باری کب آئے گی

19 اگست 2018

طارق محمود چوہدری

انتقال اقتدار کے بیشتر مراحل مکمل ہو چکے۔اب باقی جو کچھ ہے وہ یا تو ماضی گم گشتہ ہے یا اسرارکے دبیز پردوں میں لپٹا ہوا مستقبل۔اب اس اکتر سال سے ٹامک ٹوئیاں مارتے ملک کی لیڈر شپ پر منحصر ہے کہ وہ ماضی کی لکیر کو پیٹ پیٹ کر خیالی سانپ کو کچل دینے کا کریڈٹ لینے کیلئے کو شاں رہتے ہیں۔یا افہام و تہفیم،قومی یکجہتی کو اپناماٹو بنا کر مستقبل کی نقشہ گری کرتی ہے۔فیصلہ قائدین کے ہاتھوں میں ہے۔مستقبل کی کلین سلیٹ ان کے ہاتھوں میں ہے۔ امتحان ہے تدبر کا۔
نئے وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اکثریتی ووٹ حاصل کر کے وزارت عظمیٰ کا میچ جیت لیا۔یہ جیت اتنے کم مارجن سے ملی ہے کہ جشن منانے والوں کو اس کی باریکی کا فی الحال اندازہ نہیں۔وزارت عظمیٰ کیلئے مطلوبہ ووٹ ووں کی تعداد 173 ہونی چاہیے۔عمران خان نے کل176 ووٹ حاصل کیے۔اپنی ہی جماعت کے نوارد رکن قومی اسمبلی قاسم سوری سے بھی کم۔ جنہوں نے ڈپٹی سپیکر کے الیکشن کیلئے 183 ووٹ حاصل کیے۔گویا قومی اسمبلی میں سات اتحادی ارکان ایسے تھے جنہوں نے اتحاد کے فارمولے پر عمل در آمد نہ کیا۔ اور وزارت عظمیٰ کیلئے سرکاری امیدوار کو ووٹ نہ ڈالا۔ حکومتی پارٹی کو معلوم کرنا ہو گا کہ وہ خاموش مخالفین کون ہیں۔ قومی اسمبلی کی حالیہ تاریخ میں اس سے قبل کم ترین مارجن سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ جناب ظفر اللہ جمالی نے حاصل کیا تھا۔وہ ایک ووٹ سے بمشکل جیتے تھے۔ بہر حال فتح تو فتح ہوتی ہے۔ اب ایسا بھی نہیں کہ کم مارجن سے جیت کی وجہ سے عمران خان کو تختہ مشق بنا لیا جائے۔ آج جیت کا مارجن کم ہے تو کل زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔کوشش البتہ یہ کرنا ہو گی کہ اکثریت کہیں اقلیت میں نہ بدل جائے۔جس طرح جمالی صاحب کو حکومت سازی کیلئے در در سوالی بن کر صدا لگانی پڑی تھی۔ اسی طرح عمران خان کے مقرب خاص جہانگیر ترین کو گلی گلی،نگر نگر کوچہ گردی کرنی پڑی۔تب کہیں جا کر گو ہر مقصود حاص? ہوا۔ آنے والے دنوں میں وزیر اعظم عمران خان کو وزارت نا راضگی و مشیر دستک اندازی پر بھی زیرک شخصیات کو نامزد کرنا پڑے گا۔ متذکرہ شخصیات کو جہاز کا مالک اور دستر خوان وسیع ہونا چاہیے۔کیونکہ اتحادی کی جیبوں میں مطالبات کی طویل فہرست ہے۔ایسی فہرستوں کا کوئی آخری سرا نہیں ہوتا۔مسلم لیگ (ق)،ایم کیو ایم،بلوچستان عوامی پارٹی،بلوچستان نیشنل پار ٹی،جی ڈی اے کے ساتھ ہر روز صبح اٹھ کر الفت و محبت کا یک طرفہ پیمان کرنا ہو گا۔ کیونکہ یہ ایسے اتحادی ہیں جو صرف لینا جانتے ہیں۔دینے کے موقع پر یہ منہ پھیر لیا کرتے ہیں۔ حکومتیں ایسے ہی چلتی ہیں۔ہر روز نیا پاکستان تعمیر کرنا ہو تا ہے۔ عمران خان کی نہایت کم مارجن سے جیت آنے والے دنوں کی مشکلات کا پتہ دے رہی ہیں۔وزرت عظمیٰ کا الیکشن جیتنے کے فوری بعد اپوزیشن کے پہلے بھر پوراحتجاج نے بتا دیا کہ ایوان میں بیٹھے گھاگ سیاستدان حکومتی پارٹی کو اپنی مرضی کی پچ پر کھلانے کا فن جانتے ہیں۔ شدید ترین ہنگامہ آرائی میں اول تو عمران خان کو خطاب نہیں کرنا چاہیے تھا۔اجلاس سے پہلے ان کے مشیران خاص کو اپوزیشن کے عزائم کو بھانپ کر ان کا توڑ کر نا چاہیے تھا۔لیکن وہ تو عمران خان کے ارد گرد حاضری لگوا کر نمبر ٹانکنے میں مصروف تھا۔ حکومتی پارٹی کا کام نعرہ بازی نہیں بلکہ ایشوز کو حل کرنا ہے۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی حکومت کے حق میں سودمند نہیں ہواکرتی۔