عتاب کا شکار اقلتیں اور مہذب دنیا
19 اگست 2019 (17:40) 2019-08-19

اعجاز احمد اعجاز

ایک انسان کا قتل تمام انسانیت کا قتل ہے۔ یہ صرف ہمارا نہیں دنیا کے ہر اس انسان کا عقیدہ ہے جس کا مذہب انسانیت ہے۔ دنیا میں ہونے والے قتل کی وارداتیں اور قاتلوں کا طریقہ واردات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کے جرم کی سنگینی اور ان کی سزا کے لئے الگ الگ معیار یا تاویلات پیش نہیں کی جا سکتیں۔ تمام انسانی جانیں یکساں طور پر قیمتی ہیں خواہ وہ عراق و شام کے فرقہ ورانہ فسادات میں مارے جانے والے ہوں یا پاکستان وافغانستان میں ڈرون حملوں سے ہلاک کئے جا نے والے بے گناہ شہری اور بچے ہوں یا برما کے ستم زدہ مسلمان۔

ہم اپنے آس پا س کے ان خونی مناظر اور وارداتوں پر نظر ڈالیں تو ان واقعات کے پیچھے کہیں کھلی دہشت گردی، انتہا پسندی اور مذہبی منافرت ہے تو کہیں بے حسی،لالچ ، خودغرضی اور حرص و ہوس کی خاطر معصوم جانوں سے کھیلنے کی مجرمانہ غفلت، یہ سارے واقعات قابل مذمت ہیں اور ان کے مرتکب احتساب اور سزا کی گرفت میں لائے جانے کے لائق ہیں۔ لیکن کیا ان سارے واقعات کو یکساں طور پر اہمیت دی جاتی ہے اور کیا ان کا ارتکاب کرنے والے کسی قانونی احتسابی شکنجے میں جکڑے جاتے ہیں اور قرار واقعی سزا پاتے ہیں۔ احتساب اور سزا پانا تو دور کی بات ہے بعض واقعات کا تسلسل اور شدت بھی عالمی ضمیر کو نہیں جھنجوڑتی، خاموش فضاﺅں میں ارتعاش پیدا نہیں کرتی یہاں تک کہ دنیا کے زیادہ تر میڈیا بھی ان پر خاموشی اختیار کیئے رہتے ہیں۔

جدید دنیا میں بھی نسل پرستی

آج کے دور کی حیران کن بات یہ ہے کہ انسان جس قدر تعلیم یافتہ ہوتا جا رہا ہے وہ دوسرے انسانوں سے ان کے جینے کا حق چھینتا جا رہا ہے۔ اگر کسی ملک میں رہنے والے چند ہزار افراد دوسری قوم سے تعلق رکھتے ہیں تو بحیثیت انسان بھی وہ انہیں قابل قبول نہیں۔ اور اکثریتی آبادی اقلیت پر حاوی رہنے کی ہر دم کوشش کرتی رہتی ہے۔ اسے اگر نسل پرستی کہا جائے تو بے جا نا ہو گا۔ نسل پرستی کا جذبہ معاشرے میں نہ تو فطری ہے اور نہ ہی مستقل یہ ایک غیر فطری تخلیق ہے۔ اس کا مقصد طبقاتی تقسیم کو مستقل طور پر قائم کرناہے۔ اس وجہ سے نسل پرستی اور پسماندگی کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔

قوموں میں نسل پرستی کو فروغ تب ملتا ہے جب سرمایہ داروں کو سستے مزدور وں کی ضرورت ہوتی ہے تاریخ میں بھی ایسا ہی ہوا، اس لئے افریقہ کے لوگ غلاموں کی شکل میں لائے جاتے تھے۔ سامراجی ممالک نو آبادےات میں سیاہ فام مزدور بڑی تعداد میں لائے ایسا کرنے سے سرمایہ داروں کو نہ صرف سستے مزدور میسر آئے بلکہ وہ مزدور کو کام کی جگہ پر تقسیم کرنے پر بھی کامیاب ہوئے۔ نسل پرستی کے فروغ سے محنت کش تقسیم ہو جاتے ہیں۔ جس سے سرمایہ داری کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو نقصان پہنچتا ہے۔ عرب ممالک میں غیر عرب مسلمان ہر قسم کے شہری حقوق سے محروم ہیں۔ امیر ممالک میں تیسری دنیا کے لوگ علیحدہ ،گندے اور سہولت سے محروم علاقوں میں رہائش پر مجبور ہیں۔

