مسئلہ کشمیر: حل قریب آیا کہ معاملات مزید اُلجھے؟
19 اگست 2019 (17:35) 2019-08-19

عالمی برادری کا ہمنوا بنانے کیلئے پاکستان کو مو¿ثر سفارتکاری کا سہارا لینا ہوگا

ہمایوں سلیم

الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا....ہر جگہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی جھلک نظر آتی ہے، آزادی کا جنون پالنے والے کشمریوں کو پوری وادی میں ہر پانچ قدم پر بھارتی فورسر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.... کمشیری آزادی کی خاطر اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور بھارت اپنے مظالم بڑھا رہا ہے۔ کشمیری التجا کرتے نظر آتے ہیں کہ ”پاکستانیو! یہی وقت ہے خدا کے لیے ہمارا ساتھ دو، ورنہ ہم اگلے 70سال پھر غلامی میں گزار دیں گے“ یہ صورتحال یقینا ہیبت ناک ہے، اس گھمبیر صورتحال کا اندازہ وہاں کے رہائشیوں سے زیادہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ لیکن یکدم یہ صورتحال کیسے بنی؟ اس کے لیے گزشتہ دنوں 5 اگست کو ختم کیے جانے والے آرٹیکل 370 کی تاریخ اور اہمیت پر نظر ڈالتے ہیں۔ 1947ءمیں ہندوستان کا بٹوارہ ہوا، اصول یہ طے ہوا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کے پاس جائیں گے جبکہ نواب اور مہاراجے اپنی ریاستوں کے الحاق کا معاملہ عوام کی خواہش کے مطابق خود طے کریں گے۔ تین ریاستیں ایسی تھیں جو آزاد رہنا چاہتی تھیں سو ان سے یہ فیصلہ بروقت نہ ہو سکا، جونا گڑھ، حیدرآباد اور جموں کشمیر ۔ جونا گڑھ اور حیدر آباد ہندو اکثریتی ریاستیں تھیں جن کے حکمران مسلمان تھے جبکہ کشمیر مسلم اکثریت تھی جس کا حکمران ہندو تھا، مہا راجہ ہری سنگھ۔ جونا گڑھ اور حیدر آباد کو بھارت نے اس بنیاد پر اپنا حصہ بنا لیا کہ وہ ہندو اکثریتی علاقے ہیں مگر یہ اصول جموں کشمیر پر لاگو نہیں کیا، جس کی وجہ سے کشمیر میں بغاوت پھوٹ پڑی، یہ اس لیے بھی ہوا کہ جب تقسیم کے وقت لارڈ کلف کے ذمے ہندوستان کی تقسیم کا نقشہ دیا گیا تھا۔ ان کو ہندوستان آنے کے بعد ڈائریا ہو گیا۔ طبیعت بہت خراب ہوئی۔ ان کے تیار کردہ نقشے کے مطابق گورداسپور پاکستان میں آرہا تھا۔ پنڈت نہرو کی اس زمانے میں لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی بیگم سے دوستی تھی۔ ان کے ذریعے لارڈ کلف کو پیغام بھیجا گیا کہ کشمیر جانے کے لئے چونکہ وہی راستہ ہے۔ اس لئے گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کر دو۔ قائداعظم بہت جھنجھلائے مگر لارڈ کلف نقشے میں لائن کھینچ کے واپس ہو گیا۔ قائداعظم نے تبھی غصے میں کہا تھا کہ” مجھے کٹا پھٹا پاکستان دے دیا گیا ہے“۔ ہندوستان کو کشمیر کا راستہ کیا ملا۔ راجہ کشمیر نے اپنی قومیت کی فکر کی۔ ہندوستان سے معاہدہ کر لیا اور بغاوت ہو گئی جس کی وجہ سے پاکستان سے قبائلی عوام نے کشمیر کو مہاراجہ کے چنگل سے آزاد کروانے کے لئے حملہ کر دیا، اس سے نمٹنے کے لئے ہری سنگھ نے کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ کی حمایت سے بھارت کے ساتھ الحاق کا معاہدہ کر لیا جس کے بدلے میں یہ طے پایا کہ بھارتی فوج کشمیر میں امن و امان بحال کروائے گی اور الحاق کا معاملہ بعد ازاں کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کیا جائے گا۔

