حکومت تاجر کشمکش، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟
19 اگست 2019 (17:31) 2019-08-19

تاجر برادری کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ ٹیکس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا جبکہ حکومت کو ایسی پالیسی واضع کرنی چاہئے جس جے تحت ٹیکس نیٹ کو مرحلہ وار بڑھایا جائے.

حافظ طارق عزیز

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ٹیکس دینے کے حوالے سے کوئی اچھی شہرت نہیں رکھتے۔ حالانکہ ترقی یافتہ ممالک کے عوام نہ صرف ٹیکس دیتے بلکہ اس عمل پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے جو نا جانے کب درست سمت اختیار کرے گی۔ ہمارے اس طرز عمل کی وجہ جہاں ہماری کم علمی ہے، وہیں حکمرانوں کا طرزِعمل بھی ہے جس کی وجہ سے ان سے مطمئن نہیں۔ آپ یقین کریں ان ممالک میں ٹیکس دینے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے جہاں عوام کا اقتدار میں بیٹھے لوگوں پر اعتماد ہوتا ہے کہ وہ ٹیکس ایمانداری سے اکٹھا کریں گے اور شفاف طریقہ سے خرچ کریں گے۔ مگرجب عوام کو معلوم ہو کہ حاکمانِ وقت ان کے ٹیکس سے اپنے اللے تللے پورے کریں گے۔ کیونکہ یہ ان حکمرانوں ہی کی وجہ سے ہے کہ اس ملک میں بچہ پیدا ہو کر بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس دوران اس کے تمام اخراجات اس کے ماں باپ یا اسے خود برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عام آدمی کا کتنا ٹیکس دینے کو جی چاہے گا؟گو کہ ہمارے ہاں ہر شہری تو کسی نہ کسی صورت میں ٹیکس دیتا ہے لیکن ایک خاص اور مراعات یافتہ طبقہ اس ضمن میں ہمیشہ سے ہی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتا آ رہا ہے۔ ہر حکومت اس طبقے سے ٹیکس وصول کرنے کی بات تو کرتی ہے لیکن اسے ان طاقتور لوگوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنا پڑ جاتے ہیں۔ تاہم موجودہ حکومت اس معاملے سابقہ حکومتوں کی نسبت قدرے زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔

پچھلے کچھ ہفتوں سے تاجروں اور حکومت کے درمیان ایک بار کشمکش کا سلسلہ جاری ہے، حکومت چاہتی ہے کہ تاجر برادری مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں آئے اور پوری ایمانداری سے ٹیکس ادا کرے جب کہ تاجر نہ تو پورا ٹیکس دینے کو تیار ہیں اور نہ ہی سسٹم میں آنے پر رضا مند ہیں۔ آخر تاجروں کو ٹیکس دینے مسئلہ کیا ہے؟ اس سوال کو سمجھنے کے لیے ایک چھوٹی سی مثال کی مدد لیتے ہیںکہ گزشتہ سال صنعتکاروں کے دیے گئے سیلز ٹیکس کے مطابق 80 لاکھ ٹن چینی پیدا ہوئی، جبکہ دکانداروں کے جمع شدہ گوشواروں کے مطابق انہوں نے صرف 10ہزار ٹن چینی بیچی۔ باقی کی 79 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی کہاں گئی؟اسی طرح کم وبیش1.3کروڑ ٹن سریا ملوں میں بنایا گیا، جبکہ تاجروں نے گوشواروںکے مطابق محض 18لاکھ ٹن سریا فروخت کیا یہی حال دیگر پروڈکشنز کا ہے۔ اب سرکار چاہتی ہے کہ کوئی بھی مل اس وقت تک تاجروں کو مال نہ بیچے جب تک کہ وہ اس کا اندراج اپنے سرکاری کھاتے میں نہیں کرتے۔ ایسا کرنے سے ناصرف یہ کہ ان تاجروں کا پورا ریکارڈ سرکار کے پاس آجائے گا بلکہ یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے اب تک کتنی ٹیکس چوری کی ہے۔

