اب کیا ہوگا؟
19 اگست 2019 2019-08-19

جنگ ہوگی؟ پاکستاینوں کی اکثریت موجودہ حالات میں جنگ ہی ملکی سلامتی کا واحد راستہ سمجھتی ہے، لیکن اکثریت کے کہنے یا مطالبے سے جنگ چھیڑی جاسکتی ہے نہ روکی جاسکتی ہے۔ یہ فیصلہ چند بااختیار افراد ہی کرسکتے ہیں اور وہیں کریں گے۔ غالب امکان یہی ہے کہ جنگ نہیں ہوگی۔

فی الحال پاکستان جنگ سے بچنے اور عالمی برادری کا ضمیر جگانے کی کوشش کررہا ہے، موجودہ معاشی اور سیاسی حالات میں اسے بہترین تو نہیں ہاں مناسب حکمت عملی کہا جا سکتا ہے، لیکن صرف سفارتی محاذ پر بھارت کو پچھاڑنے سے کام نہیں چلے گا۔ آج نہیں تو کل، ہمیں راست اقدام کرنا پڑے گا۔ دشمن کی نظر گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان پر بھی ہے، صورتحال بالکل 80ء کی دہائی والی ہے، جب سویت یونین راتوں رات افغانستان پر قبضہ کرکے کراچی اور گوادر پہنچنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا افغانستان سویت یونین کا قبرستان بن گیا۔ آج بھارت سے بھی 71ء کا حساب چکانے کا وقت آچکا ہے۔

بھارتی عام انتخابات سے چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے بیان دیا تھا اگر نریندر مودی انتخابات جیت گئے تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔ آرٹیکل 35 اے کا خاتمہ مودی کے منشور کا حصہ تھا، ساری دنیا جانتی تھی مودی کی دوبارہ حکومت آئی تو وہ کیا کرینگے، ایسے میں عمران خان کا یہ کہنا کہ مودی جیتے تو مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا، بڑا حیران کن تھا۔ اسکا مطلب ہے پاکستان بھارت کے موجودہ اقدام سے نہ صرف پہلے سے آگاہ تھا بلکہ پاکستانی تھنک ٹینکس کو انتہا پسند مودی سے ایسی ہی اسٹریٹجک غلطی کا انتظار تھا، جو کشمیر کی آزادی اور بھارت کی تباہی کا پیش خیمہ بن جائے۔

آرٹیکل 370 کا خاتمہ مرحلہ وار کیا جانا تھا لیکن شاید امریکی صدر کے مودی سے متعلق ثالثی کے بیان نے بھارتی وزیراعظم کیلئے مشکلات کھڑی کردیں، انہیں اپوزیشن کی جانب سے غدار کہا جانے لگا، ممکنہ طور پر طیش میں آئے مودی نے ایک ہی جھٹکے میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کیلئے یہ غیر متوقع اقدام تھا، فوری طور پر پہلا خیال یہی آیا کہ عمران خان کے دورہ امریکا کے دوران یہ سب فیصلے کئے گئے اور مودی نے جو کچھ کیا اس پر پاکستان اور امریکا آن بورڈ تھے۔ کشمیر کی تین حصوں میں تقسیم کا فارمولا سب سے پہلے سابق صدر پرویز مشرف اور اسکے بعد عمران خان پیش کرتے رہے ہیں۔ اب جبکہ ویسا ہی ہوگیا تو شور کیوں مچ رہا ہے؟ تو عرض یہ ہے کہ کشمیر کی تقسیم دراصل بھارت کی تقسیم کا فارمولا ثابت ہوگی، یہ بات منموہن سنگھ سمجھ گئے تھے، آر ایس ایس کے نریندر مودی نہیں سمجھ پائے، اور اپنے دیس کے آنتم سنکسار کا اہتمام کرلیا۔

بھارت اسٹرٹیجک غلطی کر بیٹھا ہے وہ سمجھتا ہے وہ کشمیر کو فلسطین بنا سکتا ہے، لیکن کیسے؟ اسرائیل میں 75 فیصد کٹر یہودی "زائیونسٹ" ہیں، 20 فیصد نسلی یہودی ہیں اور پانچ فیصد یہودی نواز آباد ہیں۔ اسرائیل میں اسرائیل کے وجود کیخلاف بات کرنے والا ایک فرد بھی نہیں رہتا۔ پھر بھی فلسطین اسرائیل کو ہمیشہ ایک ٹانگ پر کھڑا رکھتا ہے۔ بھارت میں تو علیحدگی کی کئی تحریکیں چل رہی ہیں، ہندو توا تحریک جس نہج پر پہنچ چکی خالصتان کا قیام ناگزیر ہوچکا، آسام کیا راجستھان بھی ہاتھ سے نکل جائے گا، رہی بات کشمیر کی تو وہ ان شاء اللہ آزادی کی منزل کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ کشمیریوں کی کشتیاں جلا دی گئی ہیں، ان کے پاس جینے کا ایک ہی راستہ ہے، مارو یا مرجاؤ۔ راجیہ سبھا میں بھارت نواز کشمیری رہنما غلام نبی آزاد کا بیان بہت اہم ہے، جس میں انہوں نے اقرار کیا کہ آج تک بھارتی فوج صرف اس لئے کشمیر میں جمی رہی کیونکہ مقامی افراد اسے مجاہدین کے ٹھکانوں اور نقل و حرکت بارے اطلاعات دیتے رہتے تھے، بھارت نے کشمیریوں کے ساتھ وشواس گھات کیا اب کچھ بھی ہوجائے بھارتی فوج کشمیر میں زیادہ دیر ٹک نہیں پائے گی۔

