وزیر اعظم عمران خان:اقتدار کے 365 دن
19 اگست 2019 2019-08-19

اقتدار میں آنے سے قبل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے قوم سے کئی وعدے کئے تھے۔انتخابی جلسوں میں جب وہ عوام سے مخاطب ہوتے تو کہا کرتے تھے کہ وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم ہائوس میں سکونت اختیار نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم ہائوس کو یونیورسٹی اور گورنر ہاوسزز کو کسی اور مفید کام کے لئے استعمال کریں گے۔ عمران خان وزیر اعظم منتخب ہونے سے قبل اس عزم کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ وہ ایوان میں سوالوں کے جوابات خود دیں گے۔ عمران خان کو اقتدار میں آنے سے قبل گھمنڈ تھا کہ وہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد ٹیکس جمع کریں گے۔بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں سے ان کو توقعات تھیں۔لیکن ڈیم فنڈ میں چندہ دینے کی اپیل پر بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں نے جو کچھ ان کے ساتھ کیا اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو دوبارہ ان سے چندہ دینے کی اپیل کی ہمت نہیں ہو ئی ۔ٹیکس جمع کر نے کے لئے بارباروزیر اعظم عمران خان نے اپیل کی لیکن کسی کی فیکٹری، کاروبار،بینک اکاونٹس اور جائیداد پر جوں تک نہ رینگی۔نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیکس جمع کرنے کا مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا۔پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نو کریاں دینے کا وعدہ تھا ،لیکن جس کے دماغ میں یہ انوکھا خیال آیا تھا اس کامل وجود کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے سیاسی جسم سے کاٹ کر پھینک دیا ہے۔اس لئے اب ممکن نہیں کہ پچاس لاکھ گھر بن سکیں گے یا ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں مل جائیںگی۔ممکن ہے کہ پچاس لاکھ میں سے پانچ ہزار یا زیادہ سے زیادہ پندرہ ہزار گھر مکمل ہو جائیں اس لئے کہ چار سال مزید پڑے ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نعرہ بھی اسی انقلابی نے لگا یا تھا جس نے پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نو کریوں کا وعدہ کیا تھا ۔اب وہ نہیں رہے اس لئے ہر مہینہ حکومت پیٹرولیم مصنو عات کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ کر رہی ہے۔معاشی استحکام اور سول سروس میں اصلاحات کی پٹاریاں تاحل کھل نہ سکیں۔

اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان سے سب بڑی غلطی یہ ہو ئی کہ انھوں نے پارلیمنٹ کو غیر مو ثر کر دیا۔ کئی مہینے تک چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کے تقرر پر حزب اختلاف کے ساتھ الجھے رہے۔بار بار ایوان میں اعلان کیا گیا کہ کرپشن میں ملوث شخص کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا سربراہ بنانے کا مطلب ہو گا کہ بلی کو گوشت کی چوکیداری پر مامور کیا جائے۔کئی مہینوں کی کشیدگی کے بعد اسی بلی کو نامزد کیا لیکن ملک اور قوم کا بہت سارا وقت اور پیسہ برباد کرکے۔ایوان کی زیادہ تر کارروائی حکومت اور حزب اختلاف کے شور شرابے کی نظر ہو ئی ۔ نونو، گوگو،چور چور،نیازی صاحب اور سلیکٹڈ وغیر جیسے نعرے ایوان کے درودیوار سے ٹکراتے رہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے خود پارلیمنٹ میں سوالوں کے جوابات دینے کا عہد کیا تھا لیکن وہ صرف چودہ اجلاسوں میں شریک ہوئے۔

وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان نے دوسری بڑی غلطی یہ کی کہ انھوں نے حکومت غیر منتخب لوگوں کے حوالے کی۔وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو ہٹا کر ان کی جگہ غیر ملکی پرانے پرزے عبدالحفیظ شیخ کو نامزد کیا۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جگہ غیر منتخب خاتون ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا تقرر کیا۔اسٹیٹ بینک جیسے اہم ادارے کو بین الاقوامی مانیٹرنگ فنڈ(آئی ایم ایف) کے نمائندے ڈاکٹر باقر رضا کے حوالے کیا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) جیسے اہم ادارے کو غیر سنجیدہ شخص شبر زیدی کے سپرد کیا۔احتساب جیسے حساس اور اہم شعبہ کو غیر منتخب ،میڈیا کے شوقین اور الزامات کے ماہر شہزاد اکبر کے حوالے کیا۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اہم ادارے کو غیر منتخب خاتون ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ذمہ لگا یا۔ وزیر اعظم ہائوس کاتمام انتظام غیر منتخب افراد نعیم الحق ، افتخار درانی اور یوسف بیگ مرزا جیسے نابغوں کے سپرد کیا۔ وزیر اعظم عمران خان احتساب کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئے تھے لیکن ایک سال مکمل ہو جانے کے بعد بھی ان کی حکومت کسی کرپٹ پر ایک بھی مقدمہ دائر نہ کر سکی۔اس ایک سال کے اقدامات سے معلوم ہو رہا ہے کہ احتساب محض ایک نعرہ تھا۔حزب اختلاف کے جتنے بھی رہنما اس وقت پابند سلاسل ہیں وہ تمام پرانے مقدمات میں مقید ہیں۔تعلیم کے شعبے میں یکساں نظام اور یکساں نصاب تعلیم وزیر اعظم عمران خان کا نعرہ تھا مگر ایک سال گزرنے کے بعد بھی معلوم ایسے ہو رہا ہے کہ ہنوز دلی دور است۔صحت کا شعبہ بھی وہیں پر ہے جہاں پر پہلے والے چھوڑ چکے تھے۔دیہی معیشت کو سہارا دینے کے لئے مرغیاں ،کٹے اورکٹیاںدینے کا اعلان کیا گیا تھامگر افسوس کہ دوبارہ کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی اور یہ منصوبہ فائلوں میں دفن ہو کر رہ گیا۔

خارجہ محاذ پر افغانستان میں عبوری حکومت کا مشورہ وزیر اعظم عمران خان نے دیا تھا لیکن افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے اس تجویز کو مسترد کیا جبکہ دوسرے فریقین امریکا اور افغانستان طالبان نے ابھی تک کوئی بھی رائے نہیں دی۔بھارت میں انتخابات میں کامیابی کے لئے بھارتی جنتا پارٹی(بی جے پی)کی کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا۔اس کی وجہ وزیر اعظم عمران خان نے یہ بیان دیا کہ نریندر مودی کا اقتدار میں آنے کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں آسانی ہو گی۔لیکن نریندر مودی نے انتخابات میں کامیابی اور دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو اس حد تک مشکل میں ڈال دیا ہے کہ اب وہ بھرے ایوان میں قائد حزب اختلاف سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا میں بھارت پر حملہ کر دوں۔کرتار پور راہداری پر غیر ضروری تیزی دکھائی گئی جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک ) پر کام کی رفتار سست رہی۔ایران کے ساتھ تعلقات میں وہ گرم جوشی نہیں آئی جس کی امید وزیر اعظم عمران خان قوم کو دلا چکے تھے۔دورہ امریکا سے توقعات تھیں کہ واشنگٹن ،اسلام آباد کی امداد بحال کر دے گا،لیکن ابھی تک وہاں سے نا ہی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس ایک سال میں چند اقدامات ایسے بھی کئے کہ جس کی ستائش ضروری ہے۔احساس پر وگرام کا آغاز کیا۔ صحت انصاف کارڈ کا اجرا کیا۔پلانٹ فار پاکستان مہم شرور ع کی۔یہ تمام اچھے اقدامات ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ منصوبے کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں یا مرغی پال پروگرام کی طرح الماریوں میں بند کی جائے گی ۔ اس کے لئے اگلے سال تک انتظار کرنا ہو گا۔ وزیر اعظم منتخب ہو نے کے بعد اہلیان پشاور کو امید تھی کہ بی آر ٹی منصوبہ پہلے سال مکمل ہو جائے گا لیکن تاحال یہ منصوبہ ادھورا ہے۔اسی طرح سوات موٹروے کے بارے میں بھی عوام پرامید تھی کہ اس ایک سال میں نہ صرف یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا بلکہ اگلے مر حلے پر کام بھی شروع ہو جائے گا،لیکن یہاں بھی صرف خواب ہی رہے تعبیر نہ ملی۔

نوٹ: یاد رہے کہ اس مضمون میں صرف ایک سال کی چند غلطیوں کا تذکرہ ہے ۔اسے وزیر اعظم عمران خان کی ناکامیوں سے ہرگز تعبیر نہ کیا جائے اس لئے کہ کامیابی یا ناکامی کا تعین کرنے کے لئے ابھی چار سال پڑے ہیں۔


ای پیپر