ایسا کیوں ہوتا رہا؟ یا ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جس طرح دوسرے شعبے سیاست میں آلودہ ہوئے، تاجر طبقہ بھی سیاست زدہ ہوتا گیا ہے۔ چند سال قبل تو تاجروں نے ایسی ہڑتالیں کیں کہ اس وقت کی حکومتیں ٹیکس لینے سے تائب ہو گئی تھیں۔ ریاست جب یہ باور کراتی ہے کہ انہیںتمام سہولیات فراہم کرے گی تو استفادہ کے لیے تاجر طبقے کو ٹیکس دینا ہو گا اور اپنے لین دین کے معاملات کو ریکارڈ پر لانا ہو گا۔ ریاستی اقدامات پر تاجر حضرات احتجاج اور ہڑتال کی دھمکی دینے لگتے ہیں۔ شروع میں صرف تاجر مارکیٹوں کی تالا بندی کرتے ہیں پھر اپوزیشن جماعتیں ان کے ساتھ شریک ہو کر معاملات کو خراب کرتی ہیں۔ اپوزیشن کا ہدف حکومت گرانا ہے، آج کی اپوزیشن کل کی حکمران پارٹیوں کی ترجیح کبھی عوام نہیں رہے ہیں، انہوں نے عوام کو ہمیشہ کبھی اقتدار حاصل کرنے اور کبھی اقتدار بچانے کیلئے استعمال کیا ہے، موجودہ بدحال معیشت ماضی کے حکمرانوں کا دیا تحفہ ہے جسے موجودہ حکومت ماتھے پر سجائے در بدر گھوم رہی ہے۔

بہرحال بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار طبقے نے اٹھا رکھا ہے۔ کاروباری طبقہ کی آمدن اور رقوم کی منتقلی کا حجم تنخواہ دار افراد سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔ لاکھوں ایسے تاجر، ڈیلر اور کارخانہ دار ہیں جو اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ یہ لوگ سرکاری اہلکاروں کو رشوت دے کر خود کو ٹیکس سے بچا لیتے ہیں، وہ ٹیکس دینے کی بجائے رشوت دینا پسند کرتے ہیں۔ اگر رشوت خور اہلکاروں کو رقم دینے کی بجائے ریاست کے خزانے میں جمع کرا دی جائے تو پاکستان کی مالیاتی مشکلات میں کمی آ سکتی ہے۔ پاکستانی عوام کو صاف پانی، روزگار، ہسپتال اور تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے، بے گھر افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، ملک میں کھیلوں اور تفریح کی سہولیات موجود نہیں۔ سڑکوں، پلوں اور اچھی ٹرانسپورٹ درکار ہے، بزرگ شہریوں اور بے سہارا خواتین کی بہبود کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ان تمام کاموں کے لیے مالی وسائل چاہئیں۔ ماضی کے حکمرانوں نے برسہا برس قرض لے کر عوام کو خوشحال معیشت کا دھوکہ دیا ، اب قرض خواہوں کی شرائط ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی ہیں۔ تحریک انصاف حکومت کے بظاہر موجودہ اقدامات سخت اور عوام کے منشا کے مطابق نہیں، مگرآئندہ آنے والے وقت میں نتائج حوصلہ افزا ہوں گے،کیونکہ عوام کو کسی حد تک وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد ہے۔ ملکی مفاد میں موجودہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ تاجرو کاروباری طبقات اپنا رویہ تبدیل کریں۔

اب عام لوگوں کے ذہن میں ایک سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ حکومت تاجروں کے ساتھ زیادہ سختی کیوں کر رہی ہے؟ آہستہ آہستہ انہیں سسٹم میں لے کر آئے وغیرہ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو اسے 95ارب ڈالر کا قرض وراثت میں ملا، زرمبادلہ کے ذخائر کا بڑا حصہ درآمداتی بل ادا کرنے اور قرضوں کی واپسی پر اٹھ جاتا ہے۔ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے، روپے کی قدر میں کمی کہیں رک نہیں رہی، سٹاک مارکیٹ کی حالت ابتر ہے۔ اس معاشی صورت حال کے ساتھ جب عالمی مالیاتی اداروں سے مدد کی درخواست کریں گے تو وہ ہمارے نظام کا جائزہ لے کر اصلاحات کی سفارش کرتے ہیں۔ گزشتہ تیس سال سے عالمی ادارے سفارش کر رہے ہیں کہ مقامی کاروباروں کو دستاویزی بنایا جائے، اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ مارکیٹ میں کاروباری سرمائے کی گردش و منتقلی حکومت کی نظر میں رہے گی اور رقوم کے حجم کے لحاظ سے ٹیکس محاصل کا تعین آسان رہے گا، جبکہ ہمارے عوام ا ور کاروباری طبقہ شروع سے ٹیکس ورجسٹریشن کے عادی نہیں ہیں۔کاروباری طبقہ اب تک ہڑتالوں اور احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات منواتا آیا ہے، اور اب بھی ایسا ہی کر رہا ہے۔

سمجھ سے یہ بات با ہر ہے کہ لاہور کی مصروف ترین مارکیٹوں کا حال یہ ہے کہ یہ لوگ سال میں چند ہزار ٹیکس دے کر بھی حکومت پر احسان کرتے ہیں حالانکہ ان کی روزانہ کی آمدن ہزاروں روپے ہوتی ہے، سالانہ اتنا ٹیکس بھی نہیں دیتے جتنا شائد یہ ایک دن میں بزنس کر لیتے ہیں۔ ملازم پیشہ شہری اگر سال میں چھ لاکھ سے ایک روپیہ بھی زائد کماتا ہے تو اس کا ٹیکس از خود کٹ جاتا ہے لیکن جو تاجر کروڑوں روپوں کے گھروں میں رہتے ہیں، لاکھوں کی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، بیرون ملک سیر و تفریح کرنے جاتے ہیں ٹیکس نہیں دینا چاہتے۔