مہاجرین کے خلاف یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ ان کی وجہ سے بیروزگاری بڑھے گی۔ لوگ پہلے ہی بے روزگاری کی اذیت کا شکا ر ہیں یوں مزدور طبقے میں یہ سوچ پروان چڑھی جاتی ہے کہ اس کی غربت کی وجہ مہاجرین ہیں، نہ کہ موجود سرمایہ درانہ نظام یہ بات فراموش کر دی جاتی ہے کہ کیا مہاجرین کے آنے سے پہلے بے روزگاری اور غربت نہ تھی۔

کس ملک میں کونسا طبقہ دباﺅ کا شکار ہے

اگر ہم ان اعدادو شمار پر نظر ڈالیں تو افغانستان میں ہزارہ برادری، تاجک، پشتون دباﺅ کا شکار ہیں۔ شام میں جو قومیں سیاست کی نذر ہو رہی ہیں ان میں شعیہ برادری، کرد اور فلسطینی سرفہرست ہیں۔ یعنی دنیا کے کئی خطوں بشمول مغربی ممالک میں اقلیتوں یا چھوٹی قوموں کے ساتھ بُرا سلوک عام ہے، جیسے امریکا میں کالوں کے ساتھ ناروا رویہ رکھا جاتا ہے، لیبیا میں بھی کالوں اور مہاجرین کے ساتھ بدسلوکی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جن ممالک میں مختلف قوموں اور اقلیتوں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار نہیں کیا جا رہا ان کی تفاصیل درج ذیل ہے۔

بھارت کے مسلمان اور کشمیری عوام

بھارتی کشمیر میں صرف پچھلی تقریباً تین دہائیوں سے درجنوں ایسی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں ہزاروں بے گناہ شہریوں کو دفنایا گیا ہے۔ عالمی تنظیموں کو جب اِن خفیہ قبروں کا ادراک ہوا تو بھارتی حکومت نے یہ مو¿قف اپنایا کہ یہ وہ جنگجو ہیں جو سرحد پار پاکستان سے آئے اور ہمارے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔کشمیر میں جاری جد وجہدِ آزادی کی تحریکوں کو قیام پاکستان سے قبل کی تحریک آزادی سے مشابہت حاصل ہونا فطری بات ہے۔ 1980ءکی دہائی میں اِن تحریکوں میں مسلح جد وجہد کا عنصر بھی شدت اختیار کر گیا، جس پر بھارتی مظالم کی مزید سنگین داستانیں رقم ہوئیں۔ 2009ئ میں جب 17 اور 22 سالہ لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا اور بھارتی فوجیوں کی یہ وحشیانہ کارروائی وادی کے لوگوں کے علم میں آئی تو مقبوضہ کشمیر کے کونے کونے میں کہرام مچ گیا تھا۔ ا±ن معصوموں کی خطا صرف ایک فوجی چوکی کے پاس سے گزر جانا تھی۔ مقبوضہ کشمیر 39000 مربع میل پر پھیلا مسلم اکثریت کا حامل وہ علاقہ ہے جو برِ صغیر پاک وہند سے انگریزوں کے اخراج کے بعد سے بھارتی فوج کشی اور غضب کا شکار ہے۔ تقسیمِ ہند کے وقت جو فارمولا طے پایا تھا اُس کے مطابق مسلم آبادی والے علاقے پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں شامل کئے جانے تھے۔ اسی فارمولے کے تحت بنگال اور پنجاب کے بھی دو ٹکڑے کئے گئے۔

