”بہت خوب راجہ بشارت“
19 دسمبر 2018 2018-12-19

میں جس راجہ بشارت کو عشروں سے جانتا ہوں وہ ایک شریف النفس سیاستدان اور انتہائی نستعلیق انسان ہے ، وہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے اُس سیاسی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جس سے آپ سیاسی امور پر تو اختلاف کر سکتے ہیں مگر ان کی متانت، رکھ رکھاو¿، وضع داری اور تعلق برداری پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ جب ننانوے کی بغاوت کے بعد غداری کر کے جانے والوں کی اکثریت کو میاں نواز شریف نے گلے لگا لیا تو چودھری برادران کے لئے جاتی امرا کے دروازے کیوں نہیں کھلے، بہرحال ، اب پلوں کے نیچے سے دوبارہ بہت سارا پانی بہہ چکا اور اب پنجاب میں دوبارہ چودھریوں کی ہی حکومت ہے۔ بات راجہ بشارت کی ہو رہی ہے جو ان کے وزیر قانون ہیں اوراپنی ایک فون کال کی وجہ سے نئے پاکستان میںشدید تنقید کا شکار ہیں۔یہ فون کال انہوں نے بےنظیر بھٹو شہید ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ طارق نیازی کو کی اور ہدایت کہ وہ ان کے کٹر سیاسی مخالف حنیف عباسی کی صاحبزادی ڈاکٹر اریبہ عباسی کا تبادلہ ایمرجنسی سے دوبارہ سکن ڈپیارٹمنٹ میں کر دے۔ وائرل ہونے والی آڈیو کے مطابق طارق نیازی نے ان کا یہ حکم ماننے سے درشت لہجے میں دوٹوک انکا ر کر دیا اور جب یہ فون کال لیک کی گئی تو اس کا کیپشن یہ دیا گیا کہ وزیر قانون نے ایم ایس بے نظیر بھٹو ہسپتال کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی دھمکیاں دیں، بظاہر یہ بات قابل اعتراض نظر آتی ہے اگر آپ سازشیوں کے ظرف اور پس منظر سے آگاہ نہ ہوں۔

میں نے کہا چودھری برادران کا قبیلہ تعلق نبھانے اور رکھ رکھاو¿ میں ہی سراہا جاتا ہے اور یہ اقدار ہمارے معاشرے سے رخصت ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ راجہ بشارت کے ٹیلی فون کال میں الفاظ تھے، ’ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بارے میں یہ کہا جائے کہ ہم اپنے مخالفین کی بیٹیوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں‘ اور میرے خیال میںموجودہ دور میں یہ الفاظ سونے کے پانی سے لکھے جانے چاہئیں جب ہر طرف قانون اور احتساب کے نام پر بدترین سیاسی انتقام کی تاریخ لکھتے ہوئے ماو¿ں، بہنوں اور بیٹیوں تک کو نہیں بخشا جا رہا۔ میرا یہ بھی گمان ہے کہ راجہ بشارت نے یہ ٹیلی فون کال وزیر قانون نہیں بلکہ ’ پنڈی وال‘ ہونے کی حیثیت میں کی کہ اس وقت حنیف عباسی مشکلات کا شکار ہیںاور اس امر کی تصدیق ہو چکی ہے کہ جناب طارق نیازی نے عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی ڈاکٹر اریبہ عباسی کو تنگ کرنا شروع کر دیا کیونکہ ان کے پروپیگنڈے کے مطابق حنیف عباسی کی وجہ سے ان کی پوسٹنگز کا ایشو رہا۔ مہذب لوگ اور خاندانی لوگ اپنی لڑائیوں کو بیٹیوں تک نہیں لے کر جاتے مگر یہاں ایسا نہیں ہوا۔ اس امر کی شکایت جب راجا بشارت تک ان کی اہلیہ کے ذریعے پہنچی تو انہوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ڈاکٹر اریبہ عباسی کا تبادلہ منسوخ کرنے کے لئے کہا اور اسکی باقاعدہ وجہ بیان کی جو اوپر درج کر دی گئی ہے۔