اس کے بعد بھارت سلامتی کونسل میں پاکستان کے خلاف شکایت لے کر چلا گیا کہ پاکستان حملہ آواروں کی پشت پناہی کر رہا ہے، سلامتی کونسل نے کشمیر کو ”حملہ آوروں“ سے پاک کرنے کی سفارش کی اور پاکستان اور بھارت کو علاقے میں استصواب رائے کروانے کے لئے کہا تاکہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق الحاق کا معاملہ طے ہو سکے، دونوں ممالک نے یہ سفارشات قبول کر لیں۔ جواہر لعل نہرو اس وقت ہندوستان کے وزیراعظم تھے، کشمیر میں ایک آئین ساز اسمبلی وجود میں لائی گئی اور شیخ عبداللہ کشمیر کے وزیراعظم بن گئے۔ ہندوستانی نقطہ نظر سے اس سارے معاملے کو آئینی اور قانونی بنانے کے لئے طے کیا گیا کہ ہندوستانی سرکار کو کشمیر میں صرف مواصلات، دفاع اور خارجہ امور سے متعلق محدود اختیارات حاصل ہوں گے، اس غرض سے بھارتی آئین میں شق 370/35A شامل کی گئی جس کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی تاکہ کشمیریوں کا تشخص بحال رہے اور اس مسلم اکثریتی علاقے کی آبادی کو محفوظ رکھا جا سکے، اس مقصد کے لئے یہ قانون وضع کیا گیا کہ کوئی بھی غیر کشمیری ریاست جموں و کشمیر میں جائیداد خرید سکے گا اور نہ ملازمت حاصل کر سکے گا۔

یوں کشمیر کو ایک ایسی حیثیت دی گئی جو دیگر ہندوستانی صوبوں کو حاصل نہیں تھی، شق 370کے تحت یہ انتظام اُس وقت تک کے لئے تھا جب تک کشمیر کے الحاق کا معاملہ حتمی طور پر طے نہیں پا جاتا، گویا آرٹیکل 370 نے ہندوستان اور کشمیر کے باہمی تعلق کی تشریح کر دی اور ہندوستان کو ایک عارضی قانونی جواز فراہم کر دیا جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا تھا کہ پورے ہندوستان میں ایک سرکار اور ایک آئین ہونا چاہئے، سو اس مرتبہ جب اسے بھرپور اکثریت ملی تو اس نے ایک آرٹیکل 370کو اٹھا کر باہر پھینک دیا، بی جے پی کے حمایتیوں کے نزدیک یہ انقلابی اقدام ہے، جب کہ سیاسی مخالفین اسے ہندوستانی آئین پر شب خون مارنے کے مترادف کہہ رہے۔

لہٰذااس قانون کے خاتمے کے بعد کشمیر میں موجودہ صورت حال سب کے سامنے ہے، ہو گا کچھ یوں کہ فلسطین کی طرح سب سے پہلے وہاں کے رہائشیوں کی زندگی اجیرن بنائی جائے گی، پھر مسلمانوں کے گھروں کو ایک خاص مہم کے ذریعے خریدا جائے گا، اس مہم کے تحت مسلمان رہائشیوں کو اُن کی رہائش گاہ کے منہ مانگے دام دیے جائیں گے اور اس طرح مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے گا۔ خیر ایسے حالات میںبرا بھلا کہنے سے کیا ہوتا ہے؟ کیا حقیقتیں بدل جاتی ہیں؟ بی جے پی حکومت نے جو کرنا تھا، اور جو بہت دیر سے وہ کرنا چاہتی تھی، وہ کر دیا۔ بات تو ہم پر آجاتی ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔ انہوں نے کشمیر کی تاریخ بدل ڈالی ہے۔ ہمارا جواب کیا ہونا چاہیے اورکیا ہو سکتا ہے؟ کشمیر پہ قبضہ تو اُن کا تھا اور اِس ضمن میں ہمیں ماننا چاہیے کہ بہت سی کوتاہیاں ہم سے ہوئیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں بعد کی باتیں ہیں۔ وہ قراردادیں بھی اس لئے پاس ہوئیں کہ ہندوستان کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ لے گئے تھے۔ قراردادوں میں ضرور کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کشمیری عوام کی رائے پوچھی جانی چاہیے لیکن زمینی حقائق کی اور صورت ہوتی ہے اور کاغذ پہ تحریر شدہ قراردادوں کی کچھ اور۔ وقت گزرنے سے وہ خود ’جو مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گئے تھے‘ اپنی ہی قراردادوں سے منحرف ہو گئے۔ تب سے لے کر آج تک ہم اُس انحراف کو کوس رہے ہیں لیکن صرف کوسنے سے کبھی کام بناہے؟