ہندو توا تحریک ہندوستان میں صرف ہندوؤں کو زندہ رہنے کا حق دیتی ہے، باقی تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مار بھگانا چاہتی ہے، اللہ نے چاہا تو یہ تحریک اپنے قیام کے سو سال پورے ہونے سے پہلے ضرور کامیاب ہوگی، 2025ء میں اس کا صد سالہ یوم تاسیس ہوگا، اور اس سے پہلے پہلے ہندوستان میں صرف ہندو رہ رہے ہونگے، سارے غیر ہندو اپنا اپنا الگ دیس بسا چکے ہوں گے۔

راجناتھ سنگھ کہتے ہیں بھارت ایٹمی حملے میں پہل کرسکتا ہے۔ یہ بیان کھسیانی بلی کے کھمبا نوچنے سے مختلف نہیں، دھمکی اپنی جگہ ایٹم بم چلانے میں پہل اتنا آسان نہیں ہے، اس سے دو ملک نہیں پوری دنیا متاثر ہوگی، دو سے ڈھائی ارب لوگ سیکنڈز میں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے، کئی ہزار میل تک اوزون لیئر ختم ہو جائے گی، دنیا کا درجہ حرارت دو سے تین سینٹی گریڈ بڑھ جائے گا، خطے میں گلیشئرز مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے، کئی ممالک سیکڑوں فٹ گہرے پانی میں ڈوب جائیں گے، پوری دنیا کینسر سے بھی زیادہ مہلک بیماریوں کا شکار ہوجائے گی، حالات معمول پر آنے میں سو سال سے زائد کا عرصہ لگے گا۔ کیا دنیا ایسا ہونے دے سکتی ہے؟

اس وقت بھارت جارحانہ جبکہ پاکستان دفاعی انداز اپنائے ہوئے ہے۔ لیکن مودی کے پاس زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔ کارگل طرز کی جنگ بھارت کو زیادہ بھاری پڑے گی۔ عین ممکن ہے بھارت میں خانہ جنگی شروع ہوجائے۔ اگر جنگ ناگزیر ہوگئی تو پاکستان کی ہر ممکن کوشش ہوگی اسے صرف ایک محاذ تک محدود رکھ کر پراکسی وار کے ذریعے بھارت کے کئی ٹکڑے کردئیے جائیں۔ لیکن اگر 65ء کی طرح حملہ ہوا تو شاید ہفتہ دس دن میں ہی کھیل اور کھلاڑی ختم ہوجائیں گے۔ کیونکہ کولڈ اسٹارٹ ڈاکڑائین بابر ٹو تھری اور ابابیل لے اڑے، جبکہ شاہین اور غوری کھیل ختم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ فی الوقت پاکستان ایٹمی حملے کی بات نہ کرکے خود کو ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ثابت کررہا ہے، جبکہ راجناتھ سنگھ نے بھارت کی بوکھلاہٹ اور بچگانہ پن دنیا کے سامنے عیاں کردیا۔ بھارت اب دنیا کے وجود کیلئے بڑا خطرہ بن چکا ہے، یکطرفہ طور پر آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے مودی نے بتا دیا وہ انتہا پسندی میں انتہا سے آگے جا سکتا ہے۔ سیکولر بھارت حالت نزع میں ہے، کوئی پل آتا ہے کہ کریا کرم ہوتا ہے۔

ادھر پاکستانی معیشت بدحال ہے، ملکی سلامتی کیلئے قوم متحد ہے لیکن سیاسی عدم استحکام بھی حقیقت ہے، ایسے حالات میں پاکستان تینوں محاذوں پر طویل جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس کے باوجود ڈی جی آئی ایس پی آر کے چہرے پر موجود طمانیت سے لگتا ہے پاک فوج نے گھنا بندوبست کررکھا ہے، سانپ کا سر مارخور کے منہ میں آچکا ہے۔


ای پیپر