البتہ ریاستوں کے نوابوں اور مہاراجاو¿ں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی ملک کے ساتھ اپنی ریاست کا الحاق کر لیں۔ مسلم اکثریت کے باوجود جب جموں وکشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت میں شمولیت کی ٹھان لی تو اِس بات کا علم ہوتے ہی نہ صرف کشمیر بلکہ ا±س سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں بھی بے چینی پائی جانے لگی۔ آخرکار مہاراجہ کو ا±س کے عزائم میں ناکام کرنے کے لئے خطے کے پُرعزم حریت پسند لوگوں نے وادی کا رخ کیا۔ اور یوں باضابطہ 25 اکتوبر 47ءکو ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا، جس پر بھارت کی جانب سے فوراً فوج کشی شروع کر دی گئی۔ پاکستان کی مداخلت سے معاملہ پوری وادی پر ہندوستانی قبضہ کی صورت میں تبدیل نہ ہو پایا، اور اب بھارت نے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے نئے باب کا آغاز کر دیا ہے، اور لوگوں کو بے دردی سے موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے فلسطینی عوام

فلسطینیوں کی مشکلات سے کون واقف نہیں، اسرائیل جب چاہے ان پر مصائب کے پہاڑ گرا دیتا ہے، جب چاہے اپنی توپوں کا رخ اس مسلمان آبادی کی جانب موڑ لیتا ہے۔ جو اپنے نا کردہ گناہوں کی سزا بھگتتے چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں فلسطینی عوام خاصی مشکلات کا شکار رہی۔ ان سالوں میں 2009ءکے آخری لمحوں تک 7500فلسطینیوں سے اسرائیلی جیلیں آباد تھیں، یہ تعداد 1996ءمیں صرف 317 تھی، یہ تمام قیدی ایسے بے گناہ افراد جن کے خلاف کسی قسم کا کوئی مقدمہ نہیں۔ ا ن بے ضرر عام شہریوں کو اسرائیلی فوج نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنے کھیتوں میں ہل چلا رہے تھے۔ کچھ اپنے بچوں کے لیے راشن لینے جا رہے تھے یا محنت مزدوری کی تلاش میں سڑکیں ناپ رہے تھے۔ ان اسیروں کی بڑی تعداد کا تعلق مغربی کنارے سے ہے جو 6300 کے عدد کو چھو رہا ہے۔ اسی طرح غزہ کی پٹی، قدسی اور دیگر علاقوں کے کئی فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔ یوں اسرائیل جو درندگی اور سفاکی میں تمام ریکارڈ توڑنے کا ارادہ کئے بیٹھا ہے۔ اس نے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کئی معصوم بچوں کو بھی اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں عام قیدیوں کی طرح سخت مصیبتوں اور مشقتوں میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ ان پھول سے بچوں کے ساتھ جن کے ابھی تتلیاں پکڑنے کے دن تھے۔ ان سے اےسا برا سلوک روا رکھا جاتا ہے جس کو دیکھ کر انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔ 2000ءسے اب تک گرفتار کی گئے فلسطینیوں میں کئی خواتین بھی شامل ہیں جو جیلوں میں قید وبند کی تکالیف برداشت کر رہی ہیں۔ ان مظلوم اور پاک دامن خواتین کو شارون اور دامون کی بدنام زمانہ اسرائیلی جیلوں میں انسانیت سوز مظالم کا سامنا ہے لےکن عالمی برادری خاموش تماشائی بنی تماشہ دےکھ رہی ہے۔

