Source : Facebook

وزیرخزانہ نے آئندہ ماہ منی بجٹ لانے کا امکان ظاہر کردیا
19 دسمبر 2018 (17:04) 2018-12-19

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا ہے کہ ٹیکسوں میں اضافے اور کمی کی تجویز پر کوئی فیصلہ ہوا تو ہو سکتا ہے جنوری کے آغاز میں منی بل لے کر آئیں، آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں،لیکن ہمیں معاہدے کی کوئی جلدی نہیں،ہم نے جہاز کو لینڈ کرانا ہے،کریش نہیں کرانا۔

وزیر خزانہ اسد عمر کا نے بتایا کہ سعودی عرب سے قرض پر شرح سود 3.18 فیصد ہے، ملک میں زیادہ سرمایہ کاری بجلی اور پاور جنریشن میں آرہی ہے ،جس انڈسٹری نے دنیا سے مقابلہ کرنا ہے اس میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آرہی،جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایکسچینج ریٹ میں ایڈجسٹمنٹ حکومت سے مشاورت کے ساتھ ہی ہوتی رہی ہے۔

بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر فاروق حامد نائیک کی صدارت میں ہوا،اجلاس کو بریفننگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا کہ مئی ،جون،جولائی میں اوسطا کرنٹ اکانٹ خسارہ 2بلین کا تھا ،حکومت کے ایکشن لینے کے بعد صورتحال میں بہتری نظر آئی ،2بلین ماہانہ کرنٹ اکانٹ خسارہ ایک بلین پر آگیا ،اسد عمر نے کہا کہ سعودی عرب سے کئے گئے معاہدے کے تحت انہوں نے 3بلین ڈیپازٹ کرنا تھا ،جس کی پہلی برانچ نومبر اور دوسری دسمبر میں مل چکی ہے ،جبکہ تیسری برانچ جنوری میں آنی ہے.

سعودی عرب سے قرض پر شرح سود 3.18فیصد ہے ،دوسری ڈیفرڈ پیمنٹ آئل کی سہولت ہے ،اس سال وہاں سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی فنانسنگ آ رہی ہے،یو اے ای اور چین سے بھی بات ہوئی ہے ،اس سب سے 12 بلین ڈالر کا گیپ پورا ہو جاتا ہے ،اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں،لیکن ہمیں معاہدے کی کوئی جلدی نہیں، آئی ایم ایف والے کہتے ہیں کہ سٹرکچر ریفارمز کی ضرورت ہے ،ہمارا ڈائریکریشن آف ریفارمز پر کوئی اختلاف نہیں ،ہمارا اختلاف پیس آف ریفارمز پر ہے ،ہم نے جہاز کو لینڈ کرانا ہے،کریش نہیں کرانا ،اسد عمر نے کہا کہ 16سال میں پاکستان کی زیرو پروڈکٹیویٹی ہے ، زیادہ سرمایہ کاری بجلی اور پاور جنریشن میں آرہی ہے ،جس انڈسٹری نے دنیا سے مقابلہ کرنا ہے اس میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آرہی.

اسد عمر نے کہا کہ ٹیرف میں ٹیکسوں کے حوالے سے ایک پروپوزل ہے جس پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا،اگر یہ ہوا تو جنوری کے آغاز میں شائد منی بل لے کر ائیں،رکن کمیٹی سینیٹر شیری رحمان نے ڈالر کی قیمت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا اسحاق ڈار کے ہوتے ہوئے ایک دفعہ قیمت بڑھی تو ہنگامہ ہوا ،ڈالر کی قیمت پر وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے بیانات میں تضاد تھا ،وزیر اعظم نے کہا مجھے معلوم نہیں تھا اور آپ نے کہا مجھے معلوم تھا،وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ کا معاملہ سنٹرل بینک کے پاس ہے،گورنر اسٹیٹ بینک ٹھیک فیصلے کرتے رہے ہیں، ستمبر میں مجھے گورنر اسٹیٹ بینک کا میسیج آیا جو میں نے وزیراعظم کو بتا دیا تھا.

شیری رحمان نے کہا کہ پھر وہ برہم کیوں تھے ،اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایکسچینج ریٹ میں ایڈجسٹمنٹ حکومت سے مشاورت کے ساتھ ہی ہوتی رہی ہے ،رکن کمیٹی اورنگزیب نے کہا کہ میں آپ کو ایسی جگہیں بتاتا ہوں جہاں دو فٹ سے گیس نکلتی ہے اور پانی سے خام تیل نکلتا ہے ،گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ باہر کی سرمایہ کاری پر کچھ اصول ہیں،5ملین ڈالر سے کم سرمایہ کاری خود کی جا سکتی ہے ،جبکہ 5سے 30 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اسٹیٹ بینک کے ذریعے کی جاتی ہے جبکہ 30 ملین ڈالر سے اوپر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ ای سی سی کرے گی۔


ای پیپر