ہیں

 جمے موسموں کی خموشی کی ہیبت میں

 ہر گھر میں ہلتے ہوئے پالنوں میں

 وہ چہرے دمکنے لگے ہیں

 کہ جن کی تمازت سے ہر سو جمی برف پگھلے گی

 روشن چناروں پہ گلکاریوں کے

 زمانے بھی آئیں گے پھولوں کی خوشبو سے  

ایک وادی مہکنے لگے گی

 ابھی برف پگھلی نہیں ہے…

دل چاہتا ہے ہمارا ہر نوجوان ارطغرل کے کردار میں ڈھل جائے 

اور کشمیر ی مسلمانوں کو بھارتی تسلط سے آزاد 


ای پیپر