قضیہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا
19 دسمبر 2018 2018-12-19

بر صغیر اور پاک ہند میں اٹھارہویں آئینی ترمیم میں پنہاں تصور یعنی صوبائی خود مختاری کے سب سے بڑے علمبردار قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔۔۔ 1928 ء میں انہوں نے ہندوستان کے آئینی مستقبل کے لیے متحدہ ہندوستان میں رہتے ہوئے ڈومین سٹیٹس کے تحت یعنی نیم آزادی کی صورت میں مسلمانوں کے حقوق کے آئینی تحفظ کا فارمولا یعنی اپنے مشہور 14 نکات پیش کیے۔۔۔ ان میں پہلا یہ تھا The form of the future constitution should be federal, with the residuary powers vested in the provinces; ’’ہندوستان کا آئین وفاقی نظام حکومت پر مشتمل ہو گا ۔۔۔ جس کے اندر بقیہ تمام اختیارات صوبوں کو منتقل کر دیے جائیں گے‘‘ ۔۔۔ دوسرے نکتے میں اسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ A uniform measure of autonomy shall be guaranteed to all provinces; ’’تمام صوبوں کو یکساں خودمختاری دی جائے گی‘‘۔۔۔ اس کے بعد 1940 ء میں جب لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں تاریخ ساز قرار داد لاہور یا پاکستان منظور کی گئی تو اس میں مطالبہ کیا گیا ’’ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت پائی جاتی ہے جو جغرافیائی لحاظ سے ایک دوسرے سے منسلک ہوں ان علاقوں کی آئینی تشکیل اس طرح کی جائے کہ ان میں ایسی خود مختار ریاستیں وجود میں آئیں جو با اقتدار و با اختیار ہوں‘‘۔۔۔ بعد ازاں 1946-1945 کے عام انتخابات میں جب آل انڈیا مسلم لیگ نے پاکستان کے نعرے پر بے مثال کامیابی حاصل کی تو پورے بر صغیر سے مسلمانوں کے پانچ سو سے زائد منتخب نمائندوں کا ایک کنوینشن دہلی میں منعقد ہوا۔۔۔ قائد اعظم نے صدارت کی۔۔۔ اس کے دوران حسین شہید سہروردی نے قرار دار پیش کی جس کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ۔۔۔’’ ہندوستان کے شمال مغربی حصے میں صوبہ جات بنگال اور آسام اور شمال مغربی خطے میں پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل ایک آزاد اور خود مختار ریاست قائم کی جائے‘‘ ۔۔۔ اس کے بعد برطانوی کابینہ کے ارکان پر مشتمل ایک وفد ہندوستان آیا اور اس نے مسلم لیگ اور کانگرس کے ساتھ مذاکرات کر کے ایک مشترکہ آئینی منصوبہ تیار کیا جسے کیبنٹ مشن پلان یا ABC فارمولا کہا جاتا ہے۔۔۔ اس پر قائد اعظم محمد علی جناح اور پنڈت جوال لال نہرو نے اپنی اپنی جماعت کی جانب سے دستخط کیے۔۔۔ اس کے اندر بھی طے ہوا ’’ مرکزی حکومت کے اختیارات ( یعنی امور خارجہ دفاع اور مواصلات ) کے علاوہ باقی تمام اختیارات صوبوں کے پاس ہوں گے ۔۔۔ اسی سمجھوتے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ 10 سال تک اس پر عمل کیا جائے گا ۔۔۔ لیکن اس دوران یا بعد میں اگر کسی صوبے نے علیحدگی کا فیصلہ کیا تو وہ آزاد ہو گا ۔۔۔ یہ معاہدہ ہندوستان کے سرمائی دار الحکومت شملہ میں طے پایا تھا اس کے اندر قیام پاکستان کی آپشن بر قرار رکھی گئی تھی ۔۔۔ شاید اسی لیے اُسی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگرس کے رہنما پنڈت جوال لا ل نہرو نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ ان کی جماعت 10 سال کی پابندی کو قبول نہیں کرتی۔۔۔ یعنی اگر کوئی ایک یا زیادہ صوبے وفاق ہند سے علیحدگی حاصل کرنا چاہیں تو وہ ان کا اختیار تسلیم نہیں کرے گی۔۔۔ یہ کیبنٹ مشن پلان کے تحت پائے جانے والے معاہدے سے صریحاً انکار تھا ۔۔۔ چنانچہ اس کے فوراً بعد قائد اعظم نے زور دار بیان دے کر واضح کر دیا کہ مسلمانان ہند پاکستان کے قیام کے علاوہ کسی اور حل کو قبول نہیں کریں گے۔۔۔ تقسیم ہند سے پہلے کے اس تمام آئینی پس منظر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قائد اعظم اور آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت متحدہ ہندوستان میں رہتے ہوئے یا اس سے علیحدہ ہو کر مسلمانوں کی آزاد اور خود مختار ریاست پاکستان کی شکل میں وفاقی نظام کے تحت صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینا چاہتے تھے۔۔۔ حقیقت یہ ہے قیام پاکستان کے بعد نئی مملکت کے صوبوں کو آئین کے تحت خود مختاری دے دی جاتی تو غالب امکان تھا شیخ مجیب الرحمن کو 1966 ء میں لاہور میں سابق وزیر اعظم چاہدری محمد علی کی قیام گاہ پر ہونے والے اجتماع میں اپنے 6 نکات پیش کرنے کا موقع نہ ملتا نہ ان کا جواز ہونا۔۔۔ کیونکہ مشرقی پاکستان سمیت تمام صوبوں کو اس آئینی خود مختاری مل چکی ہوتی جو بانی پاکستان اور ان کے ساتھیوں کا تصور تھا مگر قیام پاکستان اور قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد اس پر عمل در آمد نہ ہوا اور مشرقی پاکستان میں زیادہ سے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ بڑے زور و شور کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اس نعرے یا مطالبے کو مزید تقویت پہلے چیف آف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان کے 10 سالہ آمرانہ دور میں اس وقت ملی جب ملک میں زبردستی کا صدارتی نظام رائج کر دیا گیا۔۔۔ ون یونٹ کے تحت مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان نامی دونوں صوبے بہت کم اختیارات کے ساتھ مرکزی حکومت کے ما تحت تھے اور اس کے ساتھ عارضی دار الحکومت راولپنڈی سے بڑے زور و شور کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جاتا تھاکہ ایک ’’مضبوط مرکز‘‘ میں ہی ملک کے مسائل کا حل پایا جاتا ہے۔۔۔ ظاہر ہے کہ اس کے خلاف سب سے 

زیادہ رد عمل ہزار میل کے فاصلے پر اکثریت آبادی رکھنے والے مشرقی پاکستان میں پیدا ہوا اور اسی فضاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیخ مجیب الرحمن نے اپنے انتہا پسندانہ 6 نکات پر مبنی فارمولا پیش کیا جس کی بنیاد پر اس نے 1970 ء میں منعقد ہونے والے ملکی تاریخ کے پہلے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان کے اندر غیر معمولی کامیابی حاصل کر لی۔۔۔اب انہیں نو منتخب دستور ساز اسمبلی کے اندر اکثریت حاصل ہو چکی تھی۔۔۔ انہوں نے اپنے مطالبات کی صورت میں وفاق کے اندر صوبائی خود مختاری کی حدود سے کہیں بڑھ کر پاکستان کو کنفیڈریشن کا درجہ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ۔۔۔ جس کی خاطر ملک کے مشرقی بازو کے اندر غیر معمولی حد تک غیر جذباتی فضاء پیدا کر لی گئی تھی ۔۔۔ حق یہ ہے اگر قیام مملکت کے ابتدائی سالوں میں بانی پاکستان کے جمہوری تصورات کو پیش نظر رکھ کر تمام صوبوں کو صوبائی خود مختاری دے دی جاتی اور ایوب خان کے مارشل لاء کی 10 سالہ آمریت ملک پر مسلط نہ ہوتی تو امکان غالب ہے 6 نکات والی انتہا پسندی کی نوبت نہ آتی۔۔۔