تھائی لینڈ کی اسلامی اقلیتیں

تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیا کا ملک ہے، اس کے مغرب اور شمال مغرب میں برما کی ریاست ہے، شمال مشرق اور مشرق میں ”لائس“ اور کمبوڈیاکے ممالک ہیںاور جنوب میں سمندری خلیج ہے جسے ”خلیج تھائی لینڈ‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ خلیج تھائی لینڈ کے ساتھ ہی جنوبی چین کے سمندر اور پھر جزیرہ نما ملائشیا بھی واقع ہیں۔ تھائی لینڈ کا کل رقبہ دولاکھ مربع میل سے کچھ کم ہے اور یہ سارا ملک اپنی خلیج کے گرد ایک مدار کی صورت میں واقع ہے۔ کہتے ہیں کسی ملک میں جب انصاف کا توازن برقرار نہ رہے مثلاََ اقلیتیں احساس کمتری کا شکار ہو جائیں تو تشدد پسند تحریکیں جنم لیتی ہیں ایسی ہی ایک مثال تھائی لینڈ میں بھی موجود ہے۔ تھائی لینڈ کے مسلمان جنہیں مسلم تشدد پسند باغی کہا جاتا ہے، خاصا جانی و مالی نقصان کروا چکی ہے۔ تھائی لینڈ کی بیشتر آبادی بدھ مت کی پیروکار ہے لیکن جنوبی صوبوں یالا، پتن اور نراتھیوت میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ تھائی لینڈ نے اس علاقے پر 1902ءمیں قبضہ کیا تھا جس سے پہلے یہ مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا کا حصہ تھا۔ مسلم اکثریتی صوبوں کے رہنما ہمشیہ خود مختاری دینے کے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔

صومالیہ کا پورا ملک یرغمال

قدرتی گرفت میں آیا قحط زدہ ملک صومالیہ افریقہ کا مسلم اکثریت والا ملک ہے۔ نام کا مطلب دودھ سے بھرا ہوا پیالہ ہے۔ صومالیہ کے شمال مغرب میں جبوتی، جنوب مغرب میں کینیا ، شمال میں یمن، مشرق میں بحرِ ہند اور مغرب میں ایتھوپیا واقع ہیں۔ اس ملک کے چھے خطّوں میں کھانا ہی نہیں ملتا۔ قحط کی سب سے بڑی وجہ سخت خشک سالی ہے۔ صومالیہ کی عوام کو قحط کے علاوہ جس تنظیم کی وجہ سے دباﺅ میں رہنا پڑ رہا ہے وہ ’الشباب‘ ہے۔ عربی زبان میں ’الشباب‘ کا مطلب جوان افراد ہے۔ یہ گروپ 2006ءمیں غیر فعال تنظیم یونین آف اسلامک کورٹس کے سخت گیر یوتھ ونگ کے طور پر سامنے آیا تھا اور اس نے صومالیہ کی کمزور عبوری حکومت کی مدد کے لیے ملک میں آنے والی ایتھوپیائی افواج کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ الشباب اب بھی اکثر موغادیشو اور دیگر علاقوں میں خودکش حملے کرتی رہتی ہے۔ الشباب نے اپنے زیرِ اثر علاقے میں سخت گیر شرعی قوانین نافذ کیے ہیں جن میں خواتین کو بدکاری پر سنگسار کرنا اور چوروں کے ہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں شامل ہیں۔ صومالیہ ہی وہ سرزمین ہے جس نے اسلام کے پہلے مہاجرین کو اپنی آغوش میں پناہ دی۔ حبشہ کا ساحل جو آج صومالیہ کے ساحلی شہر زیلہ کا حصہ ہے، وہی مقام تھا جو جعفر طیارؓ اور ان کے انصار کی پناہ گاہ بنا۔ صومالیہ کا دارلخلافہ موگا دیشو مشرقی افریقا میں اسلام کا اہم مرکز بنا۔ مسلمان تاجروں نے موگا دیشو اور موزمبیک میں اپنی تجارتی منڈیاں قائم کیں اور اسی دور میں موزمبیک کی کانوں سے سونے کی تلاش کا کام شروع کیا گیا۔