یہ سوال ضرور ہونا چاہئے کہ کیا راجا بشارت ، طارق نیازی کا پس منظر نہیں جانتے تھے جو نیازی ہونے کی وجہ سے براہ راست جناب عمران خان تک رابطے میں سمجھے جاتے تھے اور اگر طارق نیازی کے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ کا ہی جائزہ لے لیا جائے تو اندازہ ہوجائے گاکہ وہ اپنی سیاسی وابستگی کی وجہ سے سرکاری ملازمت کے قواعد وضوابط کو کس بری طرح پامال کر رہے تھے۔ یہ امر واضح ہے کہ طارق نیازی کا ڈاکٹر اریبہ عباسی کے ساتھ انتقامی رویہ محض اتفاقی اور قانونی نہیں تھابلکہ سو فیصد ٹارگٹڈ تھا۔ ہمارے ڈاکٹر دوست بتاتے ہیںکہ ڈاکٹر اریبہ عباسی کی پوسٹنگ ایڈہاک بنیادوں پر تھی اور ایڈہاک ڈاکٹر کو ٹرانسفر نہیں کیا جا سکتا لہٰذا یہاںا یم ایس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور بارہا کیا۔ دوسرے ہر بڑے ہسپتال میںکم از کم ڈیڑھ، دو سو کے لگ بھگ میڈیکل آفیسر ہوتے ہیں اور ان میں سے دو ، چارکی ٹرانسفر پوسٹنگزسے کوئی انتظامی ایشوز پیدا نہیں ہوتے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی ہسپتال میں وائے ڈی اے کے رہ نما کی بیوی سمیت بہت ساروں کو ان کی مرضی کی ڈیوٹی دی گئی ہے۔آپ اریبہ عباسی کی بات کرتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ تمام ویمن میڈیکل آفیسرز کو ڈیوٹی روسڑ میں بہتر طور پر اکاموڈیٹ کرنا چاہئے۔ مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے انتقامی کارروائیوں کے بعد وزیر قانون کو ایک سازش کے تحت الجھایا جس کا سب سے بڑا ثبوت فون کال کی ریکارڈنگ اور ایڈیٹنگ ہے۔کہا جا رہا ہے کہ یہ آڈیو ایڈٹ کرتے ہوئے اس میں سے وہ تمام قابل اعتراض فقرے غائب کر دئیے گئے ہیں جن میں راجہ بشارت کو جان بوجھ کے غصہ دلانے کی کوشش کی گئی،جی ہاں،میںجس راجہ بشارت کو برسوں اور عشروں سے جانتا ہوں وہ اتنی جلدی غصے میں آنے اور اپنے اختیار سے ہٹ کے بات کرنے والا نہیں ہے۔

سازش کی پہلی کڑی کال کی ریکارڈنگ سے ہی آشکار ہوجاتی ہے اوراس کے بعد اس ایڈیٹڈ آڈیو کو مخصوص گروپ کے ذریعے گمراہ کن کمنٹس کے ساتھ پھیلایا گیا حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ وزیر قانون تو ایک طرف رہا، کسی بھی ہسپتال کے ایم ایس کو محکمہ صحت کے کسی ڈپٹی سیکرٹری نہیں کسی سیکشن آفیسر کا بھی فون آجاتا تو وہ خود جا کے مذکورہ میڈیکل آفیسر کو اس کی مرضی کے وارڈ میں ڈیوٹی پر چھوڑ کے آتے ہیں۔ ہمارے دوست کہہ رہے ہیں کہ وزیرقانون کو ایم ایس کو نہیں کہنا چاہیے تھا اور وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہماری کرپٹ اور غصیلی بیوروکریسی اس وقت تک کسی کو ریلیف نہیں دیتی جب تک اس کے لئے فون نہ کروایا جائے خاص طور پرجب آپ کے سامنے ایسا شخص ہو جو ذاتی اور سیاسی بنیادوں پر منتقم مزاجی کا مظاہرہ کر رہا ہو۔ محکمہ صحت سمیت سیکرٹریٹ کے برآمدوں میں گھومنے والے جانتے ہیں کہ اس طرح کی سفارش حق اور انصاف کے حصول کے لئے بنیادی ضرورت ہے اور کسی بھی ادارے کا سربراہ اسے ایک جزیرہ بناتے ہوئے اس کے معاملات مطلق العنان بن کے نہیں چلا سکتا۔ راجہ بشارت اس سازش کا شکار اس لئے ہوئے کہ وہ موجودہ دور کے انتقامی کلچر کا پوری طرح حصہ نہیں بنے ، یہ کریڈٹ انہی کو جاتا ہے کہ اس سے پہلے آمریت کے بدترین دور میں بھی انہوں نے پنجاب کے ایوان کو بہترین انداز میں چلانے کی کوشش کی۔ یہاں چودھری پرویز الٰہی کا ذکر بھی ضروری ہے جنہوں نے اُسی مشرف دور میں تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود حمزہ شہباز شریف کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جو اب تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب گذشتہ دنوں چودھری پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز شریف میں سیاسی تلخی انتہائی حدوں کو چھونے لگی تو مجھے ماضی کے واقعات سے باخبر ہونے کی وجہ سے حیرت ہوئی۔

ہماری ثقافت اور معاشرت تویہ ہے کہ بچیوں کے گھروں میں آنے پر قتل جیسے جرم بھی معاف کر دئیے جاتے ہیں مگر افسوس اس ثقافت اور معاشرت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں اگر راجہ بشارت نے سیاسی تنازعات سے بالاتر ہوتے ہوئے اپنے سیاسی مخالف کی بیٹی کوسیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنانے کی ہدایت کی ہے تو انہوں نے اس بدترین دور میں جہاد کیا ہے جب عزتوں کی پامالی کو بہادری کا نام دیا جا رہا ہے اور انتقام کو احتساب کی پیکنگ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ راجہ بشارت یہاں نہ صرف سیاسی اخلاقیات کی انتہا پر کھڑے نظر آتے ہیں بلکہ اس میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور اس کے آقاو¿ںکو بھی پیغام دیتے ہیں کہ اختیارات کے حامل مردوں کوان لڑکیوں سے مقابلہ نہیں کرنا چاہئے جو سیاست نہیں کر رہیں محض ملازمت کر رہی ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہاں راجہ بشارت نے واقعی راجوں اور بادشاہوں جیسے ظرف کا مظاہرہ کیا ہے۔


ای پیپر