بھارتی کی خوفناک ساز ش منظر عام پر آگئی ،پنجا ب ہائی الرٹ
19 اگست 2019 (20:14) 2019-08-19

لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت وزیراعلیٰ آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کے بعد کی صورتحال، لوگوں کے انخلاءکیلئے اقدامات اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے اجلاس میں بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کے پیش نظر قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، بہاولنگر اور بہاولپور میں تمام حفاظتی اقدامات اور ضروری تیاریاں مکمل رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دریا کے بیڈ سے لوگوں کا انخلاءیقینی بنایا جائے اور سیلابی ریلے سے قبل لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ امدادی کیمپس میں تمام ضروری اشیاءکی دستیابی یقینی بنائی جائے اور ریلیف کےمپس میں ضروری اشیاءکی قلت نہیں ہونی چاہیئے۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی وزراءآبپاشی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو قصور، اوکاڑہ اور دیگر اضلاع کے دورے کرکے صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت کیاور کہا کہ سیکرٹری آبپاشی اور ڈی جی پی ڈی ایم اے بھی موقع پر جا کر امدادی سرگرمیوں کو مانیٹر کریں جبکہ میں حفاظتی انتظامات اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کیلئے کسی بھی ضلع کا دورہ کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ سیلاب کے اندیشے کے پیش نظر عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ضروری انتظامات ہر لحاظ سے مکمل ہو نے چاہئیں ۔

وفاقی و صوبائی ادارے قریبی رابطہ رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے چوکس رہیں ۔ متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لئے کئے جانے والے انتظامات کی ذاتی مانیٹرنگ کرے ۔ پانی کی آمد واخراج کو مسلسل مانیٹر کیا جائے۔ادویات ، ویکسینیشن ،جانوروں کے لئے چارے اورونڈے کا بھی بندو بست کیا جائے ۔وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھارت نے بغیر کسی اطلاع کے دریائے ستلج میں پانی چھوڑا ہے۔ گنڈا سنگھ والا پر کل ایک لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزرنے کا امکان ہے۔ قصور سمیت دیگر اضلاع میں 81 ریلیف کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں۔اجلاس میں امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے اقدامات پر غور کیا گیا اور حفاظتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔س


ای پیپر