برمی مسلمانوں، دنیا کی سب سے زیادہ ستم زدہ اقلیت

برما کے مسلمانوں کی نسل کشی اور ان کے قتل پر دنیا بھر میں قبرستان جیسی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی تنظیم کی رپورٹوں کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلم اقلیت کو تشدد کے ذریعہ بے گھر اور ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ خود اقوام متحدہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کا شمار دنیا کی سب سے بڑی ستم زدہ اقلیتوں میں ہوتا ہے جو کہ اس وقت بدترین مصائب سے گزر رہی ہے لیکن اس کے باوجود نہ تو میڈیا کی آواز تیز ہوئی ہے اور نہ ہی عالمی رد عمل میں کوئی شدت نظر آئی ہے۔ تاریخ 1941ءسے آج تک مختلف ادوار میں برما کے مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔ برما میں آٹھ لاکھ مسلمان آبادی ہے جن کی نہ جان محفوظ ہے نہ عزت نہ مال۔ اب تک ہزاروں مسلمانوں کو بدھ مت کی متشدد تنظیم ”ماگ“ موت کے گھاٹ اتار چکی ہے۔ سکیورٹی فورسز کو برمی مسلمانوں کو ٹرکوں میں بھر کے لے جاتے اور دفن کرتے ہوئے دیکھا جا چکا ہے۔ برما کی سیکورٹی فورسز گیسولین کی بوتلیں مسلمانوں کے گھروں میں پھینک کر آگ لگاتی بھی دیکھی گئی ہیں۔ مسلمانوں کے مذہبی رہنماﺅں کو مسجد سے نکال کر انہیں قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ بچوں کو جلتی میں جلانے اور عورتوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے کیسز بھی سامنے آ چکے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ نوبل پیس پرائز حاصل کرنے والی برما کی لیڈر ڈاکٹر سوچی نے بھی انتہا پسند بدھسٹ کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی کھل کر مذ مت نہیں کی۔ آج تک یہ قتل عام رکتا نظر نہیں آرہا۔

اس دل ہلادینے والی صورت حال میں مسلم دنیا بھی خاموش ہے،ہر طرف قبرستان کی سی خاموشی ہے جہاں مسلم امہ ،مسلم اخوت و اتحاد کی لاش پڑی ہوئی ہے برمی روہنگیا مسلمانوں کی کہانی تو دیوار پر لکھی جا رہی ہے کیونکہ نہ ان کے پاس آئل ہے نہ پیسہ نہ ہی اپنا کوئی وطن اور نہ ہی کوئی ایسے مانٹری بینیفٹس جو مسلم حکومتوں یا میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔

سری لنکن تامل اور مسلم

ناشپاتی شکل کا جزیرہ سری لنکا، بھارت کے جنوب مشرقی ساحل سے 31 کلومیٹر د±ور واقع ہے۔ رقبہ 65 ہزار ایک سو 60 مربع کلومیٹر، جب کہ آبادی 2 کروڑ سے زائد ہے۔ 45 فی صد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ ملک میں شرح خواندگی 91 فی صد سے زیادہ ہے۔ کولمبو دارالحکومت ہے۔ ملک میں 65 فی صد بدھ، 15 فی صد ہندو، 9 فی صد مسلمان اور 8 فی صد عیسائی ہیں۔ نسلی اعتبار سے سنہالی 74 فی صد، تامل 17 فی صد اور عربی النسل مسلمان 7 فی صد ہیں۔ سری لنکا کے مسلمانوں کے بارے میں مسلم دنیا کا عام طور پر یہ تاثر ہے کہ وہ وہاں امن وسکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کو چین، برما، بھارت، تھائی لینڈ جیسے مسائل کا سامنا نہیں ہے۔ بلاشبہہ حکومتی پالیسی میں مذہباً اور نسلاً کوئی تعصب نہیں پایا جاتا مگر سنہالی بدھ اور ہندوو¿ں نے عملاً مسلمانوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد مسلمان گھروں سے بے گھر ہوکر گزشتہ کئی برسوں سے خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔ 80ءکے عشرے میں حکومتی دستوں اورعلٰیحدگی پسندوں کے درمیان تنازعے کے آغاز کے بعد سے خونریز جھڑپوں میں ہزاروں افراد مارے گئے۔ سری لنکا کا شمالی علاقہ تامل علیحدگی پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

