تنازع کشمیر اور بھارتی جارحیت کا خطرہ…!
19 اگست 2019 2019-08-19

ہفتہ کو وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ کی زیرصدارت وزیر اعظم کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا اجلا س ہوا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انتباہ کیا کہ انڈیا کسی وقت بھی جارحیت کر سکتا ہے ۔ قوم تیار ہے ۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس موقع پر کہا کہ بھارت پلوامہ جیسی نام نہاد کارروائی کر سکتا ہے ۔ سرحد ی خلاف ورزی کی تو بھرپور سرپرائز دیں گے۔ وزیر اعظم کا آخری حد تک جانے کا بیان فوج کا بیانیہ ہے۔ کشمیر کے لیے آخری فوجی ، آخری بلٹ تک لڑیں گے۔ بھارت آزاد کشمیر کو بھول جائے ۔ اب پرانا قبضہ چھڑانے کا وقت ہے۔ قوم فکر نہ کرے ،تیاریاں مکمل ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اس وقت ایک جیل ہے جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور ہر گھر کے دروازے پر بھارتی فوج کھڑی ہے۔آنے والے دنوں میں جب مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کی پابندیاں ختم ہونگی تو کشمیریوں کا سخت ردِ عمل سامنے آئے گا اور جبر و تشدد بڑھے گا۔ بھارت کی خواہش یہی ہے کہ کشمیر میں حالات سخت خراب ہوں اُس کا بہانہ بنا کر بارڈر پر آجائے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی کمانڈر ایل او سی کے پار سے درآندازی کے الزامات لگا رہے ہیں ۔ ہم دراندازی کے ان الزامات کو رد کرتے ہیں تاہم ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا اور کوئی ایسا واقعہ جس سے پاکستان اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچے پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جنرل آصف غفور کے پریس کانفرنس میں سامنے آنے والے خیالات یقینا پاک فوج کی دفاعِ وطن کے لیے تیاریوں اور دشمن کے مکروہ ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے اس کے مضبوط عزم و یقین کا اظہار ہے۔ جنر ل آصف غفور کابہ تکرار یہ کہنا کہ پاکستانی فوج ہر طرح کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور بھارت نے سرحدی خلاف ورزی کی تو اُسے سرپرائز دینگے اپنے اندر بھارت کے لیے ایک انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ان کی طرف سے اس امر کا اظہار کہہ کہ ہماری طرف سے انفرادی یا کسی اور طور پر کوئی ایسا واقعہ جس سے بھارت کو پاکستان کے خلاف جارحیت کے ارتکاب کا جواز مہیا ہو اس سے اجتناب کرنا ہوگا ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کے غیر ذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز بیان کے انداز میں بڑھکیںمارنے کی راہ پر نہیں چل رہا ۔ورنہ کون نہیں جانتا کہ پاکستان بھارت کے مقابلے میں برتر ایٹمی صلاحیت کا مالک ہے اور اسے اگر ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کر دیا گیا تووہ اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی کے پریس کانفرنس میں دیئے گئے بیان کا مختصر سا حوالہ شروع میں آیا ہے ۔ وہ اگرچہ لمبی بات کرنے کے عادی ہونے کے ساتھ اردو اور انگریزی زبانوں پر مکمل عبور رکھنے کے مخمصے کا شکار ہیں لیکن انھوں نے بھی پریس کانفرنس میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے یقینا وہ بھی وقت کی آواز اور پاکستان کی قومی پالیسی کی ترجمانی کا درجہ رکھتے ہیں۔ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال اور پاک بھارت تعلقا ت میں کشیدگی کی تازہ لہر کی موجودگی میں قبلہ شاہ صاحب کا یہ کہنا بلاشبہ حقیقت کا اظہار ہے کہ بھارت کسی وقت بھی پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کا سکتا ہے اور ہم بین الاقوامی برادری کو اس بارے میں باخبر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا اس امر پر مسرت کا اظہار بھی کوئی ایسا غیر مناسب نہیں کہ پاکستان نے (چین کی مدد سے) سلامتی کونسل کا اجلاس بُلایا اور اس میں کشمیر کی تازہ ترین صور ت حال سامنے لا کر بھارت کو چونکا دیا ہے۔ ان کا یہ کہنا بھی اپنی جگہ پر درست ہے کہ ( کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس) اتنی بڑی پیش رفت ہے جس کا ہر کسی کو اندازہ نہیں ۔ اگر ایک بڑی طاقت رُکاوٹ بن جاتی تو سیکورٹی کونسل کا اجلاس نہ ہو پاتا ۔ ہمارے (پاکستان) کے خط کو اہمیت دی گئی اور بھارت کے مطالبے کو مسترد کیا گیا۔ کشمیر کے حوالے سے عسکری اور حکومتی ذمہ داران اور ترجمانوں کے یہ خیالات یقینا اہم ہیں لیکن سوال وہی ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازع اور خصوصی حثیت ختم کرتے ہوئے اس کودو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی وفاق کا حصہ بنانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس فیصلے کو ہم کس طرح ختم کروا سکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ ضمنی سوال بلکہ بڑا سوال بھی موجود ہے کہ بھارت کی طرف سے کسی ممکنہ جارحیت کی صورت میں پاکستان کی طرف سے (ترجمانوں کے بیانات اپنی جگہ) کس طرح کے جوابی ردِ عمل کی توقع کی جاسکتی ہے یا کس طرح کا جوابی ردِ عمل ہونا چاہیے کیا اس کے لیے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی نوبت آئے گی یا اس کے بغیر مقصد حاصل کیا جا سکے گا۔ یہ سوالات یقینا اہم ہیں۔ تاہم تنازعہ کشمیر کے حوالے سے ماضی کے کچھ حالات و واقعات کا مختصراً تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ ان کی مدد سے ہمیں ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے میں مدد ملے گی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف زیادہ ٹھوس جائز اور مبنی پر حقیقت ہے ۔لیکن یہ کہنا شاہد غلط نہ ہو کہ اس ضمن میں ہم سے پے در پے کوتاہیاںہوئیں اورہم مواقع (Chances) سے فائدہ اُٹھانے میں کامیاب نہیں رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کشمیریوں کی اکثریت قیام پاکستان سے قبل ہی ڈوگرہ راج سے آزادی اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو اپنی منزل قرار دے چکی تھی۔ مارچ1931 میں ڈوگرہ راج کے خلاف مسلمان مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا تو پورے کشمیر میں مسلمان احتجاج کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ مارچ 1940 میں قراداد پاکستان منظور ہوئی تو چار ماہ بعد جولائی 1940میں کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرس نے اپنے قائدرئیس الاحرار چوہدری غلام عباس کی قیادت میں کشمیر کی ڈوگرہ راج سے آزادی اور پاکستان سے اس کے الحاق کو اپنے منشور کا حصہ بنایا۔ (جاری ہے)


ای پیپر