کام ہمیشہ کچھ کرنے سے بنتا ہے، آپ عدالتوں میں اگر کوئی کیس جیتتے ہیں تو وہ مظلومیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ برابری کی بنیاد پر جیتتے ہیں، یہ آپ کو معمولی سے معمولی کسان بتا سکتا ہے کہ زمین کا قبضہ جو ہاتھ سے نکل جائے وہ عدالتی کارروائیوں سے شاذوناظر ہی واپس آتا ہے۔ آپ چیختے چلاتے رہیں، لاکھ کہیں کہ زمین کسی بیوہ یا یتیموں کی تھی، قبضہ چلا جائے تو واپس اُسی طریقے سے آتا ہے جس طریقے سے منہ زوروں کے ہاتھوں چلا گیا تھا۔ لہٰذا اگر بات معاہدوں کی کی جائے تو معاہدے کاغذ کے ٹکڑے ہی ہوتے ہیں۔ فی الوقت بھارت نے ہمیں امتحان میں ڈال دیا ہے۔ ہم اِس کا جواب کیا دیں گے؟ ایک تو شملہ معاہدہ اب پھاڑ دینا چاہیے۔ شملہ معاہدے میں ہم نے اقرار کیا تھا کہ ہمارے معاملات دو طرفہ مذاکرات کے دائرے میں رہیں گے، یعنی ہم کسی بین الاقوامی فورم میں ان معاملات کو نہیں لے جائیں گے۔

آج صورت حال یہ ہے کہ شملہ معاہدے کی رو سے اقوام متحدہ کی قراردادیں بے اَثر ہو گئی تھیں۔ شملہ معاہدے کے بعد سترہ سال تک ہم نے کشمیر کی کبھی بات نہ کی۔ وہ تو ایسے لگتاتھا کہ کشمیر کا ذکر ہم نے اپنے حافظے سے نکال دیاہے۔ یہ تو کشمیریوں کی اپنی ہمت ہے کہ وہ کبھی برہان وانی کی شکل میں تو کبھی مقبول بٹ کی شکل میں اس تحریک کو زندہ کیے ہوئے ہیں لہٰذامسئلہ کشمیر کا حل نکالے بغیر دونوں ملک کیا یہ پورا خطہ چین کی نیند نہیں سو سکتا۔ پاکستان کو کچھ تو کرنا چاہیے۔ چلیں! پاکستان کم از کم برابری کی سطح پر تو بات کرے، میرے خیال میں تو اب یہ فضول کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں کہ ہم ہندوستان کو امن کی پیشکشیں کرتے رہیں۔ حافظ سعید کو گرفتار کر لیں، سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے لیے اُسے ووٹ دے دے کر خوش کرتے رہیں، مودی کی سلامتی اور الیکشن میں جیت کے لیے دُعائیں کرتے رہیں .... قوم کو یا کشمیریوں کو فی الوقت یکطرفہ پیار کی ضرورت نہیں، قوم کو بس اس سے لگاﺅ ہے کہ کیا پاکستان بھی اس حوالے سے کچھ کرے گا یا نہیں! حد تو یہ ہے کہ جب حال ہی میں ہم نے بھارت کی ائیر لائن بند کر دی تھی، تو اُس نے منتیں کر کے بحال کر والی، جب ابھی نندن ہمارے پاس تھا تو وہ بھارت نے اگلے ہی دن ہم سے لے لیا، یعنی جب وہ مشکل میں ہوتا ہے تو اُلٹے پاﺅں ہمارے پاس آتا ہے لیکن جب اُسے اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے تو پاکستان کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ اور ہاں اس میں ہمارا اپنا بھی قصور ہے کہ ہم دنیا کے دباﺅ میں بہت جلد آجاتے ہیں، ہم نے کبھی کوئی ایسی کمیٹی یا ٹیم نہیں بنائی جو دوست ممالک میں جا کر بھارتی اوچھے ہتھکنڈوں اور کشمیریوں پر ظلم کی داستانیں بیان کرے۔ ہم یو اے ای ، سعودی عرب، ملائشیا، اندونیشیا جیسے بڑے اسلامی ملکوں میں جہاں اُن ممالک کا اربوں ڈالر کا بزنس ہے، کو آج تک اعتماد میں نہیں لے سکے۔ جبکہ بھارت ہمیں پوری دنیا میں گندہ کرتا ہے، لیکن بدلے میں ہم سابقہ حکمرانوں کی طرح آئیں بائیں شائیں ہی مار رہے ہیں۔ لہٰذاہمیں خارجہ امور کے لیے انقلابی تبدیلیاں لانا پڑیں گے، اچھے لوگ لانے پڑیں گے، اور معذرت کے ساتھ نام نہاد ” کشمیر کمیٹی“ کو تحلیل کر کے اُس میں اعلیٰ الذہن لوگ لانے چاہیئں تاکہ اُس کمیٹی کا اپنا امیج بہتر ہو سکے۔ فی الحال ہم اس مقدمے کے مدعی ہیں، جو کرنا ہے ہم نے کرنا ہے کسی اقوام متحدہ، کسی او آئی سی، کسی ترکی کسی ملائیشیا کسی ادار ے نے کچھ نہیں کرنا۔ آج ہمارا وہی فرض بنتا ہے جو کمزور ہونے کے باوجود قائداعظم نے نبھایا تھا سو کیا ہم جناح کی تقلید کر پائیں گے؟ ہاں البتہ فوری طور پر پاکستان نے بھارت سے تعلقات کو جزوی طور پر ختم کرنے، تجارت منسوخ کرنے جیسے اچھے اقدام کیے ہیں مگر میرے خیال میں یہ ناکافی ہیںکیوں کہ فیصلے کی گھڑی قریب لگ رہی ہے!

