حضرت طلحہؓ بن عبید اللہ
19 اگست 2019 (17:27) 2019-08-19

آپؓ معرکہ¿ اُحد میں رسول اللہ ﷺ کے لیے ڈھال بن کر کھڑے رہے

حافظ محمد عمر:

آپؓ کا نام طلحہ بن عبیداللہ، ابومحمد کنیت، فیاض اور خیرلقب، آپؓ کے والد کا نام عبیداللہ اور والدہ کا نام صعبہ تھا۔ آپؓ اسلام قبول کرنے والے پہلے آٹھ افراد میں سے ایک ہیں۔ آپؓ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔ غزوہ احد اور جنگ جمل میں آپؓ کا خاص کردار رہا۔ آپؓ کا پورا سلسلہ نسب یہ ہے، طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی ابن غالب القرشی التیمی، چونکہ مرہ بن کعب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجداد میں سے ہیں اس لیے حضرت طلحہؓ کا نسب چھٹی ساتویں پشت میں حضرت سرورکائنات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مل جاتا ہے۔

قبول اسلام

جب آپؓ کی عمر غالباً سترہ یا اٹھارہ برس تھی، آپؓ تجارتی غرض سے بصرہ تشریف لے گئے، وہاں ایک راہب نے حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبعوث ہونے کی بشارت دی، لیکن یوم ولادت سے اس وقت تک جس قسم کی آب وہوا میں پرورش پائی تھی اورگردوپیش جس قسم کے مذہبی چرچے تھے اس کا اثر صرف ایک راہب کی پیشن گوئی سے زائل نہیں ہو سکتا تھا، بلکہ ابھی مزید تعلیم وتلقین کی ضرورت تھی، جب آپؓ مکہ مکرمہ واپس آئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صحبت اور آپؓ کے مخلصانہ وعظ وپند نے تمام شکوک رفع کر دیے، چنانچہ ایک روز صدیق اکبرؓ کی وساطت سے دربار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئے اور خلعت ایمان سے مشرف ہو کر واپس آئے۔ اس طرح طلحہؓ ان آٹھ آدمیوں میں سے ہیں جو ابتدا ہی میں اسلام کی روشنی سے ہدایت یاب ہوئے اور آخرکار آسمان اسلام کے روشن ستارے بن کر چمکے۔ اسلام لانے کے بعد حضرت طلحہؓ بھی عام مسلمانوں کی طرح کفار کے ظلم وستم سے محفوظ نہ رہے، عثمان بن عبیداللہ جو نہایت سخت مزاج اور طلحہ ؓکا حقیقی بھائی تھا، نے آپؓ کو اور حضرت ابوبکرصدیقؓ کو ایک ہی رسی میں باندھ کر مارا کہ اس تشدد سے اپنے نئے مذہب کو ترک کر دیں، لیکن توحید کا نشہ ایسا نہ تھا جو چڑھ کر اُترجاتا۔

ہجرت

حضرت طلحہؓ نے مکہ مکرمہ میں نہایت خاموش زندگی بسر کی اور اپنے تجارتی مشاغل میں مصروف رہے، چنانچہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابوبکرصدیقؓ کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لے جا رہے تھے، اس وقت آپؓ اپنے تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے واپس آ رہے تھے، راہ میں ملاقات ہوئی، آپؓ نے رسول کریمﷺ اور حضرت ابوبکرصدیقؓ کی خدمت میں کچھ شامی کپڑے پیش کیے اور عرض کیا کہ اہل مدینہ نہایت بے چینی اور اضطراب کے ساتھ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت عجلت کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھے اور حضرت طلحہؓ نے مکہ پہنچ کر اپنے تجارتی کاروبار سے فراغت حاصل کی اور حضرت ابوبکرصدیقؓ کے اہل وعیال کو لے کر مدینہ منورہ پہنچے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب انصاری ؓسے آپؓ کا بھائی چارہ کرا دیا۔

غزوات میں شرکت

جنگ بدرکے موقع پر حضرت طلحہؓ کسی خاص مہم پر مامور ہو کر ملک شام تشریف لے گئے تھے، واپس آئے تو دربارِ رسالت میں حاضر ہو کر غزوہ بدر کے مالِ غنیمت میں سے اپنے حصے کی درخواست کی، سرورکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت میں سے حصہ دیا اور فرمایا کہ تم جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہیں رہو گے۔