جبکہ اپوزیشن کے فائدے میں جاتی ہے۔ گرما گرم ماحول کو کول ڈاؤن کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ وہاں تو یہ عالم تھا کہ کئی سفید ریش پارلیمنٹیرین بھی کالج کے لونڈوں کی طرح بڑھ بڑھ کر اپوزیشن پر یلغار کیے ہوئے تھے۔ اس اپوزیشن کو ساتھ ملائے بغیر موجودہ ایوان بالکل نہیں چل سکتا۔ اپوزیشن نے بہت منظم انداز میں عمران خان کو اشتعال دلایا۔وہ ان کے جھانسے میں آئے اور غیر ضروری خطاب کیا۔جس کو شائد ہی کسی نے پسند کیا ہو۔ منتخب وزیر اعظم اور ان کے ہاتھوں شکست خوردہ شہباز شریف کا جوابی خطاب کوئی تاثر نہ چھوڑ سکا۔ اگر اس ابتدائی اجلاس کا میلہ کسی نے لوٹا ہے تو وہ نوجوان نو آموز بلاول تھا۔جس کا خطاب بالغ نظری،تدبراورتحمل کا آئینہ دار تھا۔ ان کے اس خطاب نے مستقبل کا اشارہ دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں بلاول وہ واحدلیڈر ہے جس کی بات تو جہ سے سنی جائے گی ۔ نانا، ماموں اور والدہ کی قربانی کے با وجود اس کے لہجے میں کوئی تلخی نہ تھی۔ مریم نواز کو چاہیے کہ وہ بلاول بھٹو سے سیکھے۔ مریم نواز کا زہر آلود لہجہ ان کو بہت سے مو ثر حلقوں کیلئے ناقبل قبول بنادے گا۔بلاول بھٹو زرداری کیلئے بڑا لیڈر بننے کی خاطر صرف ایک ایسی تقریر ہی کافی نہیں۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ سیاست اس کی ایک مرتبہ ریورس گیئر لگا کر اسی مقام پر لے جائے گی جہاں وہ 2013 کے الیکشن میں جا پہنچی تھی۔ حالیہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کو تھوڑی سی زیادہ سپیس ملی ہے۔ پنجاب میں ووٹر اس کی بات کو سننے کیلئے تیار ہیں۔ پیپلز پارٹی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپوزیشن کرنا چاہتی ہے یا سند ھ کی حکومت بچانا۔ اس کو یہ بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ اس کی ترجیح قانونی معاملات میں ریلیف ہے یا مستقبل کی سیاست۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس گاڑی کے دو ڈرائیور ہوں وہ جتنا بھی پیٹرول خرچ کر لے کبھی منزل پر نہیں پہنچ پاتی۔ لہٰذا یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ پارٹی کے قائد آصف علی زرداری یا ان کی ہمشیر گا ن ہیں یا نوجوان بلاول۔ان سطور کے لکھے جانے تک صدارتی عہدہ کیلئے زودرنج عارف علوی نامزد ہو چکے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اپوزیشن متحدہ امیدوار لانے میں کامیاب ہوگی یا نہیں۔ آصف زرداری ایک مرتبہ پھر کثر صدارت میں پہنچنے کا سپنا دیکھتے ہیں۔ یہ خواب دیکھا تو جا سکتا ہے اس کی تعبیر مشکل ہے۔ صدارتی الیکشن کا الیکٹورل کالج ایسا ہے کہ طاقتور حلقے غیر جانبدار ہو جائیں تو اپ سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ کیسے ہو گا فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایا ز صادق،خورشید شاہ یا کوئی سینئر سیاستدان سامنے آئے تو ناممکن بتایا جاسکتا ہے۔ کچھ دنوں میں پتہ چل جائے گاکہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ آغازِ سفر ہو چکا۔ اکثر بڑے عہدوں پر تقرری ہو چکی۔ نیا پاستان تشکیل ہو رہا ہے۔ لیکن ابھی تک اس میں پی ٹی آئی نظر نہیں آئی۔ اب تک جو بھی ہے موجودہ یا سابق (ق) لیگیوں کے پاس ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ پی ٹی آئی کی باری کب آئے گی ۔

مزیدخبریں