کشمیر کے ساتھی
19 اگست 2019 2019-08-19

آج کشمیر کی آزادی یا کشمیریوں کی بربادی پہ کیا لکھا جائے ؟ بہت کچھ لکھا جا چکا اور بہت کچھ لکھا جارہا ہے مگر عالمی بے حسی کا عجب عالم ہے جیسے یہ کوئی انسانی المیہ ہی نا ہو ! گویا کوئی دور افریقہ کے گھنے جنگلوں میں بھیڑیوں اور گیدڑوں کا ہرنوں اور مویشیوں پر حملہ ہو۔ اسے صدیوں سے ارضی جنت کہا گیا شاید یہ ان جنگ آزادی کے بے شمار معصوم شہیدوں جہادیوں اور غازیوں کی آخرت میں بخشش اور اعلیٰ مقام فردوس کہ ملنے کو بطور استعارہ کہا گیا ! یا اس کی سر سبز وادیوں ، پھلوں سے لدے ،درختوں سے ڈھکے بادلوں میں گم پہاڑوں اور سفید پوش چوٹیوں نیلگوں جھیلیں اور دودھ جیسی بہتی آبشاروں کے نظارے اسے جنت کہنے پہ مجبور کرتے ہیں ؟ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ستر سال سے جہنم کی متلاشی قابض و غاصب بھارتی فوج نے اس امن کے گہوارے میں معصوم کشمیریوں پر مسلسل ظلم اور بربریت کی خونی آگ دہکائی ہوئی ہے۔ نہتے بچے اور عورتوں پر کنکریوں کے بدلے اندھا دھند گولیاں برسائی جاتی ہیں۔ابھی حال اور ماضی قریب میں اس تحریک آزادی اور اپنے بنیادی انسانی حقوق کی جدوجہد میں پر امن کشمیریوں پر پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا گیا جس کی کچھ گونج عالمی میڈیا میں بھی سنائی دی گئی۔

افسوس آج معاشی عالمی طاقتوں کے اپنے اپنے مفادات کے آگے ہر کوئی مجبور اور بے بس ہے۔ غریب اور ترقی پذیر ملکوں کے لئے ایسے ایسے قوانین اور ضابطے بنا دیئے گئے ہیں کہ بیچاری حکومتیں چاہتے نا چاہتے بھی اپنی عوام پر سختیاں کرتی نظر آتی ہیں۔ اس کی تازہ مثال حال ہی میں FATF جیسی تلوار پاکستان کی معاشی طور پر رینگتی اور مشکلات میں گری حکومت پر بھی لٹکانا ہے۔ جس کے لئے چند دن قبل ہمارے محترم وزیراعظم اور ہماری عظیم فوج کے سپہ سالار امریکہ دورے پر باہمی سفارتی مسائل کے علاوہ اس گمبھیر معاملے پر بھی کچھ کامیابی حاصل کرتے نظر آئے۔ شاید وقت کے ساتھ ساتھ اب روایتی جنگوں سے ذیادہ یہ معاشی معرکے ہار جیت بن چکے ہیں۔ اب انہی مالیاتی جنگوں سے ملکوں کی آزادی خوشحالی ، بدحالی اور بربادی جڑ گئی ہے۔ یہاں کشمیر کے موضوع میں اس معاملے کا تذکرہ پاکستان اور اس کی عسکری قیادت کو مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں درپیش غیر عسکری مسائل پر روشنی ڈالنا ہے۔

ہم بحیثیت قوم کشمیر کے معاملے پر ہمیشہ سے جذباتی اور دکھی ہو جاتے ہیں۔ مظلوم و بے کس کشمیریوں کیلئے غم و غصے میں گری پاکستانی قوم حکومت اور ایٹمی طاقت کی حامل فوج سے بہت جذباتی امیدیں باندھ لیتی ہے۔ عام آدمی جو زیادہ تر کم پڑھا لکھا ہے شاید ہی آج کی دنیا میں موجود ایٹم بم سے ذیادہ خطرناک معاشی ڈپلومیسی اور سفارتی ہتھکنڈے بارے کچھ جانتا ہے۔

اب جہاں تک روایتی عسکری قوت کا تعلق ہے پوری قوم کو فخر ہونا چاہئے یاد رکھیں حال ہی میں بھارتی طیارے کو مار گرانے اور اس کے پائیلٹ ابھی نندن کو زندہ گرفتار کر لینے والے واقعے میں بہت محدود وسائل کے باوجود پاک فضائیہ کے شاہینوں نڈر پائلٹوں نے کمال جرت اور ہنر مندی دکھاتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے دانت کھٹے کر کے پوری دنیا کو ورط حیرت میں ڈال دیا۔

ہمیں یقین ہونا چاہئے پاک فوج جدید اسلحے سے کہیں زیادہ اہم ان بے شمار جانبازوں سے لیس ہے جو پچھلی دو دہائیوں سے ملکی حدود کی حفاظت اور ارض پاک میں امن کے لئے دہشتگردی کے عفریت سے لڑتے اور جانیں نذرانہ کرتے ہوئے نہیں تھک رہے۔اور کیا کہیے ان کے بے مثل لواحقین جو ملک قوم پر مزید جانیں قربان کرنے کے لئے بے چین نظر آتے ہیں۔ سبحان اللہ

