اعتبار کون کرے !
19 دسمبر 2018 2018-12-19

ایک جانب نیب زدگان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں کی بدن بولی تبدیل ہو رہی ہے۔حالیہ چند دنوں میں اپوزیشن رہنماؤں کے مابین اندرون خانہ رابطے ہوئے ہیں اور فاصلے سمٹے ہیں۔اگرچہ اب بھی بے اعتباری کی کیفیت ہے۔ آنے والے چند دنوں کی سیاست سال رواں کے آخری چند ایام، سال نو کے ابتدائی چند ہفتوں میں مستقبل کی سیاست کا نقشہ ترتیب پا جائیگا۔ 

فی الحال تو پو زیشن یہ ہے کہ وطن عزیز کے ہر شعبہ میں ڈیڈ لاک کی سی کیفیت ہے۔ گیس سپلائی بندش کا شکار ہے، گھروں کے چولہے پہلے تو کسادبازاری نے بند کیے اب کوئی دال روٹی کھانے کی حیثیت میں ہے بھی تو گیس کا پریشر نا پیدہے۔ ابھی زیادہ پرانی بات نہیں پرویز مشرف کے زیرِ سایہ شوکت عزیز ایسے معاشی ٹھگ ملک کے حکمران تھے۔آئے روز میڈیا پر آتے اور اپنی حکومت کی معاشی ترقی کے اعدادوشمار گنواتے۔ہم ایسوں کو بتایا کرتے کہ ملک میں کتنے نئے موبائل فون خرید لئے گئے۔انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔کتنے اہل پاکستان نے بنکوں سے کتنی گاڑیاں لیزنگ کے ذریعے حاصل کیں۔یہ گاڑیاں چلانے کے لئے پٹرول کی سکت تو ہر ہمہ شمہ کے بس میں نہ تھی۔لہٰذا عاقبت نا اندیش معاشی ٹھگ نے سی این جی سیکٹر کھول دیا۔اگلے کئی عشروں کی گیس چند مہینوں میں گاڑیوں کا دھواں بن کر اڑ گئی۔اب وہ ہزاروں گاڑیاں سڑکوں پر ٹکریں مارتی پھرتی ہیں۔لیکن گیس ایسی نعمت کھانے پکانے کے لئے بھی دستیاب نہیں۔ بات سیاست سے دوسری جانب نکل گئی لیکن دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔معیشت، کاروبار، سرمایہ کاری، روزگار پر جمودہو گا تو سیاست کا بازار گرم ہی ہوگا۔ اپوزیشن کو تو ایسے حالات نہایت سازگار ہوتے ہیں۔ سمجھدار حکومتیں کوشش کرتی ہیں کہ سیاسی درجہ حرارت ٹھنڈا ہی رہے۔لیکن جو حکومتیں عقابوں کے زیرِ اثر ہیں وہ ایسے ہی حالات کا شکار رہتی ہیں۔حکومتی عقابوں کا خیال ہے کہ وہ احتساب کے کھیل تماشے میں عوام الناس کو مصروف رکھیں گے۔ عوام کی نفسیاتی تسکین بھی ہوتی رہے گی اور لوگوں کی توجہ بھی اصل معاملات سے ہٹی رہے گی۔لیکن صاحب بھوک، افلاس، تنگ دستی، بے روزگاری گھر کے دروازے پر دستک دے رہی ہو تو کھیل تماشے بھول جایا کرتے ہیں۔ عوام احتساب چاہتے ہیں لیکن یہ عوامی ترجیحات کی لسٹ میں بہت نیچے ہے۔ ابھی کل ہی جناب وزیرِ اعظم عمران خان سے قرابت داری کے دعوے دار ایک صحافی نے ٹویٹ کیا، احوال بتایا، حاکم وقت سے اپنی طویل ملاقات کا۔یہ بھی مہربانی فرمائی کہ ملاقات میں ہونے والی گفتگو کو آف دی ریکارڈ ظاہر کیا اب تو استفسار نہیں بنتا۔ البتہ یہ بات ضرور واضح کی کہ اگلے چند روز میں کئی لوگوں کی جمہوریت خطرے میں پڑنے والی ہے۔ اشارہ صاف، با لکل واضح ہے۔ ہائی پروفائل شخصیات کی گرفتاریاں، نئی کش مکش،نئی ٹینشن، محاذ آرائی، 

کشیدگی۔ ہو گا کیا؟چند روز خبریں لگیں گی۔بھاگم بھاگ، مارا ماری۔یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو العزیزیہ ریفرنس کیس کا فیصلہ فیصلہ محفوظ ہو چکا ہو۔ عدالتی فیصلے پر تبصرہ وہ بھی قبل از وقت قلم مزدور کی تو مجال نہیں۔البتہ ایسے جغادری اہل صحافت و سیاست ہیں۔ جو قبل از وقت فیصلوں کے متعلق اشارے دیکر ناظرین، سامعین سے داد پایا کرتے ہیں۔ سو فیصلوں کے متعلق پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ ویسے خدا لگتی کہئے وہ کون سا ایسا فیصلہ ہے جس کے نتیجہ میں دی گئی سزا نواز شریف پہلے سے نہیں بھگت چکے۔ جیل جا نا کوئی آسان کام نہیں۔لیکن اگر کوئی سیاسی لیڈر لندن سے اپنی دختر نیک اختر کے ہمراہ واپس لوٹ آئے تو وہ ذہنی طور پر تیار ہو کر آتا ہے۔ مقدمے کا فیصلہ قریب آتے ہی مسلم لیگ (ن) نے تیزی سے فیصلے کیئے۔ عوامی رابطوں کا فیصلہ ہو چکا۔ میڈیا ونگ بحال کیا جا رہا ہے۔