بہرکیف کوئی ایک ملک ایسا ، اس دنیا کے نقشے پردکھا دیجیے جس میں ٹیکس چوری کیا جا رہا ہو۔ قانون کو پاﺅں کے نیچے روندا جا رہا ہو‘ حکمرانوں کے اثاثے ملک سے باہر ہوں۔ سمگلنگ زوروں پر ہو اور اسے ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہو؟ یہ ملک ایک عرصہ سے وینٹی لیٹر پر ہے۔ موٹا تازہ فربہی کے شکار۔ قرضوں پر چلنے والا ٹیکس چوروں سے بھرا ہوا۔ ہمارے سابق حکمرانوں میں کئی ایسے ہیں جن کے کارخانے، رہائش گاہیں، محلات، کاروبار، کمپنیاں یہاں تک کہ اولاد بھی ملک سے باہر! بھارت سے لے کر سنگا پور اور کوریا تک۔ کینیڈا سے لے کر نیوزی لینڈ تک۔ کس ملک کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے اثاثے بیرون ملک ہیں؟ کس ملک میں ٹیکس چوروں کا معیشت پر قبضہ ہے؟ محدود وژن! دور اندیشی سے عاری! سوچنے کا کام معدے سے لینے والے حکمران! بیٹیوں کو شہزادیاں اور بیٹوں کو ولی عہد بنانے والے حکمران! کیا جانیں کے عوام کے مسائل کیا ہیں؟

لہٰذاتاجر برادری کو اس ملک و قوم کی خاطر ٹیکس دینے کی طرف آنا ہو گا، اگر کوئی تاجر برادری ٹیکس دینا چاہتی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے، بھارت کو آپ لاکھ برا کہیں مگر وہاں ایک سسٹم ہے، کوئی تاجر اس سسٹم سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اسی لیے وہاں تمام شہریوں کو پروموٹ کیا جاتا ہے ہندوستان میں سالانہ بنیادوں پر ایک سے دو نئے ارب پتی افراد کا اضافہ ہو رہا ہے اور یہ ان کی کامیابی ہے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے ہیںتبھی اُن کی معیشت دنیا کی مضبوط معیشت میں گنی جاتی ہیں اور ہماری ناکامی ہے کہ ہم ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ہم نے کرناکیاہے؟ہم نے بطور قوم یہ سوچنا ہے کہ ہم نے ٹیکس اداکرنا ہے یا نہیں؟دنیا میں کسی بھی ملک کی معشیت بغیر ٹیکس دیے نہیں چل رہی۔ ٹیکس دینا اور اکٹھا کرنا مجبور ی ہے اور یہ بات ضروری ہے کہ ہمیں حکومت کی جانب سے عائد ٹیکس ادا کرنے چاہیئں۔ دوسری طرف حکومت کو بھی چاہیے کہ عوام پر غیر ضروری ٹیکس لگانے سے گریز کرے۔ سرکاری محکموں پر عوام کا اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے۔ آپ کسی کاروباری شخص سے بات کر کے دیکھ لیں اس کو اس کاٹیکس کلیم نہیں دیا جاتا ہے۔کاروباری حضرات کا ٹیکس کے اداروں پر بھروسے اور اعتماد کا فقدان ہے۔ اس لیے لوگ بھاگتے ہیں تاکہ ان پر ٹیکس نہ لگے اور وہ ٹیکس سے بچ سکیں۔ اگر حکومت عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائے، ان کا دیا گیا ٹیکس ایمانداری سے اکٹھا کیا جائے اور اسے جائز مقام پر عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کیا جائے تو یقینا عوام ٹیکس اداکرنے کے لیے رضا مند ہو جائیں گے۔ دوسرے نمبر پر یہ عوام کو یقین ہو کہ ان کا ٹیکس کی صورت میں دیا گیا پیسہ حکمرانوں اور بیوروکریٹ کی عیاشیوں پر استعمال نہیں ہو گا۔ پھر شاید ہی کوئی پاکستانی ہو جو ٹیکس دینے سے انکاری ہو۔ بہرحال ٹیکس نظام کے اندر کمزوری دونوں اطراف سے ہے۔ حکومت کو اپنی کارکردگی بہتر بنا کر عوام کا اعتماد بحال کرنا ہو گا اور عوام کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ٹیکس دیے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں۔ اگر ہم نے ملک کو معیشت کے میدان میں ترقی کرتے دیکھنا ہے تو ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔


ای پیپر