کشمیر! دل کی آنکھ سے دیکھو
19 اگست 2019 2019-08-19

قرآن عظیم میں ارشاد ہے کہ ’’ دل کی آنکھ سے دیکھو ‘‘ (مفہوم) جب انسانوں اور مخلوقات کے معاملات کو دل کی آنکھ سے دیکھیں تو پھر صوفی ازم، انسانیت ، دین کی سمجھ غالب آتے ہیں۔ ہمارے برادرم ڈاکٹر اعجاز خاور خواجہ ڈاکٹر عارف علوی سے کہیں بڑے ڈینٹسٹ ہیں۔ پاکستان، ابو ظہبی،انگلینڈ اور تنزانیہ میں پریکٹس کرتے ہیں ۔ سال میں تین چار مرتبہ پاکستان آتے ہیںاور معروف پروفیسر ڈاکٹر گلریز محمود خان Habitate والے کے ہاں قیام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر گلریز محمود خان کے ہاں ہر بیٹھک میں 50/60 سے زائد احباب بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ وطن عزیز کے سپوت جو برصغیر کیا میرے خیال سے دنیا بھر میں فن کے اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتے حقیقی دانشور جناب سہیل احمد عزیزی جن کو ان کے والد محترم جو دیانتدار پولیس آفیسر بھی تھے باؤ جی کہہ کر پکارتے۔ انجینئر اسد بٹ، کالم نگار زبیر میر، پروفیسر عمران اللہ ادارہ التحریر کے مالک فن و ثقافت کے محافظ و امین معروف شخصیت جناب زاہد حسین خان آسٹریلیا سے آئے ہوئے جناب علامہ فہیم طارق چندھڑ اے ڈی آئی بی راحیل رحمت بٹ سے مسلسل اور روزانہ کی بنیاد پر نشستیں رہیں دو تین مرتبہ ذوالفقار علی بٹ ڈی ایس پی نواں کوٹ ،میرے بڑے بھائی اعظم بھائی چیف ایگزیکٹو ون ایم ایم آرٹس اور دی فائیو منٹس شو کے میزبان امیر حمزہ آصف بھی نشستوں میں شامل رہے۔ The Five Minutes Show کے سیٹ پر آمد کے موقع پر یار لوگوں جن میں جناب سہیل احمد کی علمی ادبی ، بین الاقوامی ، جغرافیائی سیاسی، لوک ورثہ، دھرتی اور دھرتی سے جڑی رسم رواج تاریخ اور روایات کے متعلق معلومات سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ یاد رہے کہ سہیل احمد بابائے پنجابی جناب ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کے نواسے اور پروفیسر جناب جنید اکرم (چلتے لمحے کے صوفی) کے بھائی ہیں ۔

علامہ فہیم طارق چندھڑ کی مذہبی مسائل پر ڈاکٹر اعجاز خاور کا انسان اور انسانیت مسئلہ کشمیر اور ہندو ازم کی فطرت پر زبیر میر کا پاکستانی سیاست پر، اعظم بھائی کا عظمت انسان کی بحالی پر، امیر حمزہ آصف کا نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہوئے ہر موضوع اور شعبے پر، انجینئر اسد بٹ کا حب الوطنی پر، ڈاکٹر گلریز کا انسانی تعلقات اور عمرانی علوم پر، جناب زاہد حسین خان کا انسانی اقدار پر نہ ختم ہونے والا سلسلہ کلام جو شروع ہوا اس میں ماضی ، حال اور مستقبل کی متوقع تہذیبیں جو زیر بحث آئیں سو آئیں یقین کیجیے کہ مجھے وطن عزیز کے ’’منٹو، مولانا ابو الکلام آزاد‘‘ بننے والے بعض جعلی دانشور، کالم نگار وNGOs چلانے والے اداکار، نئے پاکستان کے شاہکار ان کے سامنے بالکل بے کار دکھائی دیئے۔ گوکہ جناب سہیل احمد، خواجہ اعجاز خاور، زبیر میر، راحیل رحمت بٹ سے میرا نسل در نسل کا رشتہ ہے جو پہلگام سری نگر سے گوجوانوالہ سے ہوتا ہوا لاہور تک جاری ہے مگر میں نے ان احباب اور برادران کو جب دل کی آنکھ سے دیکھا تو مجھے حقیقی درویش اور دانشور دکھائی دیے۔

