وزیر اعلیٰ ہائوس بھی سب جیل بن سکتا ہے
19 اگست 2019 2019-08-19

اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کے جیل کی کوٹھڑی میں ایئر کنڈیشنر ہٹادیا گیا گھر سے کھانا بند کردیا گیا۔ ان کی صاحبزادی مریم نواز کی گرفتاری ان کے سامنے عمل میں لائی گئی۔عید سے ایک روز قبل فریال تالپور کو آدھے رات کو جیل منتقل کردیا گیا۔ جس کے ردعمل میں آصف زرادری کو یہ کہنا پڑا کہ دوسروں کی بھی مائیں بہنیں ہیں۔حکومت ان دو جماعتوں کے خلاف مختلف حربے استعمال کرتی رہی کہ کسی طرح سے ان کو خاموش کرا سکے اور اپنی شرائط کی ڈیل پر راضی کر سکے۔ ان کوششوں میں ناکامی کے بعدتحریک انصاف حکومت اپوزیشن رہنمائوں کے خلاف جذبات کا کارڈ کھیلنا چاہ رہی ہے ۔حکومت سمجھتی ہے کہ ہر دو صورتوں میں اس کو فائدہ ہے ۔ جذبات کا کارڈ اگر اپوزیشن کو جھکا سکتا ہے تو اس کی بڑی کامیابی ہے ، اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ممکن ہے کہ اپوزیشن واقعی جذبات میں آکر جلد بازی میں کوئی قدم اٹھا لے۔ یہ درست ہے کہ مریم نواز کی گرفتاری سے پنجاب میں حکومت خود کو وقتی طور پر سکون میں محسوس کرتی ہے ۔ لیکن یہ سکون زیادہ عرصے تک نہیں چلے گا۔ گزشتہ ایک ماہ تک جس طرح سے مریم نواز کی وجہ سے مسلم لیگ نواز جارحانہ انداز میں چل رہی تھی، اب پیپلزپارٹی کی باری ہے کہ وہ صورتحال کو آگے لے جائے۔

پیپلزپارٹی کوایک بار پھرمشکل مرحلہ درپیش ہے ۔ کیونکہ اب وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ کی گرفتاری کے اشارے مل رہے ہیں۔آصف زرادری اس سے قبل اس طرح کی صورتحال کا مقابلہ کر چکے ہیں، جب وہ جیل میں تھے اور بینظیر بھٹو خود ساختہ جلاوطنی میں تھی۔لیکن تب پیپلزپارٹی کلی طور پر اپوزیشن میں تھی، ابھی سندھ حکومت اس کے پاس ہے ۔ پیپلزپارٹی کے خلاف حالیہ اقدامات کے لئے کئی ماہ سے پارٹی قیادت اس کے لئے تیار تھی۔ لہٰذا ان گرفتاریوں یا اقدامات پرسندھ کوحیرت نہیں ہوئی۔ سندھ کا عام آدمی سمجھتا ہے کہ زرداری جوڑتوڑ کے بادشاہ ہیں، وہ ان طوفانوں سے بھی نکل آئیں گے۔ اس سے قبل بھی مقدمات اور گیارہ سال قید بھگتی ہے ۔ سختیاں برداشت کیں،بالآخر رہا ہوگئے اور پارٹی کو نہ صرف اقتدار میں لے آئے بلکہ خود بھی جا کرایوان صدرمیں بیٹھے۔آصف زرداری ضدی یا اناپرست نہیں، وہ ایک عملی سیاستدان ہیں۔اس لئے ہی انہیں مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے ۔ انہیں پتہ ہے کہ اگر سخت حالات ہو جائیں، کس طرح سے راستہ تبدیل کیا جائے، یا پھر کسی مناسب وقت کا انتظارکیا جائے۔

سندھ سمجھتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے اٹھارویں ترمیم اورسندھ کے حقوق کے بیانیے کے ذریعے اس حساس صوبے کے اہل دانش و فکر کو اپنے ساتھ جوڑے رکھا ہے ۔

پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ اسکو آصف علی زرداری یا فریال کے حوالے سے کوئی فوری رلیف نہیں مل سکتا ۔ لہٰذا اس کے لئے سندھ حکومت بچانا فی الحال اہم ہو گیا ہے ۔ بھرپور احتجاج یا تحریک نہ چلانیکی حکمت عملی کے پیچھے تین بڑی وجوہات ہیں۔ اول یہ: پارٹی سمجھتی ہے کہ سب ریاستی ادارے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دوئم یہ کہ پارٹی قیادت ایم آرڈی تحریک سے سبق لیتے ہوئے سندھ کو اکیلے احتجاج میں لے جانا نہیں چاہتی۔ وہ سمجھتی ہے کہ تبدیلی کا منبع پنجاب ہے ۔تیسری وجہ سندھ میں پارٹی کی حکومت ہے ۔ پارٹی نہیں چاہے گی کہ اپنی ہی حکومت کو غیر مستحکم کرے۔ یا وفاق کو راست قدم کا کوئی موقعہ دے۔ بلکہ یہ کوشش ہوگی کہ اس حکومت کو بچائے۔سندھ کی وجہ سے پارٹی کی سیاست میں اہمیت اورحساسیت ہے ۔ وہ اپنی اس طاقت کو سنبھال کے رکھنا اور سنبھال کے استعمال کرنا چاہتی ہے ۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے خلاف کارروائی بحران کو گہرا کرسکتی ہے خاص طور پر اگروفاقی حکومت سندھ میں اپنی مرضی مسلط کرنا چاہے گی۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وزیراعظم اتنے بڑے مالی بحران اورسیاسی بحران میں مبتلا ہونے کے بعد ایک اور بحران کو پیدا کریں گے۔ایسا کرنا بڑی غلطی ہوگی۔ اس سے صوبے اور وفاق کے درمیان جھگڑا بڑھ جائے گا۔ اورسندھ کے لوگ مکمل طورپیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔ اس سے قبل سندھ اسمبلی کے اسپیکرسراج درانی نیب کی تحویل میں ہیں۔ اور سندھ اسمبلی کو سب جیل قرار دے کر ایوان چلا رہے ہیں۔ آئین کے تحت گورنر کی عدم موجودگی میں اسپیکر کو قائم مقام گورنر ہونا ہے ، جب گورنر سندھ عمران اسماعیل حج پر گئے تو وفاقی حکومت نے ڈپٹی اسپیکر کو قائم مقام گورنر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ پیپلزپارٹی نے وفاق کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا اور ڈپٹی اسپیکر نے قائم مقام گورنر کے عہدے کا حلف نہیں اٹھایا۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ سندھ کی گرفتاری عمل میں آتی ہے ، تو ضروری نہیں کہ وہ عہدے سے ہٹ جائیں۔ اس لئے ان کو صرف اسمبلی یا پھر پارٹی ہی ہٹاسکتی ہے ۔ اسپیکر سراج درانی کی طرح سب جیل سے بھی حکومت چلا سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی تین رخی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے ۔پارٹی قیاد ت یہ یقین دہانی کرانے میں مصروف ہے عمران خان اوراسٹبلشمنٹ کی مخالفت دو الگ بیانیے ہیں۔ پارٹی اسٹبلشمنٹ کی مخالفت نہیں کررہی۔پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ وہ سیاسی تنہائی کا شکار نہ ہو، دوسرے صوبے بھی اٹھیں۔ لہٰذا وہ دوسری سیاسی جماعتوں سے خود کو جوڑے رکھنا چاہتی ہے ۔ اس کا زور ہے کہ اسی کے ذریعے حکمرانوں کی پالیسی میں شفٹ لے آئے۔

پیپلزپارٹی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی پالیسی سیاسی رہے گی یعنی ایک قدم آگے بڑھے گی، دبائو کی صورت میں ایک قدم پیچھے ہٹ جائے گی، اور وقت آنے پر کیموفلاج میں بھی چلی جائے گی۔ یہ دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔ پیپلزپارٹی جلد بازی کے بجائے لمبی اورمقتدرہ حلقوں کوتھکانے کی حکمت عملی پرعمل پیرا ہے ۔

وفاقی حکومت کا فارمولا یہ ہے کہ سندھ حکومت پر دبائو ڈال کر پنجاب جیسا بلدیاتی نظام سندھ میں لے آئے۔ اور بلدیاتی انتخابات کے وقت سندھ میں بھلے پیپلزپارٹی کے ہی صفوں سے وزیراعلیٰ ہو، جو کہ اسلام آباد کو بھی قبول ہو۔ پیپلزپارٹی اس کے لئے تیار نہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت پر حالیہ دبائو بلدیاتی انتخابا ت کے حوالے سے ہے ۔


ای پیپر