ایسی فوج اور ان کے سپہ سالاروں کو ہمیں اس نازک صورتحال میں ایک قوم ایک آواز بن کر اور اپنے من دھن اور سیاسی وابستگیوں اور مفادات کی پرواہ کئے بغیر ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ قوم کے ان بہادر سپوتوں کے لئے لداخ یا جموں میں لڑنا کوئی اچنبھے یا خوف کی بات نہیں وہ 80 کی دہائی سے سیا چن جیسے خطرناک علاقے میں بھارتی قبضے کی مذموم کوشش کو کئی دہائیوں تک جانوں کی پرواہ کئے بغیر روکے ہوئے ہے۔ پھر کیا کہیے معرکہ کارگل کی جو پاک فوج کے مٹھی بھر جوانوں نے جان پہ کھیلتے ہوئے اپنی بہادری اور اپنے سپہ سالاروں کی ذہانت کی ایسی دہاک بٹھائی کہ بھارت پوری دنیا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ بھارتی مہم جو اور سورما شاید ہی کبھی یہ شرمندگی بھلا پائیں۔ کارگل واقعہ ان چند نقادوں کا منہ بند کرنے کے لئے بھی کافی ہے جو اس کمال ہنر مند بہادر فوج کی صلاحیتوں کو سیاسی بحث میں ڈال کر داغدار کرنا چاہتے ہیں۔

نیویارک 11ستمبر دہشتگردی واقعہ کے بعد امریکہ کی افغانستان پر تباہ کن فوجی کارروائی اور مداخلت بڑھنے سے پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات اور کالعدم تنظیموں کی انتہا پسندی زور پکڑ گئی۔ ایسے ہی ایک واقعے میں ہمارے ایک ہر دلعزیز دوست پاک فوج کے انتہائی قابل اور بہادر ایس ایس جی کمانڈو کرنل ہارون اسلام جولائی 2007ء میں انتہا پسندوں کے آگے سینہ تان سامنے سے کمانڈ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔ ملکی حفاظت اور امن کی خاطر لڑی جارہی یہ جنگ آج بھی جاری ہے۔ بہادری اور جوانمردی کی یہ داستان ہماری افواج کے جوانوں اور افسروں کے خون پاک سے لکھی جارہی ہے۔ بھارت یہ جانتے ہوئے کہ ہماری عسکری صلاحیت کس اعلیٰ مہارت کی حامل ہے پھر بھی جو کچھ وہ کشمیر میں کر رہا ہے اور جیسے ابھی ابھی اس نے اپنے آئین کا خود ہی مذاق اڑاتے ہوئے آرٹیکل 35 کو ختم کرتے ہوئے غیر کشمیریوں یعنی انتہا پسند ہندوؤں کو جائیداد خریدنے اور لداخ کو اپنی بھارتی یونین کا حصہ بنانے کا متنازع قانون بنا دیا ہے اور یہ سب کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو اندازہ تھا کہ اس کی راہ میں عالمی ادارے اور مغربی سپر طاقتیں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔

ہم سب حکومت اور پاک فوج بارے منفی پراپیگنڈے کو ہمیشہ جلدی میں قبول کرنے کے عادی ہیں رہی سہی کثر سوشل میڈیا پر کچھ احمق اور کچھ ملک دشمن عناصر پوری کرتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس مشکل گھڑی میں قوم کا بچہ بچہ حکومت اور فوج کے ساتھ کھڑا نظر آتا لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھئے عوام کی نمائندہ عوام کی زبان قومی اسمبلی میں جمعہ کے دن معزز اراکین آزاد کشمیر جیسے مسئلے کو نظر انداز کرتے ہوئے دست و گریباں اور گالی گلوچ کرتے رہے ذاتیات کے ایسے مناظر تھے کہ مقبوضہ کشمیر سے زیادہ اپنے عوامی نمائندوں اور طرز سیاست پر رونا آیا۔

ایسے میں ہمیشہ کی طرح خیالوں میں اپنے شہیدوں اور بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتے ہوئے گہری سوچ اور خواہشوں میں لپٹے مہو خواب ہوگیا۔۔ کاش آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ایک ایسی یکجہتی اور جذبے کی لہر اٹھتی۔۔

کیا نظارہ ہوتا ؟ خیبر سے ایک جوان جوش جنوں میں نعرہِ تکبیر کہتا اور جواباً اللہ اکبر کی گھن گرج سیاہ چن کی بلندیوں سے گوادر اور کراچی کے ساحلوں تک گونجتی ہوئی جاتی۔ بھارتی ایوانوں میں یہ آواز کڑکتی بجلی کی طرح چمکتی ہوئی گرتی کہ مودی اور اس کے دہشت گرد ٹولے کی مارے خوف کہ جان پہ بن جاتی۔

لیکن مجھے یقین ہے ہم سب بحیثیت قوم بھارت کے معاملے پر اللہ کی رحمت سے ایک ہوجاتے ہیں ایسا کرکٹ ہو یا جنگ …قوم مفادات میں گرے سیاستدانوں پر کم ہی انحصار کرتی ہے۔


ای پیپر