امیر حمزہ آصف کے دی فائیو منٹس شو کے سیٹ پر ان احباب جنہوںنے دنیا بھر کے ممالک کے کاروباری سیاسی دورے کیے ہوئے ہیںنے جو گفتگو کی اس کا خلاصہ تھا کہ بین الاقوامی طاقتوں، شخصیات نے دستانوں پر دستانے اور چہروں پر چہرے چڑھا رکھے ہیں ہر ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ملک کے ساتھ کیا کرنا ہے اس کی پلاننگ 100 سالہ پروگرام کے تحت کر رکھی ہے۔ اسی طرح ہی پینٹاگون میں دنیا کے ممالک کے لیے الگ الگ (ڈیسک) یعنی آفس ہیں جس میں ہر ملک کے ساتھ آئندہ 100 سال میں کیا کرنا ہے اس کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ اس گفتگو میں ترکی کے عدنان مندریس، ایران کے رضا شاہ ، وطن عزیز کے ذوالفقار علی بھٹو اور ان کا خاندان ، شام کے حافظ الاسد کا خاندان، لیبیا کے کرنل قذافی، عراق کے صدام حسین، مصر کے محمد مرسی ، فلسطین کے یاسر عرفات اور سعودیہ کے عظیم رہنما شاہ فیصل کے شہید ہونے کی بات بھی ہوئی جو امریکہ اس کے حواریوں اور سامراجیوں کے سامنے ملنگی، بھگت سنگھ، اسامہ بن لادن ہی دکھائی دیئے۔ آزادی، حق اور خیر کی جس نے بات کی وقت کے فرعونوں ، یزیدوں، نمرودوں نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان سورماؤں کو ان کے ملک کے سسٹم ، عوام اور اداروں کے ذریعے عبرت بنا ڈالا۔ سب دوست اس بات پر متفق تھے کہ دنیا میں چند بڑی قوتیں اور ممالک ان کے اتحادی اور ذیلی ادارے جن میں ورلڈ بینک، آئی ایم ایف حتیٰ کہ یواین او ہے کے تیار کردہ سکرپٹ پر معاملات چلائے جا رہے ہیں۔ ہم جو دوسری اور تیسری دنیا کے لوگ ہیں فلم، تھیٹر کو حقیقت سمجھتے ہوئے زندگیاں اور نسلیں قربان کیے جا رہے ہیں حالیہ کشمیر میں بھارتی بربریت بھی سکرپٹڈ ہے۔ دنیا کی طاقتیں اور طبقات مذاہب اور نسل پر نہیں طاقت اور مفاد پر دوستی اور اختلاف رکھتی ہیں جب تک ہم طاقتور نہیں ہوتے دنیا میں کنٹری بیوٹ نہیں کرتے دنیا کی طاقتور قوم اور ملک نہیں بنتے سعودی عرب بھی ہماری بات نہیں سنے گا۔

بھارت کے حوالے سے اس وقت جبکہ ہم شق370کے متعلق بحث ومباحثہ میںمصروف ہیں،ہم اس طرف توجہ نہیں دے رہے کہ بھارت میں اس وقت کیاحالات ہیں۔

