سقوط ڈھاکہ: خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
19 دسمبر 2018 2018-12-19

یہ ایک تاریخی سچائی ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ جو بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ بنی اُسے پاکستان کی خالق جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آج جب قوم ہر سال کی طرح سقوط ڈھاکہ کے سانحہ پر طرح طرح کی بولی بول رہی ہے ہم میں سے کتنے لوگوں کو یاد ہے کہ جن بنگالیوں کو ہم غدار کہتے ہیں، 1905ء میں مسلم لیگ کا قیام اور اس کا سب سے پہلا اجلاس اُسی سرزمین بنگال میں ہوا تھا جو بعد میں مشرقی پاکستان اور پھر بنگلہ دیش بنا۔ ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان کے رہائش گاہ پر مسلم لیگ نے جنم لیا جو اس کے بانیوں میں سے تھے۔ 

مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک کی تاریک راہوں میں معاملات کو سنگدلانہ طریقے سے سیاسی اقتدار کی خاطر پامال کیا گیا وہ ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جس کے حقیقی مجرم قومی سیاستدان تھے مگر بعد میں اس کا سارا ملبہ فوج پر ڈال دیا گیا۔ حالیہ برسوں میں فوج کے خلاف بغض رکھنے والے طبقوں میں یہ آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں کہ بنگلہ دیش میں ہماری فوج نے ہتھیار ڈال کر ملک کو اس صورت حال سے دو چار کیا۔ فٹ بال کے کھیل میں مخالف ٹیم کا کھلاڑی جب گول کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو غور کرنے کی بات ہے وہ سب سے پہلے سنٹر فارورڈ کو کراس کرتا ہے پھر وہ سنٹر ہاف اور اس کے دائیں بائیں والوں کو ڈاج دے کر آگے بڑھتا ہے اس کے بعد وہ فل بیک کو بیٹ کرتا ہے جب آخر میں گول پوسٹ پر پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہاں آخری رکاوٹ گول کیپر ہوتا اب اگر جس طرح پہلی دس پوزیشنوں کے کھلاڑیوں کی طرح گول کیپر بھی حملہ آور کو روکنے میں ناکام رہے اور مخالف کھلاڑی گول کرنے میں کامیاب ہو جائے تو آپ خود فیصلہ کریں کہ اس میں اکیلے گول کیپر کو ہم کیسے ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں مشرقی پاکستان میں آرمی کا اول اسی گول کیپر والا تھا جب سارا ریاستی ڈھانچہ زمین بوس ہو چکا تھا تو اکیلا گول کیپر وہاں کیا کر سکتا تھا۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں ملک کا ایک طبقہ ایک قومی شکست پر نہ صرف خوش ہوتا ہے بلکہ اس پر فوج کو بزدلی کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ اس مہم کا آغاز الطاف حسین نے کیا تھا مگر آہستہ آہستہ ان منحرفین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس سے ہماری قومی یکجہتی مجروح ہو رہی ہے۔ 1971ء میں سپاہی سے لے کر آرمی چیف تک کی فہرست دیکھیں تو اس دور کا کوئی بھی فوجی اس وقت حاضر سروس نہیں ہے لہٰذا 48 سال پہلے کی فوجی قیادت کے فیصلوں کو آج کے حالات پر اپلائی کرنا نہ ایمانداری ہے اور نہ دانشمندی۔ سرحد پار سے ہونے والے مسلسل پراپیگنڈا کی وجہ سے ہماری نئی نسل کو ایک منصوبے کے تحت اپنے قومی اداروں کے خلاف ان کے خون میں زہر بھرا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش کے جغرافیائی، لسانی، معاشی اور سیاسی اسباب بہت زیادہ تھے اس میں فوج کا نمبر سب سے بعد میں آتا ہے بریگیڈیئر صدیق سالک جو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ طیارے حادثے میں شہید ہوئے ان کی کتاب "Witness to Surrender" میں انہوں نے ان حالات کی عکاسی کی کہ کس طرح وہاں بنگالی مغربی پاکستان کے مقابلے میں غربت کا شکار تھے وہ کہتے ہیں کہ جب میری پوسٹنگ وہاں ہوئی تو اگلے دن میں نے دیکھا ہمارے گھر کے باہر عورتوں کی قطار لگی ہوئی ہے میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کیا معاملہ ہے اس نے بتایا کہ یہ سب ہمارے گھر میں کام کرنے کی امیدوار ہیں اور جس تنخواہ میں مغربی پاکستان میں ہمیں ایک نوکری ملتی تھی میں نے اتنے پیسوں میں 2 رکھ لی ہیں۔ 