جہاں تک مودی سرکار کے عزائم کا تعلق ہے تو اگست 2018ءمیں حلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو بارہا مذکرات کی پیش کش کی لیکن مودی مذاکرات تو درکنار فون اٹھانے کا بھی روادار نہ ہوا جس کی وجہ بھارت میں ہونے والے انتخابات تھے، مودی نے بی جے پی کی جیت کے لئے وہاں باقاعدہ جنگی جنون پیدا کیا، مودی نے اپنی الیکشن مہم میں کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کے بعد بھی اس نے کسی طرح مذاکرات کے لئے آمادگی ظاہر نہیں کی، وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورئہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا جواب مودی سرکار نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کر کے دیا۔ جہاں یہ بھارتی جنون بہتر برسوں سے جاری کشمیریوں کی قربانیوں اور جدوجہد کے لئے بہت بڑا صدمہ ہے وہیں پاکستان کے عوام یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دورہ¿ امریکہ کو ورلڈکپ کی جیت سے تعبیر کرنے والے وزیراعظم عمران خان کیا واقعی مودی کے عزائم سے بے خبر تھے؟ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق تو پاکستان کو کافی عرصے سے انتہا پسند مودی کے مذموم ارادوں کی بھنک پڑ چکی تھی اور اس نے اقوام متحدہ کو بروقت آگاہ کر کے کردار ادا کرنے کی درخواست بھی کر دی تھی۔ پاکستانی عوام ایک صدمے کی کیفیت میں ہیں اور وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ بہتر برسوں کی کشمیر پالیسی چند دنوں میں اتنی بڑی ناکامی سے کیسے دوچار ہوگئی۔ بھارتی ہائی کمشنر کو واپس بھیجنے اور دو طرفہ تجارت معطل کرنے سمیت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے یقیناً حوصلہ افزا اور بالخصوص کشمیریوں کے لئے امید کی کرن ہیں لیکن پاکستان کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بد ترین مظالم ڈھائے جانے اور سات دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود دنیا کا ضمیر نہیں جاگا۔ پاکستان کو عالمی دنیا بالخصوص چین اور روس کو اپنے مو¿قف کا ہمنوا بنانے کے لئے تمام تر چینلز کو تندہی سے بروئے کار لانا چاہئے اور ٹرمپ کو بھی باور کرانا چاہئے کہ پاکستان کے پاس افغانستان کی صورت میں ٹرمپ کارڈ اب بھی موجود ہے، کیونکہ اس طرح بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے آگے بند باندھا جا سکتا ہے!

٭٭٭


ای پیپر