غزوہ احد

غزوہ احد میں ایک مقام ایسا بھی آیا جب مسلمانوں کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی۔ حضرت طلحہؓ نے ادھر نظر ڈالی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے۔ دیکھاکہ آپﷺ شرک وکفر کی قوتوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ حضرت طلحہؓ تیزی سے رسول اللہ ﷺ کی جانب چلے اور اس فاصلے کو عبور کرنے لگے۔ ایک ایسا فاصلہ جس میں دسیوں زہرآلود تلواریں اور جنون زدہ نیزے لہرا رہے تھے۔ حضرت طلحہؓ نے دُور سے دیکھا کہ رسول اللہﷺ کے رُخسارمبارک سے لہو بہہ رہا ہے اور آپﷺ سخت تکلیف میں ہیں۔ یہ صورتحال حضرت طلحہؓ کو کھا گئی اور آپؓ نے ہولناک فاصلے کو چند چھلانگوں میں ہی طے کر ڈالا جبکہ مشرکین کی چھائیں چھائیں کرتی تلواریں رسول اللہ ﷺ کو حصار میں لیے ہوئے تھیں اور آپ کو کاری ضرب لگانا چاہتی تھیں۔

حضرت طلحہؓ اس خوفناک صورتحال میں رسول اللہ ﷺ کے لیے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔ آپؓ اپنے دائیں بائیں بوٹیاں اڑانے والی تلوار کے وار کر رہے تھے۔ آپؓ نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا خون بہہ رہا ہے اور آپ کی تکلیف بڑھ رہی ہے تو آپؓ نے آپﷺ کو سہارا دیا اور اس گڑھے سے باہر نکالا جس میں آپﷺ کا پاﺅں پھسل گیا تھا۔ آپؓ اپنے بائیں ہاتھ اور سینے سے رسول اللہﷺ کو سہارا دیے ہوئے تھے اور محفوظ مقام پر لے جا رہے تھے، ساتھ ساتھ اپنے دائیں ہاتھ سے تلوار بھی چلا رہے تھے اور ان مشرکوں سے لڑرہے تھے جو رسول اللہ ﷺ کو گھیرے ہوئے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ”جب احد کے روز کا ذکر کیا جاتا تو حضرت ابوبکرصدیقؓ فرمایا کرتے تھے یہ دن تو سارے کا سارا طلحہؓ کا تھا۔ میں پہلا شخص تھا جو نبی کے پاس آیا تو آپ نے مجھے اور ابوعبیدہؓ بن جراح سے فرمایا: ”اپنے بھائی کی حالت کو دیکھو! ہم نے دیکھا تو طلحہؓ کے جسم پر نیزے، تلوار اور تیر کے 80 کے قریب زخم تھے۔ان کی ایک انگلی بھی کٹ گئی تھی، پھر ہم نے ان کی مرہم پٹی کی۔“

آپؓ نے غزوہ احد میں فدویت جان نثاری اور شجاعت کے جو بے مثل جوہر دکھائے یقینا تمام اقوامِ عالم کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے، تمام بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا، حضرت ابوبکرصدیقؓ نے ان کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم شمار کیے تھے۔ دربار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی جان بازی کے صلہ میں ”خیر“ کا لقب مرحمت ہوا، صحابہؓ کو واقعہ احد میں آپؓ کی اس غیرمعمولی شجاعت اور جانبازی کا دل سے اعتراف تھا، حضرت ابوبکرصدیقؓ غزوہ احد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ یہ طلحہؓ کا مخصوص دن تھا، حضرت عمرفاروقؓ آپؓ کو صاحبِِ احد فرمایا کرتے تھے، خود حضرت طلحہؓ کو بھی اس پُرفخر کارنامہ پر بڑا ناز تھا اور ہمیشہ لطف وانبساط کے ساتھ اس کا تذکرہ فرمایا کرتے تھے۔

متفرق غزوات

غزوہ احد کے بعد فتح مکہ تک جس قدر غزوات ہوئے، حضرت طلحہؓ سب میں نمایاں طور پر شریک رہے، بیعتِ رضوان کے وقت بھی موجود تھے اور شرف بیعت سے مشرف ہوئے۔ فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین آیا، اس معرکہ میں بھی غزوہ احد کی طرح پہلے مسلمانوں کے پاو¿ں اکھڑ گئے، لیکن چند بہادر اور ثابت قدم مجاہدین کے استقلال وثبات نے پھر اس کو سنبھال لیا اور اس طرح جم کر لڑے کہ غنیم کی فتح شکست سے بدل گئی۔ حضرت طلحہؓ اس جنگ میں بھی ثابت قدم اصحابؓ کی صف میں تھے۔ 9ہجری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ملی کہ قیصرروم بڑے سازوسامان کے ساتھ عرب پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو تیاری کا حکم دیا اور جنگی اسباب وسامان کے لیے مال وزر صدقہ کرنے کی ترغیب دی، حضرت طلحہؓ نے اس موقع پر ایک بیش قراررقم پیش کی اور بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فیاض کا لقب حاصل کیا۔