1971 ء میں یحییٰ خان کی فوجی حکومت اور شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کے درمیان اسی مسئلے پر ٹکراؤ پیدا ہوا۔۔۔فوجی آپریشن ہوا، بھارت نے موقع سے فائدہ اٹھا کر حملہ کر دیا ہماری فوج نے ہتھیار ڈالے۔۔۔ مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش کی صورت اختیار کر گیا۔۔۔ اس صدمے اور غیر معمولی صورت حال کے اندر بقیہ پاکستان کی قومی اور دستور ساز اسمبلی میں 1973 ء کا متفق علیہ آئین منظور اور نافذ ہوا۔۔۔ اس میں مشرقی پاکستان کے تلخ ترین سانحے کو سامنے رکھتے ہوئے، آئین مملکت کے اندر دفعہ 6 کو شامل کیا گیا گیا ۔۔۔ جس کے تحت آئندہ دستور پاکستان کو غصب کرنے والے کو قوم و ملک سے بغاوت اور سخت ترین سزا کا موجب قرار دے دیا گیا ۔۔۔ اس کے علاوہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم عمل میں لائی گئی لیکن یہ طے ہوا کہ وفاق سے صوبوں کو اختیارات منتقل کرنے میں وقت درکار ہے، اس لیے اگلے 10 سال تک کے لیے ایک concurrent list یعنی مشترکہ فہرست تیار کی گئی جس کے تحت دفاع کرنسی امور خارجہ اور دیگر وفاقی امور کے تحت صوبوں کو جو اختیارات دیئے گئے تھے، ان میں متعین عرصے کے لیے وفاق کا عمل دخل تسلیم کیا گیا تاکہ طے شدہ مدت پوری ہونے کے بعد صوبے اپنے اختیارات کو پوری طرح استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں۔۔۔ بدقسمتی مگر یہ ہوئی کہ آئین کے نفاذ کے چار سال کے اندر تیسرے مارشل لاء نے ملک کو دبوچ لیا کہ اور دستور کو سرد خانے میں پھینک دیا گیا، وفاق ایک مرتبہ پھر پوری طرح غالب آ گیا۔۔۔ رہی سہی خودمختاری عنقا ہو گئی۔۔۔ اس دوران میں مرضی سے منتخب کی گئی غیر جماعتی اسمبلی کے ذریعے آٹھ ویں آئینی ترمیم یا 58(2B) مسلط کر دی گئی جس کے تحت صدر مملکت کو صوابدیدی اختیار دیا گیا کہ جب وہ مناسب سمجھے منتخب حکومت کو تمام اسمبلیوں سمیت گھر بھیج سکتا ہے ، نیز 62اور 63دفعات کا بھی نفاذ کر دیا گیا جس میں عملاً جرنیلوں اور ججوں کو استثنیٰ دے کر صرف منتخب سیاستدانوں کی گردنوں پر تلوار لٹکا دی گئی کہ وہ صادق اور امین ثابت نہ ہوں تو عہدوں سے فارغ کر دیئے جائیں گے۔۔۔ 1998ء میں نواز شریف نے دوسری دفعہ برسراقتدار آنے کے بعد 58(2B) ختم کر کے صدر کے صوابدیدی اختیارات کو کتاب آئین سے خارج کر دیا لیکن 62 اور 63 کی دفعات برقرار رہیں۔۔۔ 12 اکتوبر 1999کو وقت کے فوجی سربراہ جنرل مشرف نے ملک کے آئینی اور منتخب جمہوری نظام پر چوتھی دفعہ شب خون مارا 17ویں ترمیم کے ذریعے 58(2B) کو بحال کر دیا اور جملہ اختیارات اپنی دسترس میں لے لیے۔۔۔ صوبائی خود مختاری ایک مرتبہ پھر دم توڑ چکی تھی۔۔۔ 

2006-7ء میں جلا وطنی کے عالم میں لندن میں مرحومہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت طے ہوا جس میں یہ عہد بھی شامل تھا کہ صدر کے صوابدیدی اختیارات غیر جمہوری ہونے کی بنا پر ایک مرتبہ پھر ختم کر دے جائیں گے اور صوبائی خود مختاری کو بحال کردیا جائے گا اسی میثاق کے تحت 15 اپریل 2010ء کو جبکہ 2008ء کے انتخابات کے بعد پی پی پی کی حکومت تھی اور آصف علی زرداری صاحب صدر مملکت تھے پارلیمنٹ کے اندر دوسری سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے تعاون سے 342ارکان کے مقابلے میں 292کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ 18 ویں ترمیم منظور کروائی گئی جس کے تحت concurrent list ختم کر دی گئی۔۔۔ صوبائی خود مختاری بحال ہو گئی۔۔۔ صدر کے صوابدیدی اختیارات بھی باقی نہ رہے۔۔۔ صوبہ سرحد کو خیبر پختونخوا کا نام دے دیا گیا۔۔۔ یہ بھی قرار پایا کہ آئین کو سرد خانے میں ڈالنا بھی اسے اکھاڑ پھینکنے کے مترادف ہو گا اور اس کی سزا دفعہ 6 کے تحت غداری کی ہوگی ۔۔۔ اس کے ساتھ مشترکہ مفادات کی کونسل کی از سر نو تشکیل کر کے وزیراعظم کو اس کا سربراہ بنایا گیا جس کے ارکان میں تمام صوبائی وزراء اعلیٰ اور ان کا ایک ایک نمائندہ شامل تھا ۔۔۔ کسی بھی وزیراعظم کے لیے 3 مرتبہ عہدہ سنبھالنے کی جنرل مشرف کی لگائی پابندی کو بھی ختم کر دیا گیا۔۔۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے ہاں مرکز میں اختیارات کی غیر معمولی ارتکاز کی وجہ سے صوبے ان تبدیلیوں صوبے ان تبدیلیوں اور غیر معمولی اختیارات مل جانے کے لیے پوری طرح تیار نہ تھے تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت روبہ عمل لائی جانے والی تبدیلیاں ملک کے مستقبل، یکجہتی اور پائیدار اتحاد کے لیے از بس ضروری ہیں مگر پاکستان کی وہ حکمران طاقت جو جب چاہے مارشل لاء لگا دیتی ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پس پردہ بیٹھ کر حکمرانی کی طنابیں اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے اور منتخب حکومتوں کی رگید کر رکھ دیتی ہے ۔۔۔ اس کو یہ ترمیم ہرگز منظور نہیں کیونکہ اس سے اس کے علانیہ یا غیر علانیہ تسلط کی ٹانگیں کمزور ہو جاتی ہیں۔۔۔ وہ لوگ اس کی اہم دفعات کو ختم کر دینے کے در پہ آزار ہیں۔۔۔ آصف علی زرداری نے اس کے خلاف آواز بلند کی ہے اور کہا ہے کہ اگر میں مان بھی گیا تو سندھ ، پنجاب ، بلوچستان وغیرہ تمام صوبے اسے تسلیم نہیں کریں گے۔۔۔ حقیقت یہ ہے قوم کو بھی 18 ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ کسی طور گوارہ نہیں ہو گا جسے ہماری قومی تاریخ کے مہلک ترین تلخ تجربوں کے بعد جان جوکھوں سے حاصل کیا گیا۔۔۔ اس ترمیم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے ملک کے اندر یکساں نظام تعلیم نہیں رہے گا لیکن اس کا حل نکالا جا سکتا ہے۔۔۔ تمام صوبائی حکومتیں اور وفاق کے متعلقہ ادارے یعنی ہائرایجوکیشن کمیشن کے ماہرین تعلیم سر جوڑ کر بیٹھیں اور ہر صوبے کے مقامی حالات کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے ایک مشترک ملک گیر نظام تعلیم کے مشترکہ نکات طے کر کے اسے رواج دے سکتے ہیں غالباً عمران حکومت کے وزیر تعلیم شفقت محمود کی نگرانی میں اس پر کام بھی کر رہی ہے لیکن جو طاقتیں 18 ترمیم ختم کرنا چاہتی ہیں ۔۔۔ ان کا اصل مسئلہ نظام تعلیم نہیں بلکہ اپنی حکمرانی کو خواہ وہ پس پردہ ہو پوری طرح مسلط کرنا ہے۔۔۔ مگر ایسا کوئی اقدام ملک کی داخلی سلامتی کے لیے جیسا کہ 1971ء کے واقعات نے ثابت کر دیا زہر قاتل ثابت ہوگا۔۔۔ بلوچستان میں آج بھی علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔۔۔ اس کی راہ روکنے کے لیے صوبائی خود مختاری کا الفاظ اور روح کے ساتھ مکمل نفاذ مؤثر حربہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر بالادست قوتوں نے کسی بھی طریقے سے اپنی بات منوا لی تو پاکستان کا اتحاد اور داخلی سلامتی خدا نخواستہ ایک مرتبہ پھر خطرے میں پڑ سکتی ہے۔۔۔ قوم کے باشعور افراد اور عوام کے منتخب نمائندوں کو ایسے کسی بھی اقدام کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔۔۔ 


ای پیپر