عمران خان خوش آمدید اور بھارتی رویہ
19 اگست 2018 2018-08-19

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وطن عزیز پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے اور 21رکنی وفاقی کابینہ کی منظوری بھی دے دی ہے۔ ان کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی اور صدر ممنون حسین نے ان سے حلف لیا۔ اس موقع پر نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، اعلیٰ سول و فوجی افسران،1992ء کا ورلڈ کپ جیتنے والے کھلاڑیوں، غیر ملکی سفارت کاروں اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ تقریب میں اتحادی جماعتوں کے سربراہان ، چاروں صوبوں کے نگران وزرائے اعلیٰ اور نومنتخب سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی شریک ہوئے۔ حلف اٹھانے کے بعد عمران خان وزیر اعظم ہاؤس پہنچے جہاں قومی ترانہ کے بعد مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ نومنتخب وزیر اعظم کے چارج سبنھالنے کے بعد حکام کی جانب سے انہیں تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ بعد ازاں سولہ وزراء اور پانچ مشیروں پر مشتمل وفاقی کابینہ کا اعلان کیا گیا۔ کابینہ میں شاہ محمود قریشی خارجہ امور، اسد عمرخزانہ، فواد چوہدری اطلاعات، پرویز خٹک دفاع، شیخ رشید ریلوے، شیریں مزاری انسانی حقوق، شفقت محمود تعلیم، نورالحق مذہبی امور، غلام سرور پٹرولیم اور فروغ نسیم کو قانون و انصاف کی وزارت دی گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے تقریب حلف برداری کا بائیکاٹ کیا اور (ن) لیگ، پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس کے کسی رہنما نے تقریب میں شرکت نہیں کی۔ نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سنیل گواسکراور نوجوت سنگھ سدھوسمیت کئی ہندوستانی کھلاڑیوں اور اداکاروں کو دعوت دی گئی تاہم بھارتی اداروں کی طرف سے صرف سدھو کو پاکستان آنے کی اجازت دی گئی جس پر وہ حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئے اور پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملے ۔ ان کی یہ تصویر ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے نمایاں انداز میں شائع کی۔نوجوت سدھو کے اس جذبہ خیر سگالی پر بھارتی سیاستدانوں اور صحافیوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور زہر اگلتے ہوئے کہا کہ وہ اس پاکستانی فوج کے سربراہ سے گلے مل رہے ہیں جوبھارت کیخلاف جنگ کے میدان میں ہے ۔ بھارتی کرکٹر کیخلاف انتہا پسندوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کئے جارہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کیخلاف ملک و قوم سے غداری کی زبردست پروپیگنڈہ مہم چلائی جارہی ہے۔ اس سے بھارتی سیاستدانوں اور صحافیوں کی گھٹیا ذہنیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کو سعودی عرب، ترکی، ایران اور دیگر ملکوں کی جانب سے مبارکبادیں پیش کی گئی ہیں۔ اسی طرح امریکہ نے بھی انہیں مبارکباد دی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ کابینہ کی تشکیل کے بعد آنے والے دنوں میں وہ جلد اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی کیلئے جائیں گے جہاں سعودی عرب کے اعلیٰ حکام سے بھی ان کی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ سعودی حکام سے ان کی یہ ملاقاتیں اس لحاظ سے اہمیت رکھتی ہیں کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن سلمان نے انہیں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے اور اسلامی ترقیاتی بینک کو بھی برادر اسلامی ملک کی طرف سے گرین سگنل دیتے ہوئے پاکستان کو فوری طور پر 4ارب ڈالر کی خطیر رقم بطور قرض دینے کیلئے کہا گیا ہے۔ نئی حکومت کیلئے اس وقت بہت بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسے اپنی حکومت کے پہلے سال میں 9ارب ڈالر قرض کی مد میں ادا کرنا ہوں گے جبکہ دوسری جانب امریکہ اور اس کی اتحادی قوتوں اور پاکستان کیخلاف ماحول سخت کشیدہ ہے۔ کبھی پاکستانی فوجیوں کی امریکہ میں ٹریننگ پر پابندی لگائی جاتی ہے تو کبھی آئی ایم ایف پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید قرض نہ دے کیونکہ وہ اس سے پیسے لے کر چین کا قرض اتارنا چاہتا ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے پہلے تین ماہ بہت اہم ہوں گے۔ عمران خان نے سادگی اپنانے کی بات کی اور پارلیمنٹ میں وزیراعظم منتخب ہونے کا اعلان کئے جانے پر اپنی تقریر میں کہا ہے کہ وہ پاکستانی قوم سے اتنا فنڈ اکٹھا کریں گے کہ انہیں بیرونی قرضوں کے حصول کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اگر عمران خان واقعی بیرونی قرضے اتارنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ کام اس قدر بڑا ہو گا کہ اگلے پانچ سالوں میں بھی کوئی پارٹی ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ قرضوں کے اس طوق کی وجہ سے پاکستان پر غلامیاں مسلط ہیں اور حکومتیں آزادانہ طور پر اپنی پالیسیاں نہیں بنا سکتیں۔ افسوس اس امر کا ہے کہ سابق حکومت نے قرضوں کا سود ادا کرنے کیلئے مزید قرضے لئے اور پوری نسل کو قرضوں میں جکڑ کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کی کمی اور دشمن قوتوں کی مداخلت جیسے بڑے چیلنجز نئی حکومت کو درپیش ہوں گے۔ بھارت، امریکہ اور دیگر قوتیں پاکستان کو ہر صورت کمزوراور نقصانات سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔ ابھی گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان حلف اٹھا رہے تھے اور دوسری جانب بھارتی فوج کی طرف سے جان بوجھ کر کنٹرول لائن پر فائرنگ کر کے پاکستانی شہری کو شہید کر دیا گیا جس پر بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ بھارتی فورسز کی جانب سے فائرنگ سے ہندوستانی حکومت کے مذموم عزائم کا اظہار ہوتا ہے۔ تحریک انصاف قائد نے منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں جہاں کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا ذکر کیا وہیں بھارت سے مذاکرات اور ہمسایوں کے طور پر ساتھ چلنے کی بات کی لیکن بی جے پی حکومت ان کے حلف اٹھانے کے موقع پر بھی سرحدوں پر دہشت گردی سے باز نہیں آئی۔حقیقت ہے کہ امریکہ اس وقت پوری کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح اس خطہ سے نکلنے کے بعد وہ بھارت کو ہم پر مسلط کر سکے۔اسی منصوبہ بندی کے تحت بھارت نے بڑی تعداد میں اپنی فوج افغانستان میں لاکر بٹھائی ہے اورافغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو میدان جنگ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ نریندر مودی جسے عالمی ایجنڈے کے تحت انتخابات جتوائے گئے ‘ کی کامیابی کے بعد یہ بات طے تھی کہ پاکستان میں تخریب کاری و دہشت گردی بڑھے گی ‘ کنٹرول لائن پر حالات مزید خراب ہوں گے اور بھارت امریکہ کی شہ پر پاکستان کو مشرق و مغرب سے دباؤ میں لانے کی کوشش کرے گا۔ یہ سب باتیں اب درست ثابت ہو رہی ہیں۔پاکستان کی طرف سے بار بار دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے باوجود مودی حکومت دہشت گردی سے باز نہیں آرہی ۔ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے جرأتمندانہ پالیسیاں ترتیب دیکر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور ملک میں اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اگر اس سلسلہ میں کمزور اور نرم رویہ اختیار کیا گیا تو وہ آئندہ بھی پاکستان کو نقصانات سے دوچار کرنے کی سازشوں سے باز نہیں آئیں گے۔ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی بھی اس وقت عروج پر پہنچ چکی ہے۔ عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کشمیریوں کو نئی پاکستانی حکومت سے بہت توقعات وابستہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان مظلوم کشمیری قوم کا اعتماد بحال کرے اور غاصب بھارتی فورسز کی دہشت گردی کا معاملہ تمام بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔ بھارت کیخلاف فدویانہ پالیسی کی بجائے اس کی دہشت گردی کو عالمی سطح پر بے نقاب کر کے ہی آپ اسے دباؤ میں لا سکیں گے اور کشمیر میں ظلم و بربریت کا سلسلہ روکا جاسکتا ہے۔


ای پیپر