شہادت

حضرت طلحہؓ نے باسٹھ یا چونسٹھ برس کی عمر میں ذی وقار شہادت حاصل کی۔

اخلاق وعادات

حضرت طلحہؓ اقلیم سخاوت کے بادشاہ تھے، فقراءومساکین کے لیے آپؓ کا دروازہ کھلا رہتا تھا، قیس ابن ابی حازم کا بیان ہے کہ میں نے طلحہؓ سے زیادہ کسی کو بے طلب کی بخشش میں پیش پیش نہ دیکھا۔ طلحہؓ بنوتیم کے تمام محتاج وتنگدست خاندانوں کی کفالت کرتے تھے، لڑکیوں اور بیوہ عورتوں کی شادی کر دیتے تھے، جو لوگ مقروض تھے ان کا قرض ادا کر دیتے تھے، چنانچہ صبیحہ تیمی پر تیس ہزار درہم قرض تھا، وہ سب آپؓ نے اپنے پاس سے ادا کردیا، آپؓ کو اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بھی خاص عقیدت تھی اور ہر سال دس ہزار درہم پیش خدمت کرتے تھے۔ مہمان نوازی حضرت طلحہؓ کا خاص شیوہ تھا، ایک دفعہ بنی عذرہ کے تین آدمی مدینہ منورہ آکر مشرف بہ اسلام ہوئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کون ان کی کفالت کا ذمہ لیتا ہے؟ حضرت طلحہؓ نے کھڑے ہوکر عرض کیا ”میں یارسول اللہﷺ!“ اور تینوں نومسلم مہمانوں کو خوشی خوشی گھر لے آئے، ان میں سے دو نے یکے بعد دیگرے مختلف غزوات میں شہادت حاصل کی اور تیسرے نے بھی ایک مدت کے بعد حضرت طلحہؓ کے مکان میں وفات پائی۔ آپؓ کو اپنے مہمانوں سے جو اُنس پیدا ہو گیا تھا، اس کا اثر یہ تھا کہ ہر وقت ان کی یاد تازہ رہتی تھی اور رات کے وقت خواب میں بھی ان ہی کا جلوہ نظرآتا تھا، ایک روز خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے تینوں مہمانوں کے ساتھ جنت کے دروازہ پر کھڑے ہیں، لیکن جو سب سے پیچھے مرا تھا وہ سب سے آگے ہے اور جو سب سے پہلے شہید ہوا تھا وہ سب سے پیچھے ہے، حضرت طلحہؓ کو اس تقدم وتاخر پر سخت تعجب ہوا، صبح کے وقت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خواب کا واقعہ بیان کیا تو ارشاد ہوا، اس میں تعجب کی کیا بات ہے، جو زیادہ دنوں تک زندہ رہا اس کو عبادت ونیکوکاری کا زیادہ موقع ملا، اس لیے وہ جنت کے داخلہ میں اپنے ساتھیوں سے پیش تھا۔ (مسندابن حنبل)

حسن معاشرت

حضرت طلحہؓ اپنے حسن معاشرت کے باعث بیوی بچوں میں نہایت محبوب تھے، آپؓ اپنے کنبہ میں جس لطف ومحبت کے ساتھ زندگی بسرکرتے تھے، اس کا اندازہ صرف اس سے ہوسکتا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ کی لڑکی ام ابان سے اگرچہ بہت سے معزز اشخاص نے شادی کی درخواست کی، لیکن انہوں نے حضرت طلحہؓ کو سب پر ترجیح دی، لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا میں ان کے اوصاف حمیدہ سے واقف ہوں، وہ گھر آتے ہیں تو ہنستے ہوئے، باہر جاتے ہیں تو مسکراتے ہوئے، کچھ مانگو تو بخل نہیں کرتے اور خاموش رہو تو مانگنے کا انتظار نہیں کرتے، اگر کوئی کام کر دو شکرگزار ہوتے ہیں اور خطا ہو جائے تو معاف کر دیتے ہیں۔

اولاد وازواج

حضرت طلحہؓ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کی تھیں، جن سے متعدد اولاد ہوئی۔


ای پیپر