جیٹ ایرویز بند ہے، ایر انڈیا کا 7600کروڑ روپے کانقصا ن، بی ایس این ایل کی 54,000 ملازمتیں خطرے میںہیں، HAL ملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی کے لیے رقوم دستیاب نہیں، محکمہ ڈاک کا 15000 کروڑ روپے کانقصان ،آٹوانڈسٹری میںسے ایک ملین ملازمین کی چھانٹی،تیس بڑے شہروں میں 12.76 لاکھ مکانات فروخت نہیں ہوسکے،Aircelختم ہوچکی ہے،جی پی گروپ ختم ہوچکاہے،بھارت کی انتہائی منافع بخش کمپنیONCG،اب نقصان میںجارہی ہے، 36بڑے مقروض ملک سے غائب ہیں،چند تجارتی ؍کاروباری کمپنیوں کے2.4لاکھ قرضوں کی معافی، PNBمسلسل خسارے میں،تمام بینک مسلسل بھاری نقصان اٹھا رہے ہیں،ملک پربیرونی قرضوںکی مقدار پانچ سوبلین ڈالرسے زائد ہے،ریلوے برائے فروخت ہے،کرایے کے ثقافتی ورثوں میںلال قلعہ بھی شامل ہے، کارسازی کا سب سے بڑے صنعتکارماروتی نے پیداوار کم کردی ہے، 55000روپے مالیت کی کاریں کارخانوں میں موجودہیں لیکن خریداردستیاب نہیں، بلڈرز پریشانی میںمبتلاہیں،کچھ نے خودکشی کرلی ہے،کوئی خریدار نہیں، لاگت میںاضافے (جی ایس ٹیم میں 18فیصد سے 28فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے) کے باعث تعمیرات رک گئی ہیں،OFB میں چھانٹی کے باعث 1.5 لاکھ ملازمین اوران کے خاندان متاثرہورہے ہیں،اسقاط زر کے باعث لاکھوں بیروزگارہوچکے ہیں،اس وقت گزشتہ 45 برس کی نسبت بیروزگاری کی شرح سب سے بلندہے، پانچ ہوائی اڈے Adaniکوفروخت کردیے گئے،داخلی بلندمعاشی جمود،HNIکے بہت زیادہ ملازمین بھارت چھوڑکرجارہے ہیں، Videoconدیوالیہ ہوچکی ہے،Tata Docomoختم ہوچکی ہے، بے پناہ قرض کے باعث CCDکے بانی VG Siddharthaنے خودکشی کرلی مگر کوئی بات میڈیا میں نہیں آئی۔

لہٰذا اگر ہمارے موجودہ حکمران بیرونی دوروں میں اپنے ملک کی اپوزیشن کے خلاف الزامات اور نوحہ کنائی کی بجائے بھارت کے متعلق اور کشمیریوں کے بنیادی و انسانی حقوق اور اُن پر توڑے جانے والے مظالم کی بات کرتے تو بہترین نتائج برآمد ہوتے مگر ہمارے ہاں سیاستدانوں کو رنگ بازی سے ہی فرست نہیں لندن میں شیخ رشید نے بیان داغا کہ کشمیر کے لیے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے بعد میں ہمارے ایک دوست قبلہ سمیع اللہ ملک صاحب جو شیخ سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے ایک دوست کی وساطت سے فون پر بات کی اور کہا کہ مائیک کھلا ہوا ہے انہوں نے کہا شیخ صاحب میں نے آپ کا بیان پڑھ لیا ہے کہ خون کا آخری قطرہ بہا دیں گے ذرا یہ بتائیں کہ لندن ذاتی ٹکٹ پر آئے ہیں یا حکومتی خرچے پر اس کا جواب تو نہ دے پائے البتہ کہنے لگے کہ سیدھی سیدھی… دیناہی شروع کر دیں… حضور! مسئلہ کشمیر ڈرامہ بازی اور رنگ بازی نہیں بلکہ جان کی بازی کا متقاضی ہے جیسے فوج اور کشمیری لگا رہے ہیں۔ سیاسی نہیں دل کی آنکھ سے دیکھنے کا ہے۔


ای پیپر