سری لنکا سے مسلمانوں کا تعلق پہلی صدی ہجری ہی میں قائم ہوگیا تھا اور مسلمان عربوں نے یہاں ساحل پر بستیاں قائم کیں۔ سندھ پر محمد بن قاسم کے حملے کی وجہ سری لنکا کے مسلمان ہی بنے تھے جن کے جہاز کو سندھ کے ساحل پر راجا داہر کے ڈاکوو¿ں نے لوٹ لیا تھا۔

سری لنکا کی ایک اور وجہ شہرت حضرت آدم علیہ السلام سے منسوب پاو¿ں کا ایک نشان بھی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی میں اسلام سری لنکا میں تیزی سے پھیلنے لگا۔ شروع میں وہ عورتیں مسلمان ہوئیں جنھوں نے عرب تاجروں سے شادی کی۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں برطانوی اور ولندیزی حملہ آوروں کے ذریعے ملایا اور انڈونیشیا سے بھی مسلمان یہاں لائے گئے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں ہندستان سے بھی مسلمان یہاں پر آئے۔

بھارتی گجرات کے ستم زدہ مسلمان

بھارتی گجرات کے مسلمان شہروں، قصبوں اورگاو¿ں ہر جگہ خوفزدہ رہتے ہیں۔ رفتہ رفتہ ان کی بستیاں افلاس زدہ ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ریاست میں ہندو اکثر مقامات پر مسلمانوں کو اپنی آبادیوں میں رہنے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہاں بسا اوقات ویشنو ہندو پریشد پمفلٹ جاری کرتی ہے۔ جن میں ان اشیاءاور برانڈز کے نام لیے جاتے ہیں جن کمپنیوں کے مالک مسلمان ہیں اور ہندوو¿ں سے کہا جاتا ہے کہ وہ یہ اشیاءنہ خریدیں۔ یہاں کی حکومتوں نے مسلمانوں کا امیج دہشت گردی و جرائم سے منسلک کر دیا ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گجرات میں گودھرا کے واقعے اور فسادات کو کئی برس گزر چکے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ میں بھارت نے اقتصادی سطح پر جو ترقی کی اس نے مسلسل اس تاثر کو تقویت پہنچائی کہ بھارت اب تنگ نظری و انتہا پسندی کی دلدل سے نکلتا جائے گا اور اقتصادی مجبوریاں اس کی پاو¿ں کی بیڑیاں بنیں گی۔ لیکن 2002ء کے گجرات فسادات نے ان تمام خوش فہمیوں کا خاتمہ کر دیا ۔ سرکاری سرپرستی میں ہونے والے مسلم کش گجرات فسادات اس حقیقت کا اظہار تھے کہ بھارت انتہاپسندی کے آتش فشاں پر بیٹھا ہے۔ گجرات فسادات میں حکومتی کردار اس قدر واضح تھا کہ اس سے نظریں چرانا ممکن ہی نہیں خصوصاً ریاستی وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے بیانات اس حقیقت کا کھلا اظہار تھے کہ وہ اور ان کی جماعت (بھارتیہ جنتا پارٹی) بھارت کو صرف اور صرف ایک ہندو ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ گجرات فسادات میں ڈھائی ہزار مسلمانوں کا قتل عام اور ہزاروں کے سماجی مقاطعے کے واقعات “دمکتے بھارت” کے اصل چہرے کو بے نقاب اور وہاں کے مسلمانوں کی حالت زار کو بیان کرنے کے لیے کافی تھے۔

اگر صرف ریاست گجرات کے تناظر میں بات کی جائے تو بھارت کی موجودہ اقتصادی ترقی میں ریاست گجرات بلاشبہ بہت اہمیت کی حامل ہے اور اس اہم ریاست میں ہندو انتہا پسندوں کا اثر و رسوخ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

٭٭٭


ای پیپر