سب سے اہم بات یہ تھی کہ 1970ء کے انتخابات کے نتائج کے مطابق مجیب الرحمن کی نیشنل عوامی پارٹی کی اکثریت تھی ان کو اقتدار ملنا چاہیے تھا عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جاتا تو شاید بنگلہ دیش ہم سے الگ نہ ہوتا مگر ذوالفقار علی بھٹو ہر قیمت پر وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔ مجیب الرحمن کے 6 نکات میں خودمختاری اور اختیارات کی تقسیم کی بات کی گئی تھی اس نے الگ ملک کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر کہا تھا کہ ہم نے مسلمانوں سے اپنی تاریخ کا بدلہ لے لیا ہے اور آج ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ یہ الفاظ کسی بھی پاکستانی کے لیے شرمناک اور توہین آمیز ہیں مگر ہم پھر بھی سبق حاصل نہیں کرتے۔ ہماری فوج گھیرے میں آگئی تھی ان کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود ختم ہو چکا تھا اور راشن سپلائی کٹ گئی تھی ایسے حالات میں یہ کیسے لڑ سکتے تھے۔ اس کے باوجود فوج نے وہاں اپنا کردار ادا کیا سرنڈر کا فیصلہ حکومت پاکستان نے کیا تھا۔ اس میں نہ جنرل نیازی ذمہ دار تھے اور نہ ہی مشرقی پاکستان میں لڑنے والی فوج ذمہ دار تھی فوج ہمیشہ سپہ سالار کے حکم کی پابند ہوتی 

ہے۔ ایک اور Mythیہ تھی کہ 90 ہزار فوجی قید ہوئے یہ غلط ہے۔ گرفتار پاکستانیوں کی تعداد 90 ہزار تھی مگر ا ن میں 30 ہزار سے زیادہ شہری تھے فوج 50 ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔ پاکستان آرمی پر سب سے زیادہ رسواء کن الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی اور بنگالی عورتوں کی آبرو ریزی کے وسیع واقعات ہوئے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان بارڈر کنٹرول ختم ہو چکا تھا ہندو چھاپہ مار تنظیم مکتی باہنی وہاں سرگرم عمل تھی اور یہ لوگ پاکستانی فوج کی وردی پہن کر عورتوں کی بے حرمتی کرتے تھے تا کہ فوج کو بدنام کیا جائے۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی فوج پر جنگی جرائم کا کوئی مقدمہ نہ تو انڈیا کی طرف سے قائم کیا گیا اور نہ ہی بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے کوئی سفارش یا کارروائی کی گئی جس میں پاک فوج پر کوئی الزام ثابت ہو سکے۔ 

ملٹری کی تاریخ میں آپ کو ایسے واقعات نظر آئیں گے کہ دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ نے لڑنے سے انکار کر نے والے یا میدان چھوڑ کر بھاگنے والے اپنی ہی برطانوی سپاہیوں کو ہلاک کر دیا تھا جب جنگ کے بعد فوج کے کردار کو Honour کرنے کا وقت آیا تو ان فوجیوں کے لواحقین نے مطالبہ کیا کہ ہمارے مرنے والوں کو بھی عزت دی جائے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ 48 سال پہلے کی فوج کی ذمہ داری موجودہ فوج پر ڈالتے ہیں اور اس پر طعنہ زنی کرتے ہیں حالانکہ یہ تو پوری قوم کے لیے برابر ذلت کی بات تھی۔ بہرحال بنگلہ دیش کا سانحہ ہمیں ہر سال غمگین کر کے چلا جاتا ہے۔ جنگ 71ء کے بعد فیض احمد فیض ڈھاکہ گئے تھے اور واپسی پر انہوں نے خون میں ڈوبی ہوئی غزل لکھی تھی:

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی جھلک

خون کے دھبے دُھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد


ای پیپر