مجلہ تحصیل ۳۔ فروغِ تحقیق اور نصاب
19 دسمبر 2018 2018-12-19

مطالعات و تحقیق کی روایت ہر ملک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ذریعے پنپتی ہے۔ تحقیق کی اس روایت کی آبیاری میں انفرادی اور نجی کاوشوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہاں عمومی نوعیت کی تحقیق بھی دیکھنے میں آئی ہے اور ایسے اعلیٰ اور معیاری تحقیقات بھی سامنے آئی ہیں جو اس باب میں کوہ نور ہیرے کی حیثیت رکھتی ہیں۔قیام پاکستان کے بعد پنجاب یونیورسٹی ایک شاندار علمی پس منظر کے ساتھ علم و تحقیق کے عمل میں مصروف تھی۔ کراچی یونیورسٹی نے بھی اپنے قیام سے ہی بھارت کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے فاضل اساتذہ اور منتظمین و ماہرین کے ساتھ علمی روایات میں شاندار اضافہ کیا ۔ ماضی میں لاہور اور کراچی مؤقر تحقیقات کا مرکز تھے۔ لیکن آج ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ہزارہاکاوشوں اور جتنوں کے باوجود علمی حبس اور گھٹن کی کیفیت ہے۔ مدیرانِ تحصیل اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مطالعات اور تحقیق میں جمودکی ابتداء انیس سو بہتر میں اس وقت سے ہوئی جب تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا گیا۔ جب کہ اس سے پہلے تعلیمی اداروں میں سیاست کے دخل نے بھی تحقیقی ماحول کو متاثر کرنا شروع کردیا تھا۔قومی تحویل میں لیے جانے سے نااہل اور سفارشی عناصر کی تعیناتی نے تحقیق کے عمل کی راہ میں بے پناہ روکاوٹیں پیدا کردیں اور آج حال یہ ہے کہ ملک کی کوئی یونیورسٹی حتیٰ کہ ایچ ای سی بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں ہے ۔نئے محققین اور طلبہ کی تحقیقات کے لیے جو معیاری تربیت اور رہنمائی درکار ہے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی بجائے مروجہ نظام ان کی صلاحیتوں کو ضائع کررہا ہے۔

اس صورت حال میں مدیران تحصیل یہ حل تجویز کرتے ہیں کہ ملک میں یکساں نصاب تعلیم ہونا چاہیے ۔ آئین کی اٹھارویں ترمیم کے باوجود تعلیم کو صوبائی حدود سے نکال کر وفاقی وسعت دی جانی چاہیے تاکہ آئیندہ آنیوالی نسلیں ایک قومی سوچ اور مشترکہ مقاصد و لائحہ عمل کے حصول کے سفر کا آغاز ہوسکے۔

مدیران تحصیل نے نہایت اہم مسئلے پر جرات کے ساتھ اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ لیکن جہاں یکساں نصاب کی مفتود گی کو اداریے کا مرکزی موضوع بنایا ہے وہاں 

مروجہ نظام کے طبقاتی پہلو پر روشنی نہیں ڈالی ہے۔ یہ طبقاتی نظام تعلیم ہی کا تحفہ ہے کہ ملک میں اشرافیہ کے غلاموں اور منشیوں کی فوج تیار ہورہی ہے۔ دنیا بھر میں تعلیمی نظام کو ایک جامع ، مربوط و موثر پالیسی اور تسلسل کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ جب کہ وطن عزیز میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں اول دن سے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں ہم آہنگ کرنے کا فقدان رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کا تعلیمی ڈھانچہ تبا ہ ہوکر رہ گیا ہے۔ ہمارے ملک کے تعلیمی نظام میں یوں تو بے شمار خرابیاں ہیں لیکن سب سے بڑی خرابی یکساں نظام تعلیم کا نہ ہونا ہے۔ 

ہمارے ملک کا تعلیمی نظام دو بڑے حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک دینی مدارس ، دوسرے د نیاوی تعلیم کی درس گاہیں۔ دینی تعلیم کے اداروں کو لیجیے۔ ان کی سب سے بڑی ’’خصوصیت ‘‘ یہ ہے کہ یہ تقلید کے اصول پر قائم ہوئے ہیں اور اسی بنیاد پر مختلف مسالک میں تقسیم ہیں۔

اس کے بعد عام دنیاوی تعلیم کی درس گاہوں کو لیجیے، یہ جس نظام پر قائم ہیں اس کی تعمیر میں ابتداء ہی سے خرابی کی بہت سی صورتیں مضمر رہی ہیں۔ اس کی بنیاد برصغیر کے برطانوی حکمرانوں نے رکھی تھی۔ ان درس گاہوں نے خود کو مختلف معاشی طبقات میں تقسیم کررکھا ہے۔ جس کے سبب یہ درس گاہیں ملک میں مستقبل کے معمار نہیں بلکہ اشرافیہ کے غلام پیدا کررہی ہیں ۔ ان درس گاہوں کی مسابقت تعلیمی معیار میں نہیں بلکہ :رعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میں ہے ۔ دنیاوی تعلیم کے مروجہ نظام کے بارے کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی فرماتے ہیں :  