اور تیس دسمبر سے جلسے، جلوسوں کا شیڈول تیار کیا جا رہاہے۔ شنید ہے کہ نوازشریف نے چپ کا روزہ توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ اس وقت مقبول ترین شخصیت مریم نواز بھی خود ساختہ خاموشی ختم کرنے جا رہی ہیں۔ ممکنہ سزا ہو ئی تو پھر مریم نواز عوام رابطے کی مہم کو لیڈ کرینگی۔ لیکن ابھی دو ہفتے باقی ہیں۔ اس دوران کون گرفتار ہوتا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ایک دوسرا منظر نامہ یہ ہے کہ پس پردہ مسلم لیگ (ن) کے قلعہ میں شگاف ڈالنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ لاہور،گوجرانوالہ،جنوبی پنجاب کے چند ارکان اسمبلی پر ورکنگ ہو رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ ’’پیٹریاٹ‘‘ہو جائیں۔ ایسا ہوا تو کوئی انوکھی بات نہ ہو گی۔دیکھنا یہ ہے کہ عوامی رابطہ مہم کس قدر کامیاب ہو گی۔ کسی بھی قسم کی تحریک کیلئے حالات تو نہایت سازگار ہیں۔ عوام مسلم لیگ (ن) کی محبت میں نہیں۔ اپنے دکھ، درد کے مداوے کیلئے نکلتے ہیں۔ حکومت بظاہر تو پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں۔ لیکن کرکٹ کے لیجنڈ سیاستدان عمران خان کو معلوم ہی ہو گا۔ بعض گیندیں بیک فٹ پر بھی کھیلنا پڑتی ہیں۔ ہر بال کا میرٹ ہوتا ہے۔ ابھی تین مہینے ضائع کرنے کے بعد حکومت نے بمشکل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئر مین شپ پر اپوزیشن کا حق تسلیم کیا تھا۔ اب ایک اورپھڈا شروع ہو گیا۔ چار ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا لیکن قائمہ کمیٹیاں تشکیل نہیں دی جاسکیں۔ اپوزیشن غیر اہم محکموں کی کمیٹیاں کیوں لے؟ اور حکومت کیا کرے ۔نیاقضیہ ہے۔ وقت جتنا مرضی ضائع کر لیں حکومت کو ہی پیچھے ہٹنا پڑے گا۔فی الحال قومی اسمبلی کا اجلاس دودن کیلئے ملتوی ہے۔ قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کیلئے کوشش جاری ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اپنا کردار آزادانہ ادا کریں تو معاملہ ایک گھنٹہ میں حل ہو سکتا ہے۔ بہر حال اپوزیشن کے ڈیرے اب پارلیمنٹ ہاؤس میں ہیں۔ سوموار کے روز آصف زرداری،نواز شریف،شہباز شریف،بلاول بھٹو ایک چھت تلے جمع تھے۔ ابھی اپوزیشن متحد نہیں لیکن مولانا فضل الرحمن،حاصل بزنجو،محمود اچکزئی اور بعض دیگر سیاسی راہنما پس پردہ رہ کر اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ لیکن اس راہ میں ابھی کچھ رکاوٹیں ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں تو نہیں۔ البتہ نواز شریف اور آصف زرداری کے مابین بے اعتباری کی فضا ہے جس کی ذمہ داری آصف زرداری پر ہے۔ عدم اعتماد کی یہ فضا گزشتہ دور حکومت میں اس وقت شروع ہوئی جب بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر نقب لگائی گئی۔ اس کے بعد جس طرح پیپلز پارٹی، پانامہ کیس میں وفود کی شکل میں عدالت جاتی رہی۔ اور طنزیہ جملوں کے ساتھ زخموں پر نمک چھڑکتی رہی۔ سینیٹ کے انتخابات آئے تو مسلم لیگ (ن)کے پاس واضح اکثریت تھی۔ انتخابات کے بعد اس کی پالیمانی قوت میں اضافہ ہوتا۔ لیکن آصف زرداری نے شریک جرم کا کردار ادا کیا۔ سنجرانی ماڈل کامیاب رہا۔ اکثریت،اقلیت میں تبدیل ہو گئی۔ اب آصف زرداری اور محترمہ فریال تالپور کے گرد گھیراؤ تنگ ہو رہا ہے۔ آصف زرداری بھی سندھ کے میدانوں میں نکل آئے ہیں۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ آصف زرداری کو نہ تو مڈ ٹرم الیکشن کا اشارہ ملا ہے نہ ہی فی الحال کوئی تبدیلی متوقع ہے۔ آصف زرداری دھواں دار تقریروں کے ذریعے ماضی قریب میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کیے گئے تعاون کا صلہ مانگ رہے ہیں۔ ان کو کیا ملتا ہے کچھ معلوم نہیں۔ لیکن قلم کار کو اتنا معلوم ہے کہ ان کو تعاون کے عوض سندھ کی حکومت پہلے ہی مل چکی ہے۔ فی الحال باقی کچھ نہیں۔ آصف زرداری نواز شریف کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں تو ان کو کسی کی گارنٹی دینی ہو گی۔


ای پیپر