’’ ہمارا سیکولر تعلیم یافتہ گروہ دنیا میں سب سے زیادہ نکما، انتہائی غیر ذمہ دار اور مادی اغراض کے لیے کام کرنے والا ہے۔ یہ نظام تعلیم ایک فرسودہ اور بے مقصد نظام تعلیم ہے، جو اپنے سامنے کسی سماجی نیکی، جذبہ کی گہرائی اور ذمہ داری کا احساس نہیں رکھتا ہے۔ اس نظام تعلیم نے خود غرضی، بد عنوانی اور بزدلی جو آدمی کو قدم اٹھانے اور ہمت و جرات سے کام لینے سے روکتی ہے، کے سوا کچھ نہیں دیا‘‘۔

ان درس گاہوں نے علم کا اعلیٰ مقصد نظروں سے اوجھل کر کے علم کو فقط روزی کے حصول کا ذریعہ بنا دیا ہے، جو حصول علم کا ایک جزوی پہلو ہے۔ ان درس گاہوں میں اکثریت ان طلبہ کی ہے جو حصولِ علم کے شوق میں کم اور دنیاوی جاہ و منصب کی حرص میں زیادہ مبتلاء ہیں۔ سرکاری کا لج اور یونیور سٹیاں ’’ فارغ التحصیل ‘‘ ہونے والوں کی کھیپ پہ کھیپ تیار کررہی ہیں ، جن کی قابلیت کا یہ حال ہے کہ بین الاقوامی سطح پر علم و تحقیق کا سکہ منوانا تو دور کی بات قومی سطح پر بھی کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے پائے ہیں، مگر سرکاری اہلکاروں کی روایت پسند فوج ظفر موج کی کمی کو مسلسل پورا کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ نظام مستقبل میں ملک کی باگ دوڑ چلانے والی نسل کو ایک ایسی بے مقصد تعلیم د ے رہا ہے جس سے بے روزگاری میں اضافے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہورہا ۔ پیشہ وارانہ تعلیم کا یہاں فقدان ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہمیں ملک میں تیل اور گیس کی تلاش سے لے کر گوادر کی بندرگاہ کو چلانے کے لیے بھی دوسروں کا دست نگر ہونا پڑ رہا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کا حال یہ ہے کہ وہ دعوے تو کرتے ہیں بلند پایہ عالمی اداروں سے الحاق کے ، مگر درحقیقت یہ سارے کے سارے دعوے اور نعرے گلشن کا کاروبار چلانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ تعلیم کے نام پر ان کا مقصد صرف لوٹ مار کرنا ہے۔ ان میں چند ایک ادارے ہونگے جو عالمی سطح پر اچھی شہرت اور معیار رکھتے ہوں۔ مگر ان کی فیس ہے کہ آسمان کی بلندیوں کو چھورہی ہے۔مطالعہء تاریخ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اقوام کے زوال کی ابتداء اخلاقی انحطاط اور بے عملی سے ہوتی ہے، جس کا بنیادی سبب بے علمی ہے۔ لہذا ضرورت اس امرکی ہے کہ تقلید اور اونچ نیچ سے پاک ایسی تعلیمی پالیسی وضح کی جائے جو جدید دور کے تقاضوں کو کماحقہ پورا کرسکے ۔ جب کہ جب کہ ہمارا تعلیمی بجٹ بھی کہیں زیادہ اضافے کا متمنی ہے۔ ہمارے پاس ایسے دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو قوم کے لیے ایک غیر طبقاتی اور جدید نظام تعلیم کی منصوبہ بندی کرسکیں۔ ملک کے روشن مستقبل کا دارو مدار اسی پر ہے کہ ہم ساری توانائیاں نظام تعلیم میں پائے جانے والے واضح تفاوت، فرق اور امتیاز کو دور کرنے پر صرف کریں۔ اس کے لیے بانی پاکستان حضرتِ قائد اعظم کے خطاب کا درج ذیل حصہ بھی ہماری بہتر رہنمائی کرسکتا ہے :’’ ہم نے ایک ریاست حاصل کرلی ہے، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ تعلیم کے لیے ایک قابل عمل، تخلیقی اور ٹھوس پروگرام تیار کریں جو ہماری ضروریات کے عین مطابق ہو اور ہماری تاریخ اور ہمارے قومی مقصد کا ترجمان بھی‘‘۔ 


ای پیپر